امریکا افغان حکومت کی ناکامیوں پر غور کرے

پاکستان دہشت گردی کے حوالے سے درپیش چیلنج سے تمام تر ریاستی وسائل بروئے کار لاتے ہوئے نمٹ رہا ہے۔


Editorial October 30, 2015
پاکستان دہشت گردی کے حوالے سے درپیش چیلنج سے تمام تر ریاستی وسائل بروئے کار لاتے ہوئے نمٹ رہا ہے۔ فوٹو: فائل

پاکستان دہشت گردی کے حوالے سے درپیش چیلنج سے تمام تر ریاستی وسائل بروئے کار لاتے ہوئے نمٹ رہا ہے۔ شمالی وزیرستان میں شروع کیا گیا آپریشن ضرب عضب اب اپنی کامیابی کے آخری مراحل میں داخل ہو چکا ہے۔پاک افغان خطے میں دہشت گردی کے خلاف اس جنگ میں پاکستان،امریکا اور افغان حکومت براہ راست شریک ہیں۔

وائٹ ہاؤس واشنگٹن میں بدھ کو اپنی ہفتہ وار بریفنگ میں امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان نے یہ وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کو دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کے لیے ڈکٹیشن نہیں دے رہے تاہم دہشتگردی کے خلاف اس سے بھرپور تعاون کر رہے ہیں، دہشت گردی کے خلاف کارروائی میں بہت سے چیلنجز باقی ہیں۔

پاکستان نے بھرپور آپریشن سے اندرون ملک دہشت گردی کے عفریت پر کافی حد تک قابو پا لیا ہے، اب سرحد پار افغانستان سے دہشت گردوں کی کارروائیاں اس کے لیے ایک بڑے چیلنج کے طور پر سامنے آئی ہیں، وہ اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے بھرپور کوشش کر رہا ہے مگر اس کی یہ کوشش اس وقت ہی بار آور ہو سکتی ہے جب امریکا اور افغان حکومت اس کے ساتھ بھرپور تعاون کریں مگر ان کی جانب سے وہ تعاون سامنے نہیں آیا جو حالات کا متقاضی ہے۔

جہاں تک افغان طالبان سے مذاکرات کا معاملہ ہے پاکستان نے اس مسئلے میں اپنا بھرپور کردار ادا کیا ہے مگر اس سارے سلسلے میں افغان حکومت اور امریکا کا اپنا کردار بہت کمزور نظر آ رہا ہے۔ پاکستان نے اپنا اثرورسوخ استعمال کرتے ہوئے مری اور اسلام آباد میں افغان طالبان اور افغان حکومت کو ایک میز پر اکٹھا کیا تاکہ افغانستان میں جاری کشیدگی اور شورش کا خاتمہ ہو اور وہاں امن قائم ہو لیکن جب یہ مذاکرات کا سلسلہ شروع ہوا تو عین اس دوران ملا عمر کی موت کی خبر منظرعام پر لائی گئی جس سے مذاکرات کا سلسلہ ٹوٹ گیا اس کے بعد ابھی تک یہ دوبارہ جڑ نہیں سکا۔

آخر وہ کون سی قوتیں تھیں جنہوں نے مذاکرات کے اس عمل کو سبوتاژ کرنے کے لیے سازشوں کے جال بنے، امریکا اور افغان حکومت کو اس کی تہہ تک پہنچنا چاہیے۔ حقیقت یہ ہے کہ امریکا اور افغان حکومت کے طالبان سمیت تمام گروپوں سے رابطے موجود ہیں، قطر میں افغان طالبان کا دفتر بھی امریکا ہی نے بنوایا تھا۔ تمام تر قریبی رابطوں کے باوجود امریکا اور افغان حکومت افغان طالبان سے از خود مذاکرات کا سلسلہ شروع نہیں کر رہے جب کہ وہ ایسا کر سکتے ہیں۔

حیرت انگیز امر ہے کہ جب افغان طالبان کی جانب سے کوئی کارروائی ہوتی ہے تو افغان حکومت اپنی نا اہلی کو تسلیم کرنے کے بجائے پاکستان پر مداخلت کے الزامات تھوپنا شروع کر دیتی ہے۔ قندوز میں طالبان نے کارروائی کی تو افغان حکومت نے پاکستان پر طالبان کی پشت پناہی کے الزامات لگانے شروع کر دیے جب کہ پاکستان نے اس کو مسترد کرتے ہوئے واضح کر دیا کہ وہ کسی گروہ کی حمایت نہیں کر رہا بلکہ حقیقت یہ ہے کہ وہ خطے میں امن چاہتا ہے۔

بعض تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ افغان حکومت میں موجود اشرف غنی اور عبداللہ عبداللہ کے گروپوں کے درمیان شدید اختلافات موجود ہیں اور یہ پہلے دن سے ہی چلے آ رہے ہیں، عبداللہ عبداللہ جس کی حمایت شمالی اتحاد کے لوگ کر رہے ہیں، کی یہ کوشش ہے کہ اشرف غنی کی حکومت کو کسی نہ کسی طرح ناکام بنا دیا جائے لہٰذا قیاس آرائی ہے کہ قندوز میں ہونے والی کارروائی میں شمالی اتحاد کے لوگ بھی پس منظر میں شریک تھے کیونکہ قندوز کا گورنر شمالی اتحاد سے تعلق رکھتا تھا، شمالی اتحاد کا گروپ ایک جانب اشرف غنی کے طالبان سے رابطے میں رکاوٹیں پیدا کر رہا ہے تو دوسری جانب وہ امریکا کی اشرف غنی کے ساتھ موجود حمایت کو بھی کمزور کرنے میں کامیاب ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔

شمالی اتحاد گروپ کے بھارت کے ساتھ گہرے تعلقات ہیں جس کے باعث وہ پاکستان کے خلاف پروپیگنڈے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتا، یہی وجہ ہے کہ اپنی حکومت بچانے کے لیے شمالی اتحاد کے دباؤ پر افغان صدر اشرف غنی نے پاکستان کے خلاف ہرزہ سرائی شروع کر دی ہے۔ امریکا کو عبداللہ عبداللہ اور اشرف غنی گروپ کے باہمی اختلافات کو مدنظر رکھتے ہوئے ان کے کسی ایسے پروپیگنڈے سے متاثر نہیں ہونا چاہیے جو وہ پاکستان کے خلاف کرتے رہتے ہیں۔

وزیراعظم میاں نواز شریف کے مشیر برائے امور خارجہ سرتاج عزیز نے ایک نجی ٹی وی چینل کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان کا افغان طالبان پر کچھ اثرورسوخ ضرور ہے تاہم ان پر کوئی کنٹرول نہیں، یہ افغان حکومت پر منحصر ہے کہ وہ مصالحتی عمل کو جاری رکھنا چاہتی ہے یا نہیں، طالبان کے ساتھ رابطے کے حوالے سے افغان حکومت نے ابھی تک پاکستان کے ساتھ کوئی رابطہ نہیں کیا جب کہ پاکستان کا کام مذاکرات کے حوالے سے سہولت کار کا ہے انھیں بحال کرنا افغان حکومت کی ذمے داری ہے۔

موجودہ حالات کے تناظر میں یوں معلوم ہوتا ہے کہ افغان حکومت کے اندر بعض ایسے عناصر موجود ہیں جو افغان طالبان کے ساتھ مفاہمتی عمل کے حامی نہیں اور وہ افغانستان کی موجودہ انتشار کی کیفیت کو برقرار رکھنا چاہتے ہیں۔ اگر امریکا افغانستان میں حقیقی معنوں میں امن چاہتا ہے تو اسے افغان حکومت کی ناکامیوں پر غور کرتے ہوئے اس پر دباؤ ڈالنا چاہیے کہ وہ اپنی ناکامیوں کو تسلیم کرے اور پاکستان پر الزامات کے بجائے افغان طالبان کے ساتھ مذاکرات کے لیے سنجیدگی دکھائے' پاکستان اس حوالے سے تعاون کے لیے تیار ہے۔