زلزلہ متاثرین کے لیے خوش آیند اعلان

ارباب اختیار کو 2005 ء کے ہولناک زلزلے کی یادیں ذہن سے محو نہیں کرنی چاہئیں جب 70 ہزار کے لگ بھگ افراد لقمہ اجل بن گئے


Editorial October 29, 2015
بھارت کے ممتازادیب ، محقق اور نقاد شمس الرحمان فاروقی نے کہا ہے کہ دکھ انسانی صورتحال کا مستقل عنصر ہے جو ہمہ جہت اور ہمہ وقوع ہے، فوٹو : فائل

وزیراعظم نوازشریف نے زلزلے سے متاثرہ علاقوں میں امدادی سرگرمیاں مزید تیز کرنے کی ہدایت دیتے ہوئے کہا ہے کہ ریاست کے تمام وسائل متاثرین کی مدد پر صرف کیے جائیں گے، متاثرین سے دلی ہمدردی ہے، حکومت ان کی مکمل بحالی تک چین سے نہیں بیٹھے گی ، متاثرین کو گھر بنا کر دیں گے ، کوتاہی نہیں ہوگی،وزیر اعلیٰ پرویز خٹک سے مشاورت کے بعد جامع پیکیج کااعلان کیا جائے گا۔ منگل کو شانگلہ میں متاثرہ علاقوں کے دورے کے موقع پر گفتگو کرتے ہوئے وزیراعظم نے ریلیف پیکیج کا وعدہ کیا جو پیداشدہ صورتحال کے پیش نظر متاثرین زلزلہ کے تالیف قلوب اور ان کے اطمینان کے لیے ضروری تھا۔

ارباب اختیار کو 2005 ء کے ہولناک زلزلے کی یادیں ذہن سے محو نہیں کرنی چاہئیں جب 70 ہزار کے لگ بھگ افراد لقمہ اجل بن گئے، ہزاروں زخمیوں کو علاج معالجے اور زندگی کی دیگر سختیوں اور مصائب نے نڈھال کیے رکھا۔ لاکھوں گھر اجڑے ، زلزلے کی تباہ کاریوں کی شدت اپنی جگہ، مگر جو بنیادی شعور اہل اقتدار اور عوام کو حاصل ہوا وہ موسم کی جاری تبدیلیوں کا ہے، روز نئے انکشافات ہو رہے ہیں، دنیا بھر کے ماہرین ارضیات پاکستان کو زلزلوں کی حساس ترین فالٹ لائن پر بتاتے ہیں۔

سائنس دانوں نے خبردار کیا ہے کہ زلزلوں کے بعد گلیشیئر سے بننے والی جھیلیں پھٹنے سے سیلاب آسکتے ہیں، نیپال، پاکستان، بھوٹان اور چین میں گلیشیئرسے بننے والی جھیلیں 40 سے زیادہ بار پھٹ چکی ہیں۔ قراقرم اور کوہ ہمالیہ کے پہاڑی سلسلے میں 50 ہزار کے قریب گلیشیئرز موجود ہیں۔ امریکی جیولوجیکل سروے میں کہا گیا ہے کہ پاکستان فعال اور متحرک زلزلہ زون میں واقع ہے، اور پیر کو آنے والا زلزلہ کوہ ہندوکش سلسلہ میں 210کلومیٹر کی گہرائی میں آیا۔اب یہ ہمارے ماہرین ارضیات کا اہم ٹاسک ہے کہ وہ وطن عزیز کو زلزلوں کی تباہ کاریوں سے پیشگی آگاہ کرنے، شاک پروف مکانات کی لچکدار تعمیرات اور خطرناک زونز میں قدرتی آفات سے بچاؤ اور بقا کے امکانات کے ساتھ زندگی کا تحفظ یقینی بنائیں۔ جاپان نے زلزلہ بیلٹ میں رہتے ہوئے کئی موثر اقدامات کیے ہیں، وزیراعظم کو ان اقدامات کے حوالہ سے ڈزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹیز اور ایرا سمیت سول ڈیفنس اور دیگر اداروں کو متحرک کرنے اور نتیجہ خیز منصوبہ بندی کا پابند بنانے میں بھی پرجوش کردار ادا کرنا چاہیے، پاکستان کے ممتاز ماہر ارضیات ڈاکٹر عبدالرزاق میمن نے کہا کہ آیندہ 10 سے15برسوں میں مزید 7سے8 شدید زلزلے آسکتے ہیں جن سے لاہور، کراچی، اسلام آباد، پشاور، کوئٹہ کو غیر معمولی خطرات لاحق ہوسکتے ہیں۔

وزیراعظم کو زلزلہ متاثرین سے ملاقات کے موقع پر بریفنگ میں بتایا گیا کہ صوبائی حکومت کی طرف سے جاں بحق ہونیوالوں کے لیے تین لاکھ اور زخمیوں کے لیے ایک لاکھ کی امداد کا اعلان کیا گیا ہے جب کہ مکمل طور پر تباہ ہونیوالے گھر کے لیے ایک لاکھ اور جزوی تباہ ہونے والے گھر کے لیے50 ہزار روپے کی امداد دی جائے گی۔ جہاں تک امدادی کاموں اور ملبہ ہٹانے کا تعلق ہے صوبائی حکومت نے وزیراعظم کو آگاہ کیا کہ لینڈ سلائیڈنگ سے بلاک ہونے والی شاہراہیں صاف کردی ہیں جب کہ مقامی انتظامیہ نے فوری طور پر5 سو خیموں، کمبلوں اور راشن کی فراہمی کی درخواست کی ہے جب کہ25 سو خیموں کی ضرورت ہوگی۔ قبل ازیں وزیراعظم نواز شریف نے بیرون ملک کا دورہ مختصر کر کے وطن واپس پہنچتے ہی زلزلہ متاثرین کے لیے امدادی اقدامات کا جائزہ لینے کے لیے گزشتہ روز ہنگامی اجلاس طلب کرلیا۔چیئرمین این ڈی ایم اے اصغر نواز نے وزیراعظم کو این ڈی ایم اے کے نیشنل ایمرجنسی آپریشن سینٹر کی سرگرمیوں کے بارے میں بھی بتایا۔ چیف آف آرمی اسٹاف جنرل راحیل شریف نے وزیراعظم کو زلزلہ زدہ علاقوں میں پاک فوج کے امدادی اقدامات کے بارے میں آگاہ کیا۔

ہولناک زلزلے سے جاں بحق ہونے والوں کی تعداد 251 ہو گئی ہے، متاثرہ علاقوں میں پاک فوج اور دیگر اداروں کا امدادی آپریشن گزشتہ روز بھی جاری رہا۔پاک فوج نے زلزلہ متاثرین کے لیے تیار شدہ کھانے کے ہزاروں پیکٹ،فیملیز کے لیے راشن کے تھیلے، خیمے، کمبل اور ان اشیاء کی تقسیم کے لیے44پوائنٹ قائم کیے ہیں جہاں متاثرین میں یہ امداد تقسیم کی جا رہی ہے۔ سوات میں شیخ زید بن سلطان النہیان اسپتال نے بھی کام شروع کر دیا ہے اور زلزلہ متاثرین کا علاج جاری ہے ، ادھر وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے چیئرمین نادرا کو ہدایت کی ہے کہ خیبر پختونخوا میں زلزلہ سے متاثرہ افراد کو ڈپلیکیٹ شناختی کارڈ مفت فراہم کیے جائیں۔ ڈپلیکیٹ کارڈ بنانے کے لیے کسی قسم کی دستاویز طلب نہیں کی جائیں گی ۔

بھارت کے ممتازادیب ، محقق اور نقاد شمس الرحمان فاروقی نے کہا ہے کہ دکھ انسانی صورتحال کا مستقل عنصر ہے جو ہمہ جہت اور ہمہ وقوع ہے۔ واقعہ یہ ہے کہ زلزلہ سے پہنچنے والا دکھ ماضی کے دکھوں کا تسلسل ہی تو ہے، زلزلہ متاثرین کا دکھ شیئر کرنے کے لیے حکومت کے پاس وقت اور وسائل بے پناہ ہیں، یہ خوش آیند اعلان بلا تاخیر حقیقت میں بدل جانا چاہیے کہ حکومت اپنے وسائل سے متاثرین کی مدد کرے گی، غیر ملکی امداد نہیں مانگے گی۔