پاک افغان تعلقات اعتماد سازی ضروری ہے

افغانستان سے پاکستانی حدود میں قائم سیکیورٹی چیک پوسٹ پر دہشت گردوںکی فائرنگ سے 7 ایف سی اہلکار شہید ہوگئے۔


Editorial October 29, 2015
پاکستان اپنی کوششوں میں مخلص ہے، افغان حکومت کو بھی اپنا رویہ تبدیل کرنا ہوگا۔ فوٹو: فائل

افغانستان سے پاکستانی حدود میں قائم سیکیورٹی چیک پوسٹ پر دہشت گردوںکی فائرنگ سے 7 ایف سی اہلکار شہید ہوگئے۔ آئی ایس پی آر کی جانب سے جاری بیان کے مطابق جنوبی وزیرستان میں انگوراڈہ کے شمال مشرق میں پاک افغان سرحد پر قائم فرنٹیئرکور کی چیک پوسٹ پر فائرنگ کا واقعہ منگل کی صبح پیش آیا۔ دہشتگردوں نے چیک پوسٹ کو بھاری ہتھیاروں سے نشانہ بنایا۔ علاوہ ازیں مہمند ایجنسی میں بھی لیویز چیک پوسٹ پر دہشت گردوں نے حملہ کردیا، جس میں ایک اہلکار شہید ہوگیا۔ پاکستان ایک عشرے سے زائد عرصے سے دہشت گردوں کے خلاف برسر پیکار ہے، ملک میں آپریشن ضرب عضب جاری ہے اور پاکستان دیگر پڑوسی ممالک میں بھی امن کا خواہاں ہے، افغانستان سے بارہا کشیدہ روابط کے باوجود پاکستان نے ہمیشہ برادرانہ رویہ اختیار کیے رکھا لیکن افغانستان کے چیف ایگزیکٹو عبداﷲ عبداﷲ کا یہ بیان قابل مذمت ہے کہ وزیراعظم نواز شریف کے طالبان کے خلاف کارروائی سے انکار کے بعد افغان امن عمل میں پاکستان کے کردار پر شک ہے۔

افغان وزرا کونسل سے خطاب کرتے ہوئے عبداﷲ عبداﷲ نے کہا کہ اگر پاکستان عسکریت پسندی کے خلاف نہیں لڑ سکتا تو ہم بھی اس پر اعتماد نہیں کرسکتے کہ وہ عسکریت پسندوں کی مدد نہیں کرے گا، ہمیں یقین نہیں ہے کہ وہ امن کے لیے طالبان کی حوصلہ افزائی کریں گے۔ پاکستان کی قیام امن کے لیے کوششیں پوری دنیا پر واضح ہیں، دہشت گردی کے خلاف اس جنگ میں پاکستان نے بے انتہا نقصان اٹھایا ہے لیکن پھر بھی ثابت قدمی کے ساتھ شرپسندوں کے خلاف ڈٹا ہوا ہے۔ دراصل عبداﷲ عبداﷲ کا رویہ بھی کرزئی اور مودی جیسا ہے، جو اپنے علاقے کو کنٹرول نہیں کرپاتے اور دہشت گردی کے تمام تر الزامات پاکستان پر دھر دیتے ہیں۔ قندوز پاکستان سے بہت دور علاقہ ہے، وہاں پھیلی انارکی خود افغان حکومت کی نااہلی ہے لیکن وہاں ہونے والے واقعات کا الزام بھی پاکستان پر تھوپتے ہیں۔ جب کہ پاکستان نے افغان حکومت سے کئی بار طالبان لیڈرز کو حوالے کرنے کا کہا، لیکن فضل اﷲ سمیت دیگر شدت پسند افغانستان میں آزادانہ گھوم رہے ہیں۔

افغان حکومت کو سمجھنا ہوگا کہ تعلقات کی بہتری کے لیے اعتماد سازی نہایت ضروری ہے۔ پاکستان اپنی کوششوں میں مخلص ہے، افغان حکومت کو بھی اپنا رویہ تبدیل کرنا ہوگا۔ دہشت گرد کسی کے مددگار نہیں ہوتے اور وہ سب کو نقصان پہنچانے اور صرف اپنے مفادات کے تحت کام کرنے پر یقین رکھتے ہیں، اس لیے افغان حکومت کو اپنے ملک میں سرگرم مطلوبہ طالبان کو پاکستان کے حوالے کرنا چاہیے۔ دہشت گرد عالمی امن کے دشمن ہیں، تمام گروپوں کے خلاف مل کر لڑنے کی ضرورت ہے۔