پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ

سردیوں میں مٹی کے تیل کی زیادہ کھپت کی وجہ سے وزیر اعظم کی ہدایت پر مٹی کے تیل کی قیمت میں اضافہ نہیں کیا گیا۔


Editorial November 02, 2015
حکومت کو چاہیے کہ وہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کو سالانہ بنیادوں پر طے کرے۔ اس طریقے سے ملکی معیشت مستحکم ہو گی. فوٹو:فائل

FAISALABAD: وفاقی حکومت نے یکم نومبر سے پٹرول کی قیمت میں اڑھائی روپے جب کہ ہائی سپیڈ ڈیزل پونے دو روپے فی لیٹر اضافہ کرنے کا اعلان کیا ہے جس کے بعد پٹرول کی قیمت 73.76 روپے سے بڑھ کر 76.26 روپے فی لٹر ہو گئی جب کہ ڈیزل کی قیمت 82.04 سے بڑھ کر 83.79 روپے ہو گئی ہے۔ تاہم ایچ او بی سی اور مٹی کے تیل سمیت دیگر پٹرولیم مصنوعات کی موجودہ قیمتوں میں اوگرا کی سفارش کے باوجود کوئی رد و بدل نہیں کیا گیا اور موجودہ قیمتیں ہی برقرار رکھی گئی ہیں۔

وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے پٹرولیم مصنوعات کی نئی قیمتوں کا اعلان کرتے ہوئے بتایا کہ اوگرا کی جانب سے بھجوائی جانیوالی سمری میں پٹرول 5.28، ہائی سپیڈ ڈیزل 3.34 مہنگا کرنے کی تجویز دی گئی تھی جب کہ ایچ او بی سی، لائٹ ڈیزل اور مٹی کے تیل قیمتوں میں بھی اضافہ تجویز کیا تھا جسے مسترد کر دیا گیا اور پٹرول کی قیمت میں 5.28 روپے کے بجائے 2.50 روپے فی لیٹر اضافہ کیا گیا، جب کہ ہائی سپیڈ ڈیزل کی قیمت 3.34 روپے کے بجائے 1.75 روپے فی لیٹر اضافہ کیا گیا۔ تاہم ایچ او بی سی، مٹی کے تیل اور لائٹ ڈیزل کی پرانی قیمتیں برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

وزیر خزانہ نے کہا کہ پٹرولیم کی صرف دو مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کر کے عوام پر کم سے کم بوجھ ڈالا گیا ہے۔ تین مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ نہ کرنے سے حکومت 3 ارب 40 کروڑ وپے کا نقصان برداشت کرے گی۔ سردیوں میں مٹی کے تیل کی زیادہ کھپت کی وجہ سے وزیر اعظم کی ہدایت پر مٹی کے تیل کی قیمت میں اضافہ نہیں کیا گیا۔ وزیر اعظم کی طرف سے سردیوں کے موسم میں غریب عوام سے ہمدردی کے اظہار کے طور پر مٹی کے تیل کی قیمت میں اضافہ نہ کرنے کی ہدایت قابل ستائش ہے جس سے توقع کی جا سکتی ہے پوری سردیاں مٹی کے تیل کی قیمت میں کوئی اضافہ نہیں کیا جائے گا۔ بہرحال حقیقت یہ ہے کہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مزید کمی کی جا سکتی ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کو سالانہ بنیادوں پر طے کرے۔ اس طریقے سے ملکی معیشت مستحکم ہو گی اور ملک میں کاروباری سرگرمیاں ہموار رفتار سے جاری رہیں گی۔