دہشت گردی کا خاتمہپاک سعودی تعاون ضروری ہے

پاک فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف سعودی عرب کے دورے پر وہاں پہنچے‘


Editorial November 06, 2015
پاک فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف سعودی عرب کے دورے پر وہاں پہنچے،فوٹو: آئی ایس پی آر

پاک فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف سعودی عرب کے دورے پر وہاں پہنچے' گزشتہ روز انھوں نے سعودی فرمانرواشاہ سلمان بن عبدالعزیز، ولی عہدمحمدبن نائف عبدالعزیزا لسعود اور وزیردفاع محمدبن سلمان بن عبدالعزیزالسعود سے ملاقاتیں کیں۔ آئی ایس پی آر کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل عاصم باجوہ کی جانب سے کی جانیوالی ٹویٹس کے مطابق جنرل راحیل شریف نے سعودی حکام کے ساتھ باہمی دلچسپی، دفاعی تعاون اور سلامتی کے شعبہ میںتعاون سمیت مختلف اہم معاملات پر گفتگو کی۔ سعودی فرمانروا اورآرمی چیف نے اس بات پر اتفاق کیا کہ پاکستان اور سعودی عرب علاقائی سلامتی کے حوالے سے اہم ممالک ہیں۔

جنرل راحیل شریف نے اس موقع پر سعودی عرب کی علاقائی سالمیت اور حرمین الشریفین کے تحفظ اور حفاظت کے حوالے سے پاکستان کا عزم بھی دہرایا۔ دونوں رہنماوں نے دہشتگردی کی لعنت کے خاتمے کے لیے ملکر اقدامات کرنے اور انتہاپسندی کی لہر کو روکنے کے لیے جامع میکنزم وضع کرنے پر بھی اتفاق کیا۔

سعودی فرمانروا اور ولی عہد نے کہا کہ پاکستان کی سالمیت کے لیے کسی بھی قسم کا خطرہ ناقابل قبول ہے اور سعودی عرب پاکستان میں امن اور استحکام کی حمایت کرتا ہے۔ آرمی چیف نے دونوں ممالک کے درمیان انسداد دہشتگردی کے سلسلے میں تعاون، خفیہ معلومات کے تبادلے میں معاونت، دہشتگردوں کے لیے زمین تنگ کرنے اور ان کی مالی معاونت روکنے کے حوالے سے مشترکہ اقدامات اور بڑھتے ہوئے تعاون پر اطمینان کا اظہار کیا۔ پاک فوج کے سربراہ کا دورہ سعودی عرب اور وہاں شاہ سلیمان اور ولی عہد محمد بن نائف اور وزیر دفاع محمد بن سلیمان سے ملاقاتیں اسٹرٹیجک حوالے سے انتہائی اہم ہیں۔

سعودی عرب بھی ان دنوں دہشت گردی کی لپیٹ میں ہے اور وہاں خود کش دھماکے بھی ہوتے ہیں، اس کے علاوہ سعودی عرب یمن کے بحران میں بھی پھنسا ہوا ہے' ادھر پاکستان بھی دہشت گردی کے خلاف جنگ لڑ رہا ہے، دونوں ملکوں کے درمیان اسٹرٹیجک تعاون دہشت گردوں کے خاتمے میں انتہائی مدد گار ثابت ہو سکتا ہے۔

دونوں ملکوں کے درمیان خفیہ معلومات کا تبادلہ انتہائی اہم ہے۔ پاکستان اور سعودی عرب ایک حوالے سے تعاون کریں تو دہشت گردوں کا نیٹ ورک توڑنا خاصا آسان ہو جائے گا۔ پاکستان دہشت گردی کے خاتمے کے لیے سعودی عرب کے ساتھ ہر ممکن تعاون کر رہا ہے' سعودی عرب کو بھی اس حوالے سے اہم کردار ادا کرنا چاہیے۔ دہشت گردوں کے خاتمے کے لیے ان کا مالیاتی نیٹ ورک توڑنا ضروری ہے' اگر ان کا مالیاتی نیٹ ورک ٹوٹ جاتا ہے تو دہشت گردی کا خاتمہ ممکن ہو جائے گا۔