مینڈیٹ کے تقاضے کب پورے ہوں گے

مہذب دنیا کاکوئی ملک عدلیہ کی آزادی اورفعال عدالتی نظام کےساتھ ساتھ قانون کی حکمرانی کےجدید تصور کے بغیر نہیں چل سکتا


Editorial November 05, 2015
۔ پاکستان میں چھ عشروں سے زائد عرصہ گزرنے کے باوجود عام آدمی سستے عدل وانصاف سے محروم ہے۔ فوٹو : پی آئی ڈی

چیف جسٹس آف پاکستان انور ظہیر جمالی نے کہا ہے کہ ملک میں بلا روک ٹوک بدعنوانی اور عوامی حقوق کی نفی جاری ہے، نظم و نسق کمزور ہو تو عدلیہ کو مداخلت کرنا پڑتی ہے، ہم کسی فرد کے نہیں بلکہ قانون کے تابع ہیں، ملک کا مستقبل عدلیہ کی آزادی اور قانون کی بالادستی میں ہے۔

منتخب نمایندے عوام کو جوابدہ ہیں، ہم مینڈیٹ کے تقاضے پورے کرنے میں ناکام رہے، پارلیمنٹ کرپشن کو روکنے کے لیے مداخلت کرے، اسی فیصد تنازعات کا تصفیہ جرگے اور دیگر نظام کے ذریعے کیا جا رہا ہے، ہمیں قوانین پر عملدرآمد کے سلسلے میں بحران کا سامنا ہے۔ گزشتہ روز چیئرمین سینیٹ کی دعوت پر سینیٹ کے پورے ایوان پر مشتمل کمیٹی سے خصوصی خطاب کے دوران چیف جسٹس نے کہا قانون کی حکمرانی کے بغیر پائیدار ترقی کا خواب شرمندہ تعبیر نہیں ہو سکتا۔

عدالت عظمیٰ کے چیف جسٹس کے تاریخ میں پہلی بار سینیٹ سے خطاب نے اپنی معنویت، درد مندی کے احساسات اور تلقین و نصیحت کے تناظر میں سوچ و فکر کے کئی بند دریچے وا کردیے ہیں، یہ ''محو نالۂ جرس کارواں '' رہنے والے منتخب اراکین اور بے سمت قوم کے لیے بانگ درا ہے ۔

شعری اصطلاح میں بات تقریر کی لذت تک محدود نہیں بلکہ ان فکر انگیزارشادات کے ذریعے چیف جسٹس نے اہل اقتدار، ریاستی اداروں کے ارباب اختیار، سیاست دانوں سمیت سول سوسائٹی اور محرومیوں کے شکار عوام پر امور مملکت و حکومت کے اب تک کے طویل سفر کی حقیقت بیان کردی ہے اور بتا دیا کہ قوم آئین و قانون کے احترام اور اس پر عملدرآمد کے کس فیصلہ اور نازک دوراہے پر کھڑی ہے اور اس ملک میں آئین و قانون کی بالادستی کا منظر نامہ کیسا ہے۔

خطاب امید افزا ہونے کے ساتھ ساتھ دلگداز اور چشم کشا بھی ہے، چیف جسٹس کے ارشادات کے غالب حصے کی روح اس تلقین پر استوار تھی کہ ملک کا مستقبل آزاد عدلیہ اور قانون کی بالادستی میں ہے۔ لہٰذا ضرورت اس امر کی ہے کہ اہل سیاست اپنے گریبانوں میں بھی جھانکیں ، اپنی کوتاہیاں دور کریں ۔ زمینی اور ریاستی و حکومتی حقائق کا جائزہ لیتے ہوئے جب ہم قومی اسمبلی اور سینیٹ سمیت وفاقی و صوبائی حکومتوں کی کارکردگی اور ادارہ جاتی سطح پر قانون کی حکمرانی کے لیے اقدامات کا جائزہ لیتے ہیں توسخت مایوسی ہوتی ہے، کیونکہ جن عوامی نمایندوں کا بنیادی کام بحران و مسائل سے دوچارعوام کے لیے قانون سازی کرنا ہے ۔

شومئی قسمت کہ ان کی گہری دلچسپی اپنے لیے پرکشش مراعات، استحقاق، کوٹے ، ٹھیکے ، غیر ملکی دورے اور ترقیاتی فنڈز کے حصول میں ہے، اس رجحان سے قومی و مقامی اداروں کو استحکام نصیب نہیں ہوا، مقامی حکومتوں کی کارکردگی شدید متاثر ہوتی رہی جب کہ بلدیاتی نظام سے مستقل گریز دراصل بے حساب ترقیاتی فنڈز اور اختیارات کی ہوس سے عبارت ہے، یہیں سے خرابی کی ابتدا ہوئی۔ اس لیے ضرورت اب خود احتسابی کی ہے، اراکین پارلیمنٹ اپنی آئینی اور قانونی ذمے داری سے مسلسل گریزاں ہیں۔

چیئرمین سینیٹ رضا ربانی نے چیف جسٹس کا ایوان میں خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی پارلیمانی تاریخ میں پہلی بار چیف جسٹس پارلیمان میں آکر اظہار خیال کر رہے ہیں۔ چیف جسٹس کی پارلیمان میں آمد سے جمہوریت کو تقویت ملے گی۔ سستے انصاف کی فراہمی کا نظام وضع کرنے کے لیے چیف جسٹس کی رہنمائی چاہتے ہیں۔ پاکستان اپنی سیاسی تاریخ کے نازک دور سے گزر رہا ہے۔ اداروں کے مابین ڈائیلاگ اور بات چیت سے جمہوریت کو تقویت حاصل ہوگی اور قوم ترقی کی جانب سفر کریگی اور جمہوریت کی جڑیں مضبوط ہوں گی۔

چیف جسٹس نے بجا طور پر کہا کہ بدعنوانی کا کلچر لاقانونیت کے فروغ کی وجہ بنتا ہے، آئین کے تحت ریاستی ڈھانچے میں عوام کو اختیارات کا منبع قرار دیا گیا ہے، عوام اپنے اختیارات پارلیمنٹ کو تفویض کرتے ہیں اس طرح پارلیمنٹ اور ریاستی ڈھانچے عوام کو جوابدہ ہیں۔

چیف جسٹس نے اگر مینڈیٹ کے تقاضے پورے نہ کرنے کا گلہ کیا ہے تو اس جانب توجہ دینے کی ضرورت ہے، بدقسمتی سے قانون میں ابہام کی روایت نے عوام کو انصاف تک رسائی سے محروم رکھا ہے، ملک جاگیردارانہ کلچر اور طبقاتی مفادات پر استوار طرز سیاست کا اسیر ہے اس لیے پارلیمنٹ ایسے قوانین کی تنسیخ اور ابہام و سقم دور کرے تاکہ ججز کو فیصلہ کرنے اور کسی قانون کی تشریح میں کوئی الجھن نہ ہو۔

انصاف کے حصول کی تمنا بلاشبہ عالمگیر ہے۔ مہذب دنیا کا کوئی ملک عدلیہ کی آزادی اور فعال عدالتی نظام کے ساتھ ساتھ قانون کی حکمرانی کے جدید تصور کے بغیر نہیں چل سکتا۔ پاکستان میں چھ عشروں سے زائد عرصہ گزرنے کے باوجود عام آدمی سستے عدل وانصاف سے محروم ہے۔ معاشرہ انصاف کو ترستا ہو تو وہاں کی جمہوریت ڈھکوسلہ ثابت ہوگی۔

10 فروری2011 ء کو کینیڈا کی چیف جسٹس بیورلے میک لیکلن نے اپنے حکمرانوں کو خبردار کیا تھا کہ متوسط طبقہ کو نظام انصاف سے نکال باہر کردیا گیا ہے اور انصاف تک رسائی صرف امیروں کا استحقاق رہ گیا ہے۔ امید کی جانی چاہیے کہ حکمران آئین و قانون کی حکمرانی ، جمہوری عمل میں شفافیت، کرپشن کے خاتمہ اور انصاف کی فراہمی کے لیے اپنے منصف اعلیٰ کے فکر انگیز ویک اپ کال پر بیداری کا ثبوت دیں گے۔