بلدیاتی انتخابات کا دوسرا مرحلہ

چیف الیکشن کمشنر نے کہا کہ بیلٹ پیپرز میں غلطیوں سے خفت کا سامنا کرنا پڑا


Editorial November 06, 2015
چیف الیکشن کمشنر نے کہا کہ بیلٹ پیپرز میں غلطیوں سے خفت کا سامنا کرنا پڑا، فوٹو: فائل

الیکشن کمیشن کا اہم اجلاس ہوا بدھ کو اسلام آباد میں ہوا ۔اس اجلاس میں سندھ اورپنجاب میں ہونے والے بلدیاتی انتخابات کے پہلے مرحلے کی خامیوں اور دوسرے مرحلے کی تیاریوںکاجائزہ لیاگیا۔چیف الیکشن کمشنر جسٹس ریٹائرڈ سردار رضاخان نے پہلے مرحلے میںبے ضابطگیوں پر شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ آیندہ مرحلے میں ایسی بے ضابطگیاں برداشت نہیں کی جائیں گی۔ چیف الیکشن کمشنر جسٹس ریٹائرڈ سردار رضاخان نے سندھ میں خیر پور واقعے کے بعد دوسرے مرحلے میں سیکیورٹی مزید بڑھانے کی ہدایات دیدی ۔

چیف الیکشن کمشنر نے کہا کہ بیلٹ پیپرز میں غلطیوں سے خفت کا سامنا کرنا پڑا، جہاںحالات خراب ہونے کا امکان ہوا فوج اور رینجرزبھی تعینات کی جائے گی تاہم پولنگ اسٹیشن کے اندر فوج کی تعیناتی کافیصلہ صوبوںکی ڈیمانڈ پر کیاجائیگا، اجلاس میں ڈسٹرکٹ ریٹرننگ آفیسر سانگھڑ کی جانب سے فوج تعینات کرنے کی درخواست پر بھی غور کیاگیا۔

پنجاب اور سندھ میں بلدیاتی انتخابات کا دوسرا مرحلہ 14نومبر کو ہوگا۔بلدیاتی الیکشن کے پہلے مرحلے میں متعدد بے ضابطگیاں سامنے آئی ہیں۔دوسرے مرحلے میں ان بے ضابطگیوں کا خاتمہ انتہائی ضروری ہے۔ شفاف اور منصفانہ انتخابات کا انعقاد الیکشن کمیشن کی بنیادی اور واحد ذمے داری ہے۔ الیکشن کمیشن کے قیام کا مقصد ہی یہ ہے کہ اس باڈی نے انتخابات کا انعقاد کرانا ہوتا ہے۔ چیف الیکشن کمشنر اور صوبائی الیکشن کمشنرز کو چاہیے کہ وہ حکومت تک وہ باتیں پہنچائیں جن کی وجہ سے انتخابات میں بے ضابطگیاں ہو رہی ہیں۔

اگر کہیں اختیارات کا معاملہ ہے تو اس حوالے سے بھی حقائق سامنے آنے چاہئیں۔ عام انتخابات ہوں یا بلدیاتی الیکشن ہوں، ان کے منصفانہ اور شفاف انعقاد کے لیے الیکشن کمیشن کا خود مختار، طاقتور اور ہر قسم کے دباؤ سے آزاد ہونا انتہائی ضروری ہے۔ اس کے علاوہ پولنگ کے عمل کو زیادہ شفاف بنانے کے لیے جدید تقاضوں سے ہم آہنگی انتہائی ضروری ہے۔

ووٹر لسٹوں کے اندر بھی شفافیت انتہائی ضروری ہے۔ اس حوالے سے الیکشن کمیشن اور نادرا کے درمیان رابطہ کاری زیادہ موثر اور بہتر ہونی چاہیے۔ یہ شکایات سننے میں آئی ہیں کہ کسی ایک حلقے کے رہائشی کا ووٹ دوسرے حلقے میں ہے، ان چیزوں کا خاتمہ ضروری ہے۔ بائیو میٹرک سسٹم بھی ضروری ہے جب تک الیکشن کمیشن اپنے اختیارات کا مطالبہ خود نہیں کرے گا حکومت اپنے طور پر اسے نہیں دے گی۔امید ہے کہ بلدیاتی الیکشن کا دوسرا مرحلہ زیادہ بہتر ہو گا۔