مزدوروں کسانوں کی نمایندگی
عوام کے بعض مسائل اس قدر اہم ہوتے ہیں کہ ان پر بار بار لکھنے کی ضرورت ہوتی ہے
KARACHI:
عوام کے بعض مسائل اس قدر اہم ہوتے ہیں کہ ان پر بار بار لکھنے کی ضرورت ہوتی ہے، ایسے ہی مسائل میں ایک مسئلہ قانون ساز اداروں میں مزدوروں اور کسانوں کی نمایندگی کا ہے، اس حوالے سے قانون ساز اداروں میں اکثریتی طبقات کی نمایندگی کا جائزہ لینا ضروری ہے ہمارے ملک میں ملک کی عمر کا نصف حصہ اگر فوجی حکمرانی میں گزرا ہے تو لگ بھگ نصف حصہ جمہوریت بھی رہی ہے، فوجی حکمرانی میں چونکہ قانون ساز اداروں پر آمروں کا قبضہ رہتا ہے، لہٰذا ان ادوار میں پارلیمنٹ میں عوامی نمایندگی کا سوال ہی بیکار ہوتا ہے۔
البتہ جمہوری دور میں اگر قانون ساز ادارے عوامی نمایندگی سے محروم رہیں تو نہ صرف اس کے اسباب کا پتہ لگانا ضروری ہوتا ہے بلکہ اس نا انصافی کے خلاف عوام اور خواص کو متوجہ کرنا بھی ضروری ہوتا ہے، موجودہ دور کا تسلسل 2008ء سے جاری ہے، یعنی ہمارے ملک میں 2008ء سے جمہوریت موجود ہے۔
ان برسوں کے دوران جمہوریت کا ایک معجزہ بھی رونما ہوا پاکستان کی سیاسی تاریخ میں، پی پی پی حکومت کو اپنی آئینی مدت پوری کرنے کا موقع بھی ملا، اس سیاسی معجزے پر جمہوری حلقوں میں فخر کیا جاتا ہے لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ پاکستان کی 68 سالہ تاریخ میں صرف ایک حکومت کا اپنی آئینی مدت پوری کرنا قابل فخر ہے یا...؟ ہم نے جیسا کہ عرض کیا فوجی آمروں کے دور میں پارلیمنٹ میں عوامی نمایندوں کی غیر موجودگی پر افسوس کرنا یا اعتراض کرنا تو بیکار محض ہے لیکن جمہوری ادوار میں اگر قانون ساز ادارے عوام کی حقیقی نمایندگی سے محروم رہتے ہیں تو یہ نہ صرف قابل افسوس بات ہے بلکہ اس کا گہرائی سے جائزہ لینے کی ضرورت بھی ناگزیر ہوتی ہے کیوں کہ جمہوریت نام ہی عوام کی نمایندہ حکومتوں کا ہے، عوام کی نمایندگی کا مطلب عوام کی حقیقی نمایندگی ہے نیابتی نمایندگی نہیں۔
پاکستان میں پہلی جمہوری حکومت بھٹو مرحوم کی تھی۔ اس رائے میں کوئی اختلاف نہیں کہ بھٹو وہ پہلے سیاست دان ہیں جنھوں نے عوام کو بڑے پیمانے پر متحرک کیا جس کا مقصد عوام میں سیاسی شعور اجاگر کرنا تھا یہ بھٹو کا ایسا کارنامہ ہے جس کا اعتراض دوست دشمن سب کرتے ہیں، لیکن اس بڑی تحریک کی چھوٹی غلطی یہ تھی کہ عوام کو ایک باضابطہ منشور پر متحرک کرنے کے بجائے بھٹو کی شخصیت کے گرد متحرک کیا گیا۔
اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ جیسے جیسے بھٹو حکومت عوام کے مسائل سے دور ہوتی گئی ویسے ویسے عوام بھٹو سے دور ہوتے گئے۔ بھٹو نے روٹی، کپڑا اور مکان کے ساتھ ساتھ مزدور، کسان راج کا بھی نعرہ لگایا تھا، جس کی بڑی اہمیت بھی تھی اور اس نعرے میں عوام اور خواص کے لیے ایک بڑی کشش بھی تھی لیکن اسے اتفاق کہیں یا دانستہ غلطی کہ مزدور کسان راج کے لیے جن عوامل کی ضرورت ہوتی ہے وہ عوامل بھٹو حکومت میں موجود نہ تھے۔
مزدور کسان راج کے قیام میں پہلی ضرورت یہ ہوتی ہے کہ قانون ساز اداروں میں ان طبقات کے حقیقی نمایندے موجود ہوں تا کہ وہ اپنے طبقاتی کردار کا مظاہرہ کرتے ہوئے قانون ساز اداروں میں عوام کے حقیقی نمایندوں کو لانے کی ایماندارانہ کوشش کر سکیں، لیکن ہوا یہ کہ اس ملک کی وڈیرہ شاہی تیزی کے ساتھ پیپلز پارٹی پر حاوی ہو گئی اس بد نمائی کا نتیجہ یہ نکلا کہ بھٹو کے ساتھ جو لوگ مزدور کسان راج کے حوالے سے سنجیدہ اور مخلص تھے وہ مایوس ہو گئے اور آہستہ آہستہ پیپلز پارٹی سے الگ ہوتے گئے ان مخلص لوگوں میں ڈاکٹر مبشر حسن، معراج محمد خان، معراج خالد سمیت کئی رہنما ایسے تھے جن کا پیپلز پارٹی کے قیام اور اس کے منشور بنانے میں بڑا ہاتھ تھا۔ ان مخلص نمایندوں کی علیحدگی کے بعد پیپلز پارٹی وڈیروں، جاگیرداروں کی پارٹی بن گئی جس کا مزدور کسان راج سے کوئی تعلق نہ تھا۔
ایک ایسی پارٹی جس میں عوام کے حقیقی نمایندوں کے بجائے زمینی اور صنعتی اشرافیہ کے نمایندے اکثریت میں ہوں وہ مزدور کسان راج تو بھلا کیا لا سکتی، پارلیمنٹ میں عوام کے حقیقی نمایندوں کے آنے کا راستہ ہی بند کر دیتی ہے، بھٹو مرحوم کے بعد 2013ء تک جتنی جمہوری حکومتیں تشریف لائیں، ان میں سے کوئی ایک بھی ایسی حکومت نہ تھی جس نے قانون ساز اداروں میں مزدوروں، کسانوں کو نمایندگی دی ہو، اگر جمہوریت کا مطلب اکثریت کی حکومت دوستی ہے تو پھر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ساڑھے چار کروڑ مزدوروں اور آبادی کے 60 فی صد حصے کسانوں کی قانون ساز اداروں میں کتنی نمایندگی ہے؟
اس سوال کا جواب بڑا مایوس کن ہے کہ ہمارے قانون ساز اداروں میں کسی جمہوری دور میں بھی مزدوروں، کسانوں کے نمایندے سرے سے موجود ہی نہ رہے۔ مزدوروں کی نمایندگی ٹریڈ یونینز کرتی ہیں اور کسانوں کی نمایندگی کسان ہاری تنظیمیں کرتی ہیں۔ اگر ہماری کل آبادی کا 70 فی صد سے زیادہ حصہ مزدوروں، کسانوں پر مشتمل ہے تو کیا کوئی ایسا قانون ساز ادارہ ہماری جمہوری تاریخ میں گزرا ہے جس میں 70 فی صد نمایندوں کا تعلق ٹریڈ یونینز اور ہاری کسان تنظیموں سے رہا ہو؟
جمہوریت کا راگ الاپنا الگ بات ہے جمہوریت کی شرائط پر پورا اترنا الگ بات ہے۔ پاکستانی جمہوریت میں عوام کی شرکت کے راستے میں سب سے بڑی رکاوٹ اس کا انتخابی نظام ہے، جس میں وہی شخص داخل ہو سکتا ہے جس کی جیب یا بینک میں کروڑوں کا سرمایہ ہو اور مزدور اور کسان کا شمار تو ان طبقات میں ہوتا ہے جن کی ساری زندگی دو وقت کی روٹی کے حصول میں گزر جاتی ہے کیا یہ غریب کبھی کروڑوں کے مالک ہو سکتے ہیں؟ اگر نہیں ہو سکتے تو پھر یہ طبقات قانون ساز اداروں میں کیسے پہنچ سکیں گے؟ یہ سوال ان لوگوں سے کیا جا سکتا ہے جو ہماری جمہوریت کے اسرار و رموز کو سمجھے بغیر اس کی حمایت کرتے ہیں کہ آمریت سے لولی لنگڑی جمہوریت بہتر ہوتی ہے جن کا صدیوں سے انتظار کیا جا رہا ہے۔