مغربی ملکوں کی متضاد سیاست

اس میں کوئی شک نہیں کہ دنیا تضادات سے بھری پڑی ہے


Zaheer Akhter Bedari November 02, 2015
[email protected]

RAWALPINDI: جب دنیا مفکروں، دانشوروں، عالموں، فلسفیوں سے خالی ہو جاتی ہے یا مفکر، دانشور، عالم اور فلسفی زبان اور آنکھ بند کر کے بیٹھ جاتے ہیں تو جہلاء کی بن آتی ہے اور وہ اپنی عقل و فہم کے مطابق اوٹ پٹانگ حرکتیں کرنے لگ جاتے ہیں، ایک اخباری اطلاع کے مطابق امریکا اور اس کے اتحادی ملکوں نے بلیسٹک اور کروز میزائل حملے روکنے کا کامیاب تجربہ کر لیا ہے، امریکا نے اسکاٹ لینڈ میں اپنے اتحادی ممالک آسٹریلیا، کینیڈا، جرمنی، اٹلی اور نیدر لینڈز کے ساتھ مل کر فضا میں بلیسٹک اور کروز میزائل حملوں کو روکنے کا کامیاب تجربہ کیا ہے، امریکا اور اس کے اتحادی ملکوں کے پاس پہلے ہی سے میزائل شکن نظام موجود ہے اور یہ نظام اتحادی حکمران طبقہ فروخت بھی کرتا رہا ہے اور اپنے دوستوں کو بھی دیتا رہا ہے۔

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ امریکا اور اس کے عاقل و بالغ اتحادی کس دشمن کے خلاف اس دفاعی نظام کا تجربہ کر رہے ہیں، سرد جنگ کے خاتمے اور روس کی ٹوٹ پھوٹ کے بعد دنیا میں ایسا کوئی حریف نظر نہیں آتا جو بیلسٹک اور کروز میزائلوں سے امریکا اور اس کے اتحادیوں پر حملہ کرے، بلاشبہ چین ایک ایسا ملک ہے جس کے پاس میزائلوں کے ذخائر موجود ہیں لیکن چین کی ساری توجہ اقتصادی ترقی پر لگی ہوئی ہے وہ سستی اشیائے صرف کی تیاری میں اس قدر آگے آ گیا ہے کہ مغربی ملکوں کی منڈیاں سستی چینی اشیا سے بھری پڑی ہیں اور اس کی معیشت اس قدر مضبوط ہے کہ وہ ترقیاتی منصوبوں میں مغربی ملکوں کو اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری فراہم کر رہا ہے، برطانیہ میں وہ ایک تازہ معاہدے کے تحت 61 ارب روپے کی سرمایہ کاری کرنے جا رہا ہے اور دو عالمی جنگوں اور کوریا ویت نام کی مسلط کی ہوئی جنگوں کے بعد چین کی خارجہ پالیسی ''جیو اور جینے دو'' کے پر امن فلسفے پر مشتمل رہی ہے، اس پس منظر میں کیا چین بغیر کسی معقول وجہ کے کسی مغربی ملک پر بلیسٹک یا کروز میزائلوں سے حملہ کر سکتا ہے؟

مغربی ملکوں سمیت دنیا بھر کے ملکوں سے چین کے تجارتی تعلقات ہیں اور چین اس تجارت سے اربوں کھربوں ڈالر کما رہا ہے، اس کے علاوہ چین مغرب سمیت دنیا کے کئی ملکوں میں کھربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کر چکا ہے اور کر رہا ہے کیا چینی قیادت اس قدر احمق ہے کہ وہ کسی معقول وجہ کے بغیر اپنے کھربوں کے سرمائے کو خطرے میں ڈال دے گی؟ ایسا ممکن نہیں لیکن مسئلہ یہ ہے کہ امریکا اور اس کے اتحادیوں کو جن تھنک ٹینکوں اور تھنکروں کی مشاورت حاصل ہوتی ہے وہ ایک تو مفروضوں پر اپنی رائے تشکیل دیتے ہیں یا پھر ہتھیاروں کے سوداگروں کے مفادات کے پس منظر میں مغربی ملکوں کے لائق حکمرانوں کو اپنے قیمتی مشورے پیش کرتے ہیں۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ دنیا تضادات سے بھری پڑی ہے لیکن جنگوں کے مسلسل تجربات نے حکمرانوں کو یہ سبق ضرور دیا ہے کہ وہ جنگوں کے نقصانات کو محسوس کرنے لگے ہیں، امریکی حکمرانوں کو یہ احساس ہو رہا ہے کہ عراق اور افغانستان کی بے مقصد جنگوں پر انھوں نے جو کھربوں ڈالر ضایع کیے ہیں وہ ان کی سابقہ حکومتوں کی احمقانہ غلطی تھی جس کا وہ دوبارہ اعادہ نہیں کرنا چاہتے۔

اصل میں اس وقت جن ملکوں کو جنگوں کا سامنا ہے ان میں پاکستان، بھارت، فلسطین اور اسرائیل سرفہرست ہیں کشمیر اور فلسطین دو ایسے واضع مسائل ہیں جن میں جارح طاقتوں کو ڈھونڈنے کی ضرورت نہیں وہ سامنے کھڑی ہیں، بلیسٹک اور کروز میزائلوں سے دفاع کے تجربے کرنے والے احمق حکمرانوں کو اس حقیقت کا علم نہیں کہ یہ دونوں مسئلے بڑی بلکہ ایٹمی جنگوں کا سبب بن سکتے ہیں لیکن مغربی ملک ان تنازعوں میں فریق نہیں کہ انھیں بلیسٹک اور کروز میزائلوں کے حملوں کا خطرہ ہو۔ اگر امریکا اور اس کے اتحادی کشمیر اور فلسطین کے مسائل کو انصاف کی بنیاد پر حل کرنا چاہیں تو وہ ایسا کر سکے ہیں، لیکن افسوس کہ انھیں امن کے فوائد اور جنگوں کے نقصانات سے آگاہ کرنے والے مفکر، دانشور، عالم اور فلسفیوں کی مشاورت حاصل نہیں۔ جنگ بازوں کے مشورے ضرور حاصل ہیں۔

مغربی ملک مذہبی انتہا پسندوں اور دہشت گردوں کو دنیا کے مستقبل کے لیے بہت بڑا خطرہ سمجھتے ہیں اور کئی جگہوں پر ان طاقتوں کے خلاف جنگ بھی کر رہے ہیں لیکن ان ملکوں کی پالیسیوں میں اتنا تضاد ہے کہ اسے سامنے رکھا جائے تو ان کی پالیسیاں ایک مسخرہ پن لگتی ہیں۔ یمن اور شام کے مسائل کو لے لیں یہاں انتہا پسندوں کے عمل دخل کا عالم یہ ہے کہ دونوں ملکوں میں ہر روز دہشت گرد حملوں میں سیکڑوں بے گناہ مارے جا رہے ہیں لیکن روس اور امریکا اس مشترکہ خطرے کے خلاف کھڑے ہونے کے بجائے ایک دوسرے کے سامنے کھڑے نظر آ رہے ہیں۔

کینیڈا کے نو منتخب وزیر اعظم نے اقتدار سنبھالتے ہی اعلان کیا ہے کہ ان کا ملک داعش کے خلاف ہونے والی کارروائیوں کا حصہ نہیں بنے گا، نو منتخب وزیر اعظم کینیڈا مسٹر جسٹن ٹروڈو نے یہ بھی فرمایا ہے کہ وہ عراق اور شام سے پہلی فرصت میں اپنی فوجیں اور جنگی طیارے واپس بلالیں گے۔ عراق اور شام سے کینیڈین فوجوں اور جنگی جہازوں کو واپس بلا لینا بلاشبہ ایک مثبت فیصلہ ہے لیکن مذہبی انتہا پسندوں کے خلاف ہونے والی کارروائیوں کا حصہ نہ بننے کے اعلان کا مقصد کیا ہے؟

دنیا میں ہونے والی جنگوں میں شرکت کا مشورہ کوئی مفکر، کوئی عالم، کوئی دانشور نہیں دے سکتا لیکن دنیا کے مستقبل پر تلوار کی طرح لٹکتے ہوئے خطرے سے نمٹنے کا مشورہ ہر انسان دوست دانشور، مفکر اور فلسفی ضرور دے گا کیوں کہ جو طاقتیں ہزاروں سال کے ارتقائی سفر کے بعد تشکیل پانے والی تہذیب کے خاتمے پر تلی ہوئی ہیں ان سے لا تعلقی کا اعلان دنیا کے مستقبل کو خطرے میں ڈالنے کے علاوہ کیا ہو سکتا ہے اور یہ سب اوٹ پٹانگ سیاست اس لیے ہو رہی ہے کہ پالیسی سازی کا کام دنیا کے امن پسند مفکرین دانشوروں کے مشوروں کا محتاج نہیں رہا۔

مقبول خبریں