جو نہ میجر ہے اور نہ بختیار

ہم ’’جا کر‘‘ تو جناب پرویز خٹک کو میجر صاحب کا سندیسہ نہیں پہنچا سکتے ہیں


Saad Ulllah Jaan Baraq November 05, 2015
[email protected]

KARACHI: میجر صاحب کو جناب پرویز خٹک سے بڑی شکایتیں ہیں، ان کا کہنا ہے کہ کوئی خٹک صاحب سے جا کر کہے کہ

تو مجھے بھول گیا ہو تو پتہ بتلاؤں
کبھی فتراک میں تیرے کوئی ''میجر'' بھی تھا

ہم ''جا کر'' تو جناب پرویز خٹک کو میجر صاحب کا سندیسہ نہیں پہنچا سکتے ہیں کیونکہ ہمارے ''پر'' ایسے مقامات پر جا کر بری طرح جل جاتے ہیں لیکن کالم کے ذریعے تو میجر صاحب کی اشک شوئی کر سکتے ہیں سو وہی کر رہے ہیں کیونکہ میجر صاحب کو دیکھ کر ہمیں اپنا آپ یاد آیا کیونکہ ہم بھی ''دوستوں'' کے بھولنے اور پہچاننے کے گھائل ہیں اور ایک گھائل کا دل دوسرے گھائل کو دیکھ کر لازماً پسیج جاتا ہے بلکہ پشتو میں ایک کہاوت ہے کہ بیوہ کی تسکین دوسری بیوہ کے ساتھ مل بیٹھنے پر ہی ہوتی ہے لیکن ہم نے میجر صاحب کو پہلے ہی بتا دیا ہے کہ

غالب تیرا پیغام سنا دیں گے ہم ان کو
وہ سن کے ''بلالیں'' یہ اجارہ نہیں کرتے

ارے ہاں یہ بتانا تو ہم بھول گئے کہ ہم نے میجر صاحب کے نام کے ساتھ نہ (ر)) لکھا ہے اور نہ حاضر سروس ۔۔۔ وہ اس لیے کہ میجر صاحب موصوف نہ حاضر سروس میجر ہیں اور نہ (ر) ہیں بلکہ ان کا کسی سروس یا فورس سے کوئی تعلق ہی نہیں ہے۔ یہ دراصل گاؤں محلے کی طرف سے ملا ہوا اعزازی خطاب ہے، اصلی میجر بننے کے لیے نہ وہ ناپ تول پر پورا اتر سکتے ہیں اور نہ ہی ذہنی لحاظ سے وہ اس قسم کی نوکری پسند کرتے ہیں بلکہ نہ ایسی نوکری ان کو سوٹ کرتی ہے اور نہ ہی وہ خود سوٹ کرتے ہیں کیونکہ آزد طبع انسان ہے۔

وہ ایک علی محمد کا واقعہ یاد آیا۔ علی محمد ایک قبائلی تھا اور خاصہ داروں میں بھرتی ہو گیا تھا، پہلے ہی دن اس کا جی چاہا تو رائفل کندھے پر رکھ کر گھر چلا گیا، صبح گیا تو افسر نے جواب طلبی کی کہ تم اجازت لیے بغیر کیوں چلے گئے۔ بولا ،کس بات کی اجازت؟ افسر نے کہا ،گھر جانے کی اجازت ۔ بولا ،کیوں؟ میں اپنے گھر جانے کے لیے کسی اور کی اجازت کیوں لوں گا؟ افسر نے سمجھایا کہ دیکھو یہ ملازمت ہے، گھر جانے کے لیے اجازت ضروری ہے۔

علی محمد کی سمجھ میں یہ بات نہیں بیٹھ رہی تھی کہ آخر اپنے گھر جانے کی اجازت میں کسی اور سے کیوں لوں۔ افسر نے کافی سمجھایا لیکن اس کی سوئی وہیں اٹکی ہوئی تھی کہ میں اپنے گھر کیسے نہیں جا سکتا، آخر افسر نے بتایا کہ دیکھو یہ پکی نوکری ہے اور پکی نوکری میں ہر کام کی اجازت لینا پڑتی ہے۔ علی محمد نے تھوڑی دیر سوچا پھر جا کر اپنی بندوق اٹھا کر کاندھے پر رکھی اور بولا ، اگر مجھے اپنے گھر جانے کی اجازت نہیں تو علی محمد ایسی ''پکی نوکریاں'' نہیں کرتا۔ ہمارے میجر صاحب بھی

جانتا ہوں ثواب طاعت و زہد
پر طبیعت ادھر نہیں آتی

ویسے ان کا نام ''بختیار'' ہے لیکن وہ نام بھی ان کو سوٹ نہیں کرتا بلکہ یہ خود اس نام کو سوٹ نہیں کرتے کیونکہ اس کم بخت ''بخت'' نے کبھی ان کے ساتھ یاری نہیں کی ہے، ان کا قول اس بارے میں یہ ہے کہ ایسے ''بخت'' کو میرا دور سے سلام جو یاریاں دوسروں سے کرتا پھرتا ہے اور رات کو ''پڑنے'' کے لیے میرے گھر آجاتا ہے۔ ماں باپ نے نام رکھتے ہوئے سوچا ہو گا کہ بختیار نام رکھنے سے شاید ''بخت'' اس کی یاری کرے گا لیکن ان کو کیا معلوم تھا کہ ''بخت'' بڑا کم بخت ہوتا ہے۔

اکثر لوگوں کو دغا دے جاتا ہے ، اس لیے جب گاؤں محلے والوں نے ان کا نام ''میجر'' رکھا تو انھوں نے بھی دل و جان سے قبول کر لیا۔ پہلے وہ ''میجر صاحب'' مستقل نہیں تھے بلکہ ہلکے ہلکے میجر تھے لیکن جب لوگوں نے ان کو جناب پرویز خٹک کا قافلہ سالار پایا تو یہ نام پکا ہو گیا اور انھوں نے بقول ان کے اپنی ساری کشتیاں جلا کر خود کو پرویز خٹک کی کشتی میں گرا دیا۔

لبان نقش پائے رہرواں کوئے ملامت
نہیں اٹھنے کی طاقت اس لیے لاچار بیٹھے ہیں

میجر صاحب درویش صفت آدمی ہیں، ان کا کہنا ہے کہ نہ مانگا سونا چاندی، نہ مانگے تھے محل دو محلے ۔ ہم تو صرف ایک نظر التفات کے بھوکے ہیں، اس لیے چاہتے ہیں کہ اے خانہ بر انداز چمن کچھ تو ادھر بھی ۔ ہم نے لاکھ سمجھایا کہ بھئی خٹک صاحب اب صرف تمہارے نہیں ہیں، پورے صوبے کے ہیں لیکن عاشق نامراد کسی کی سنتا کہاں ہے، وہ تو چاہتا ہے کہ محبوب ساری دنیا سے منہ پھیر کر صرف اسی کا ہو جائے چنانچہ لب پر شکایت ہائے بیجا کا ورد ہمیشہ رہتا ہے۔ ہم نے بھی سوچا چلو اگر ہمارے چند الفاظ سے کسی کا بھلا ہو سکتا ہے تو کیا مضائقہ ہے اس لیے پرویز خٹک سے گزارش ہے کہ

ایسا نہ ہو کہ درد بنے درد لادوا
ایسا نہ ہو کہ تم بھی مداوا نہ کر سکو

میجر صاحب کچھ مانگتے نہیں ہیں، صرف ایک نگاہ التفات کے بھوکے ہیں کیوں کہ اس کے کہنے کے مطابق لوگ اسے طعنے دے رہے ہیں کہ تم تو بڑے پھنے خان بن کر پھرتے تھے، وہ تو تمہیں جانتا تک نہیں ... اور یہ بھی سچ ہے کہ ایک نہ ایک دن تو پھر بھی اپنے اس حلقہ انتخاب کی راہ گزر سے گرزنا ہو گا، اسی لیے کبھی کبھی گھاس کی دو مٹھیاں ڈال دیا کیجیے

اک لطف کی نظر ہے علاج شکست دل
جڑ جاتا ہے یہ آئینہ سو بار ٹوٹ کے

دراصل یہ المیہ صرف میجر صاحب کا نہیں ہے بلکہ ایسے بہت سارے تقریباً ہر شخص کے ہوتے ہیں ایسا کوئی منتخب نمایندہ کم ہی ہو گا جس کے حلقہ انتخاب میں ایسے شاکی اور گلہ مند لوگ نہ ہوں، اس ''دکھ'' کا شکار ہم خود بھی ہیں، ہمارے وہ منتخب نمایندے تو اتنے بھلکڑ واقع ہوئے تھے کہ ہمارا نام تک بھول گئے۔ کسی نے ایک دن ذکر کیا تو بولے، یہ کون ہیں ہم نے یہ بات سنی تو نزدیک جو سر ملا اسے خوب پیٹ ڈالا ، یہ تو بعد میں جب درد ہوا تو پتہ چلا کہ وہ سر ہمارا اپنا ہی تھا صرف اتنا ہی کہہ پائے کہ

پوچھتے ہیں وہ کہ غالب کون ہے
کوئی بتلاؤ کہ ہم بتلائیں کیا

لیکن ہمارے دوست مرحوم سہیل قلندر یاد آئے ہیں، ایک صاحب جو ابھی اقتدار میں نہیں ان کو اتنے لاحق ہو گئے تھے کہ کام بھی مشکل سے کر پاتے تھے لیکن جب سہیل قلندر فوت ہوئے تو اس وقت وہ ''وزیری'' میں اتنے مصروف تھے کہ ان کی موت کی خبر بھی ان تک نہیں پہنچ پائی بلکہ ابھی تک شاید بے خبر ہوں۔

کیونکہ بے چارے کو بہرے پن کا عارضہ جو لاحق ہو گیا تھا، تو ہم تم اور میجر صاحب کی بساط ہی کیا ہے جو ٹھیک سے میجر بھی نہیں ہیں اور محض نام کے بختیار ہیں کیوں کہ بخت کم بخت تو سیاسی لیڈروں سے بھی زیادہ طوطا چشم ہوتا ہے بلکہ آج تک کوئی ٹھیک سے یہ بھی نہیں جانتا ہے کہ بخت اور لیڈر میں کون زیادہ ہرجائی ہے، ایسے بہت سارے لوگ ہوتے ہیں جو خود کو نہ جانے کیا سمجھتے ہیں لیکن ان کا نام تین اور تیرہ کے رجسٹر میں کیا کسی بھی ہندسے والے رجسٹر میں نہیں ہوتا البتہ صفر کی طرح ہر ہندسے کی طاقت بڑھا سکتے ہیں۔