پنجاب وسندھ میں بلدیاتی انتخابات ٹیسٹ کیس

زندہ قوموں کی یہ نشانی ہوتی ہے کہ بڑی سے بڑی آزمائش کی گھڑی میں وہ ثابت قدم رہتی ہیں


Editorial October 29, 2015
سیاسی جماعتوں پر فرض ہے کہ جمہوری سوچ اپنائیں تب ہی عوام کے مسائل بلدیاتی نظام کے ذریعے حل ہونگے اور جمہوراور ریاست کے درمیان ناتا مضبوط ہوگا۔ فوٹو: فائل

ISLAMABAD: زندہ قوموں کی یہ نشانی ہوتی ہے کہ بڑی سے بڑی آزمائش کی گھڑی میں وہ ثابت قدم رہتی ہیں،دو دن قبل آنیوالے زلزلے نے قوم کو ایک آزمائش سے دوچارکیا لیکن اس مشکل گھڑی میں قوم ثابت قدم رہی، وہیں ایک خبر جو تازہ ہوا کا جھونکا ثابت ہوئی ہے کہ الیکشن کمیشن نے کہا ہے کہ پنجاب اور سندھ میں بلدیاتی انتخابات شیڈول کے مطابق ہونگے۔ یقیناً وطن عزیز میں جمہوریت کی جڑیں جب ہی مضبوط ہوں گی جب بلدیاتی نظام موثرطریقے سے عوامی مسائل کے حل کے لیے اپنا کردار ادا کرے گا، مقامی حکومتوں کے الیکشن سیاسی جماعتوں کے لیے خاص طور پر ایک ٹیسٹ کیس کا درجہ رکھتے ہیں، سیاسی جماعتوں کو ایک بار پھر عوام سے ووٹ حاصل کرنے کے لیے جدوجہد کرنی پڑے گی،اپنی کار کردگی اورترقیاقی ایجنڈے کی بنا پر، آسان لفظوں میں ہم یوں کہہ سکتے ہیں کہ بلدیاتی الیکشن، جنرل الیکشن سے بڑا چیلنج ہیں، سیاسی جماعتوں کے لیے ۔عوامی نمایندوں کا اصل امتحان تو اب شروع ہوگا جس میں انھیں ہر قیمت پر نہ صرف اپنی مقبولیت کو برقرار رکھنا ہوگا بلکہ منتخب ہونے کے بعد عوامی مسائل کو بھی ترجیحی بنیادوں پر حل کرنا ہوگا۔

الیکشن کمیشن نے میڈیا کو ریٹرننگ اور پریزائیڈنگ افسران کے جاری کردہ مصدقہ انتخابی نتائج ہی نشرکرنے کا پابند کیا ہے، تمام سیاسی جماعتوں اور امیدواروں کو مساوی کوریج دینے اورکسی بھی امیدوار کی ذاتی زندگی کے حوالے سے مواد پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا پر شایع کرنے سے پرہیزکرنے کی ہدایات کے ساتھ ساتھ، انتخابی عمل میں غفلت برتنے پر انتخابی عملے کو سزا دینے کا اعلان بھی الیکشن کمیشن کے نوٹیفیکیشن میں کیا گیا ہے، ہم سندھ وپنجاب کی صوبائی حکومتوں سمیت وفاقی حکومت سے توقع رکھتے ہیں کہ وہ بلدیاتی انتخابات کو انتہائی شفاف اورغیرجانبدارانہ طورپر منعقد کروائیں گی، جمہوریت کا فروغ بلدیاتی نظام کی بحالی میں ہی مضمر ہے، گوکہ کسی بھی جمہوری حکومت نے بلدیاتی انتخابات خوش دلی سے منعقد نہیں کروائے بلکہ با امر مجبوری ہی یہ عمل کیا ہےایڈی، مسئلہ تو اختیارات اور فنڈز کا ہے جو اراکین اسمبلی نچلی سطح پر منتقل کرنا نہیں چاہتے۔ سیاسی جماعتوں پر فرض ہے کہ جمہوری سوچ اپنائیں تب ہی عوام کے مسائل بلدیاتی نظام کے ذریعے حل ہونگے اور جمہوراور ریاست کے درمیان ناتا مضبوط ہوگا۔