منتخب بلدیاتی نمایندوں کا امتحان

پنجاب اور سندھ میں بلدیاتی انتخابات کے انعقاد سے جمہوری نظام کا بنیادی مرحلہ پایہ تکمیل کو پہنچا ہے۔


Editorial November 03, 2015
لاہور کے بلدیاتی انتخابات میں مبینہ دھاندلی کے الزامات کے بعد مختلف مقامات پر احتجاجی مظاہرے ہوئے جس میں مظاہرین نے دوبارہ الیکشن کرانے کا مطالبہ کیا۔ فوٹو:فائل

ہفتے کو پنجاب کے 12 اور سندھ کے 8 اضلاع میں پہلے مرحلے کے ابتدائی بلدیاتی انتخابات کے غیر حتمی اور غیر سرکاری نتائج کے مطابق پنجاب میں ن لیگ نے1195 نشستیں جب کہ سندھ میں پیپلز پارٹی نے 789 نشستیں جیت کر اپنی مقبولیت ثابت کر دی۔ پنجاب میں کل 2696 اور سندھ میں 1070نشستوں پر بلدیاتی الیکشن ہوئے۔ پنجاب میں مسلم لیگ ن پہلے، آزاد امیدوار 1065 نشستیں لے کر دوسرے، تحریک انصاف 287 کے ساتھ تیسرے نمبر پر رہی، جب کہ پیپلز پارٹی کو47، ق لیگ 44، جماعت اسلامی اور عوامی تحریک کو 2,2نشستیں ملیں۔ اس طرح مذہبی اور سیاسی جماعتیں انتخابی دوڑ میں سب سے پیچھے رہیں۔

سندھ میں مسلم لیگ فنکشنل نے 72 اور آزاد امیدواروں نے 174 نشستیں جیتیں۔ اس طرح اس بلدیاتی الیکشن میں تحریک انصاف پنجاب میں حکمران جماعت کے مقابل بڑا معرکہ سر نہ کر سکی جس کی اس سے توقع کی جا رہی تھی۔لاہور میں مسلم لیگ ن نے بلدیہ عظمیٰ کی ڈھائی سو سے زائد نشستیں جیت کر کلین سویپ کیا ہے۔

دونوں صوبوں میں آزاد امیدوار ایک بڑی قوت کے طور پر سامنے آئے ہیں جو اب بلدیاتی اداروں کی میئر شپ اور ضلع کونسلوں کی چیئرمین شپ کے لیے جوڑ توڑ اور صف بندی میں اہم کردار ادا کریں گے۔ بعض اطلاعات کے مطابق اس سلسلے میں جوڑ توڑ کا عمل شروع بھی ہو گیا اور میئر شپ اور چیئرمین شپ کی خواہش رکھنے والے امیدواروں نے رابطوں کا عمل تیز کر دیا ہے۔ الیکشن کمیشن کے مطابق بلدیاتی الیکشن کے دوسرے مرحلے کے لیے پولنگ 19 نومبر اور تیسرے مرحلے کے لیے 5 دسمبر کو ہو گی۔ پنجاب اور سندھ میں بلدیاتی انتخابات کے انعقاد سے جمہوری نظام کا بنیادی مرحلہ پایہ تکمیل کو پہنچا ہے۔

اس طرح پنجاب میں مسلم لیگ ن اور سندھ میں پیپلز پارٹی اوپری سطح سے نچلی سطح تک اقتدار کی بلاشرکت غیرے مالک بن گئی ہیں۔ اب دونوں جماعتوں کے پاس یہ کہنے کا جواز باقی نہیں رہا کہ عوامی فلاح کے ترقیاتی کاموں کی انجام دہی کی راہ میں رکاوٹیں پیدا کی جا رہی ہیں اور انھیں کام کرنے نہیں دیا جا رہا۔ دونوں پارٹیوں کے سامنے میدان صاف ہے اور راہ میں کوئی رکاوٹ بھی نہیں لہٰذا اب وقت آ گیا ہے کہ وہ عوام سے کیے گئے وعدوں کو پایہ تکمیل تک پہنچائیں تاکہ جمہوری عمل حقیقی معنوں میں مضبوط ہو سکے۔

سیاستدانوں کی جانب سے ایک عرصے سے بلدیاتی انتخابات کے انعقاد کا مطالبہ کیا جا رہا تھا تاکہ گراس روٹ لیول پر عوامی مسائل حل کیے جا سکیں اب ان انتخابات کے انعقاد سے جمہوری نظام کا بنیادی مرحلہ مکمل ہوا ہے جس کے بعد منتخب نمایندوں پر یہ بھاری ذمے داری آن پڑی ہے کہ وہ عوامی مسائل کے حل کے لیے اپنی تمام تر صلاحیتیں بروئے کار لائیں۔

ان بلدیاتی انتخابات کے دوران بعض مقامات پر لڑائی جھگڑے کے ناخوشگوار واقعات بھی پیش آئے سندھ کے ضلع خیرپور میں پیپلز پارٹی اور فنکشنل لیگ کے کارکنوںمیں فائرنگ سے 12 افراد جب کہ ننکانہ صاحب میں مسلم لیگ ن کے کارکنوں سے تصادم میں پی ٹی آئی کے دو کارکن اور فیصل آباد میں ہوائی فائرنگ سے ایک شخص جاں بحق ہو گیا، فیصل آباد میں پی ٹی آئی کارکن کی ہلاکت پر وزیر مملکت عابد شیر علی اور لیگی ایم پی اے طاہر جمیل سمیت آٹھ نامزد اور 25 نا معلوم ملزموں کے خلاف قتل کا مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔

لاہور کے بلدیاتی انتخابات میں مبینہ دھاندلی کے الزامات کے بعد مختلف مقامات پر احتجاجی مظاہرے ہوئے جس میں مظاہرین نے دوبارہ الیکشن کرانے کا مطالبہ کیا۔ فافن کے مطابق بلدیاتی الیکشن ماضی کے مقابلے میں بہتر رہا تاہم 2013ء والی بے ضابطگیاں سامنے آئیں جن میں ووٹ کی رازداری کا خاتمہ' پولنگ اسٹیشنز کے اندر کنویسنگ اور سیکیورٹی اہلکاروں کی موجودگی کا مشاہدہ کیا گیا۔ اب بلدیاتی اداروں کی میئر شپ اور ضلع کونسلروں کی چیئرمین شپ کے لیے شروع ہونے والی جوڑ توڑ کی سیاست میں اس بات کا خیال رکھا جائے کہ انھی لوگوں کو ان اعلیٰ عہدوں پر لایا جائے جو حقیقی معنوں میں عوامی فلاح و بہبود کا جذبہ رکھتے ہیں ایسا نہ ہو کہ ایسے الزامات سننے میں آئیں کہ جوڑ توڑ کی اس سیاست میں خریدوفروخت کا شرمناک کھیل کھیلا گیا۔

گلی محلے کی سطح پر صفائی، اسٹریٹ لائٹس سمیت دیگر بہت سے مسائل ہیں جن کے حل کے وعدے پر سیاستدانوں نے ووٹ حاصل کیے ہیں اب ان پر یہ بھاری ذمے داری عائد ہوتی ہے کہ وہ پوری ایمانداری اور جانفشانی سے ان عوامی مسائل کے حل پر توجہ دیں۔ بلدیاتی اداروں کے اختیارات کے حوالے سے بھی بحث ہو رہی ہے۔ پنجاب میں مختلف اتھارٹیز کے قیام کے بعد بلدیاتی اداروں کے اختیارات میں کمی آئی ہے، اب دیکھنا یہ ہے کہ بلدیاتی ادارے عوام کے اعتماد پر پورا اترتے ہیں یا نہیں۔ اگر بلدیاتی اداروں کے پاس مناسب اختیارات نہیں ہوں گے تو ان کی افادیت یقینی طور پر کم ہو جائے گی، اب بلدیاتی اداروں میں منتخب ارکان کا امتحان شروع ہو گیا ہے۔