دو ملکوں کی بیٹی

گیتا کی 13 سال بعد اپنے وطن واپسی کے بعد ایک پاکستانی لڑکے رمضان کی بھی وطن واپسی کے امکانات پیدا ہو گئے ہیں


Dr Tauseef Ahmed Khan October 31, 2015
[email protected]

گیتا 13 سال عبدالستار ایدھی کی پناہ میں رہنے کے بعد اپنے وطن بھارت پہنچ گئی۔ بھارتی وزیر اعظم مودی نے کہا 'ایدھی کی اس خدمت پر خراج تحسین پیش کرنے کے لیے ان کے پاس الفاظ نہیں ہیں۔' بھارتی صدر پرناب مکھرجی نے گیتا کو دونوں ممالک کی بیٹی قرار دیا۔ عبدالستار ایدھی کی اہلیہ بلقیس ایدھی نے اس موقعے پر کہا کہ دونوں ممالک نے اب تک سامراج کے عزائم کو تسکین دینے کے لیے ہتھیاروں کی خریداری پر اربوں روپے خرچ کیے مگر اب سب کچھ دوستی اور اچھے تعلقات کے لیے ہونا چاہیے۔

ایدھی ٹرسٹ کے متحرک کارکن انوار کاظمی کا کہنا ہے کہ ایدھی ٹرسٹ اس سے قبل بھی ایک بھارتی لڑکے کو پناہ دے چکا ہے، جو غلطی سے سرحد پار کر کے پاکستان میں داخل ہو گیا تھا۔

گیتا کی 13 سال بعد اپنے وطن واپسی کے بعد ایک پاکستانی لڑکے رمضان کی بھی وطن واپسی کے امکانات پیدا ہو گئے ہیں، جو غلطی سے سرحد پار کر کے بھارت کی ریاست بھوپال چلا گیا تھا۔ کراچی میں مقیم اس کی ماں اپنے بیٹے سے ملنے کی منتظر ہے۔ گیتا کی کہانی یوں تو برصغیر کے بہت سے باشندوں کی طرح ہے جو کسی اتفاقی صورتحال کا شکار ہو کر سرحد پار کر گئے پھر انھیں دونوں ممالک میں خفیہ ایجنسیوں نے پکڑ لیا۔ ان لوگوں پر سیف ہاؤسز میں تشدد کیا جاتا ہے، انھیں کسی خفیہ ایجنسی کا جاسوس ہونے کا اقرار کرنا پڑتا ہے۔

ان افراد کو حکام دور دراز جیلوں کے جاسوس وارڈوں میں بند کر کے بھول جاتے ہیں اور ان کے والدین اور رشتے داروں کا پتہ نہیں چلتا تو برسوں یہ جیلوں میں بند سڑ جاتے ہیں۔ ان افراد کا زیادہ تر تعلق غریب طبقات سے ہوتا ہے۔ دونوں ممالک میں غریبوں کی داد رسی کی روایت زیادہ مستحکم نہیں۔ اسی وجہ سے یہ معاملات اخبارات کی خبروں کی زینت بنتے ہیں یا انسانی حقوق کی تنظیمیں کچھ دنوں تک خط و کتابت کرتی ہیں۔ ان کی سالانہ رپورٹوں میں ان افراد کا ذکر ہوتا ہے مگر پھر بھی کچھ نہیں ہوتا۔

گیتا ایک گونگی بہری لڑکی ہے۔ وہ 10 سال کی عمر میں نامعلوم صورتحال کی بناء پر سرحد پار کر کے لاہور آ گئی۔ گیتا کے پاس نہ پاسپورٹ تھا اور نہ کوئی اور دستاویز۔ وہ اشاروں سے کچھ سمجھانے کی کوشش کرتی جو کسی کی سمجھ میں نہ آتا۔ یہ سب کچھ اس کے بھارتی جاسوس ہونے کے لیے کافی تھا مگر گیتا کی خوش نصیبی یہ ہوئی کہ رینجرز اہلکاروں نے اس کو اپنی تحویل میں لے لیا۔

ان اہلکاروں نے اس بچی کی معصومیت کو محسوس کرتے ہوئے اس کو پوچھ گچھ کے لیے کسی سیف ہاؤس یا پھر جیل منتقل کرنے کے بجائے ایدھی فاؤنڈیشن لاہور کے سینٹر منتقل کر دیا اور پھر گیتا کراچی کے ایدھی فاؤنڈیشن کے مرکزی دفتر پہنچ گئی۔ یہاں عبدالستار ایدھی، بلقیس ایدھی، فیصل ایدھی اور سماجی کارکن انوار کاظمی موجود تھے۔ گیتا کوایک صاف ستھرا کمرہ ملا جب بلقیس کو علم ہوا کہ گیتا کا تعلق ہندو مذہب سے ہے تو اس کے کمرے میں مندر بنایا گیا، اس کی غذا کا خیال رکھا گیا۔ فیصل ایدھی اور انوار کاظمی نے گیتا کے والدین کا پتہ چلانے کے لیے کوششیں کیں۔ اخبارات میں خبریں شایع ہوئیں، ٹی وی اینکرز نے گیتا کو اپنے پروگراموں میں بلایا اور انٹرویو کیے۔

جب بھارتی اداکار سلمان خان کی فلم ''بجرنگی بھائی جان'' ریلیز ہوئی تو اس فلم کی کہانی کچھ گیتا سے ملتی تھی۔ اس فلم میں سلمان خان ایک پاکستانی لڑکی کو اس کے گھر تک پہنچانے کے لیے لاہور جاتا ہے۔ یوں ایک دفعہ پھر گیتا کا معاملہ ٹی وی چینلز کے پروگراموں کا حصہ بن گیا۔ پاکستان میں بھارتی ہائی کمشنر نے گیتا کے معاملے میں دلچسپی لی۔ بھارتی وزیر خارجہ سشما سوراج نے گیتا کے معاملے میں خاصی سنجیدگی کا مظاہرہ کیا۔ گیتا کا عارضی پاسپورٹ تیار ہوا اور پاکستان کی وزارت داخلہ نے ویزے کا انتظام کیا۔

پاکستان اور بھارت کے درمیان تعلقات معمول پر نہ ہونے کی بناء پر انسانی المیے جنم لیتے رہے ہیں۔ ان میں غلطی سے سرحد پار کرنے والے افراد کے معاملے کے علاوہ ماہی گیروں کا سمندری سرحد پار کر کے دوسرے ملک کی حدود میں داخل ہونے کا معاملہ بھی ہے۔ بحیرہ عرب گڈانی سے گوادر تک پاکستانی علاقے سے گزرتا ہے۔

سندھ میں ٹھٹھہ اور بدین کے نزدیک سر کریک کا علاقہ شروع ہونے پر بھارتی سمندری حدود شروع ہو جاتی ہیں ۔ 1947ء سے قبل کراچی سے گجرات تک کے علاقے میں آباد ماہی گیر بغیر کسی رکاوٹ کے ماہی گیری کرتے تھے مگر اگست 1947ء کو پاکستان اور بھارت کے آزاد ہونے کے بعد سمندر کی تقسیم ہو گئی مگر سمندر میں باڑ نہیں لگائی جا سکتی۔ اس بناء پر ماہی گیروں کے لیے اپنی ملک کی سرحد ختم ہونے کا اندازہ کرنا خاصا مشکل ہوتا ہے۔

جب تک پاکستان اور بھارت میں جنگیں نہیں ہوئی تھیں تو دونوں ممالک کی بحری فوجیں اس علاقے میں متحرک نہیں تھیں مگر 1971ء کی جنگ کے بعد دونوں ممالک کی بحری افواج نے سیکیورٹی کے نقطہ نظر سے اس علاقے کی نگرانی شروع کر دی۔ یہی وجہ ہے کہ ہر سال دونوں ممالک کے سیکڑوں ماہی گیروں کو گرفتار کر لیا جاتا ہے۔

انھیں کبھی مہینوں، کبھی سالوں جیلوں میں اذیت ناک ماحول سے گزرنا پڑتا ہے۔ بعض دفعہ ماہی گیروں پر جاسوسی کا الزام لگایا جاتا ہے، ان کی کشتیاں ضبط کر لی جاتی ہیں۔

گزشتہ سال پاکستانی ماہی گیروں کے ایک گروپ کو بھارتی میری ٹائم سیکیورٹی ایجنسی نے گرفتار کیا ان میں ایک باپ اور بیٹا بھی شامل تھے' شروع میں باپ بیٹے کو ایک سال ایک ساتھ رکھا گیا پھر بیٹے کو بچوں کی جیل بھجوا دیا گیا۔

جب بھارتی حکومت نے ماہی گیروں کے اس گروپ کو رہا کرنے کا فیصلہ کیا تو بیٹے کے شناختی کاغذات بعض نامعلوم وجوہات کی بناء پر مکمل نہیں تھے یوں باپ اکیلا اپنے گھر آ گیا۔ انسانی حقوق اور ماہی گیروں کی بہبود کے لیے کام کرنے والی تنظیم فشر فوک فورم کی کوششوں سے کئی ماہ بعد اس بچے کو رہائی ملی۔ اب بھی کئی سو ماہی گیر دونوں ممالک کی جیلوں میں بند ہیں۔ جب دونوں ممالک کے تعلقات بہتر ہوتے ہیں تو ان ماہی گیروں کے ساتھ اچھا سلوک ہوتا ہے ورنہ یہ لوگ دونوں ممالک کی جیلوں میں بدترین اذیت کا شکار ہوتے ہیں۔

بھارتی وزیر اعظم نے ایدھی فاؤنڈیشن کے لیے ایک کروڑ روپے عطیہ دے کر ایک اچھی روایت شروع کی تھی مگر شاید نظر نہ آنے والے دباؤ کی بناء پر فیصل ایدھی یہ رقم لینے کو تیار نہیں مگر ایدھی فاؤنڈیشن کا ایک دفتر نئی دلی میں بھی قائم ہونا چاہیے۔ گیتا کو تو ایدھی ہوم میں پناہ مل گئی۔

اب رمضان کا معاملہ بھی حل ہو جائے گا مگر سب کچھ بہتر نہیں ہو گا۔ گیتا کا معاملہ دونوں ممالک کے درمیان بہتر تعلقات کا سنگ میل ہے۔ مسائل کے حل کے لیے جامع نظام بننا چاہیے اور اس پر سختی سے عمل ہو۔ جامع نظام کے لیے دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات کا عمل شروع ہونا چاہیے۔ گیتا کے مستقبل کا فیصلہ تو بھارتی حکومت کرے گی مگر گیتا کے اس سفر سے دونوں طرف کے مذہبی انتہا پسندوں کے عزائم پر اوس پڑ گئی ہے۔