معاشی استحکام کے لیے مزید اقدامات کی ضرورت

معیشت کو سیاست سے الگ رکھنا چاہیے اور اس مقصد کے لیے تمام سیاسی جماعتوں کو چارٹر آف اکانومی پر متحد ہو جانا چاہیے،


Editorial November 07, 2015
اگر ٹاپ لیول پر سادگی اختیار کی جائے تو صورتحال خاصی بہتر ہو سکتی ہے اور اچھا خاصا ریونیو حاصل ہو سکتا ہے۔ فوٹو: فائل

وفاقی وزیر خزانہ سینیٹر اسحاق ڈار نے جمعرات کو اسلام آباد میں سرمایہ کاری بورڈ کے زیر اہتمام دو روزہ بین الاقوامی پاکستان انویسٹمنٹ کانفرنس کے اختتامی سیشن سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں سرمایہ کاری کے بے پناہ مواقع موجود ہیں، سرمایہ کار حکومت پاکستان کی جانب سے فراہم کردہ سہولیات اور مراعات سے فائدہ اٹھائیں، ان کی سرمایہ کاری کو مکمل تحفظ ملے گا۔

معیشت کو سیاست سے الگ رکھنا چاہیے اور اس مقصد کے لیے تمام سیاسی جماعتوں کو چارٹر آف اکانومی پر متحد ہو جانا چاہیے، حکومت چار نکاتی منصوبے پرعمل پیرا ہے جس میں انتہا پسندی کا خاتمہ، اقتصادی ترقی، توانائی کی سستی اور بلا تعطل فراہمی، تعلیم اور صحت تک لوگوں کی رسائی ممکن بنانا شامل ہیں۔

انھوں نے کہا کہ 2013ء کے انتخابات سے قبل تمام ڈونرز، پارٹنرز اور عالمی مالیاتی ادارے پاکستان کے ساتھ کام کرنا چھوڑ چکے تھے، پاکستان کے ڈیفالٹ کرنے کے خدشات ظاہر کیے جا رہے تھے لیکن ہماری حکومت نے اصلاحات اور مشکل اقدامات کے ذریعے صورتحال پر قابو پایا اور آج ملک میں میکرو اکنامک مستحکم ہے، 22 عالمی ایجنسیوں نے پاکستانی معیشت کو مستحکم قرار دیا ہے، غیر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر 20 ارب ڈالر سے تجاوز کر چکے ہیں جب کہ مہنگائی تاریخ کی کم ترین سطح پر آ گئی ہے۔

جی ڈی پی کی شرح نمو پہلے سال 4.02 فیصد جب کہ دوسرے سال 4.24 فیصد ریکارڈ کی گئی جو گزشتہ 60 سال کی بلند ترین سطح ہے، پاکستان کی عالمی بانڈ مارکیٹ کی کامیاب واپسی ہوئی ہے، مارچ 2018ء تک 10600 میگاواٹ بجلی سسٹم میں شامل ہو جائے گی، صنعتی شعبہ کے لیے لوڈ شیڈنگ تقریباً ختم کر دی گئی ہے، عالمی مالیاتی اداروں سے نومبرتک 900 ملین ڈالر ملیں گے ،حکومت اور آئی ایم ایف میں مذاکرات کامیاب رہے، پاکستان کو505 ملین ڈالرکی دسویں قسط آیندہ ماہ ملے گی۔

وفاقی وزیر خزانہ سینیٹر اسحاق ڈار نے بالکل صائب کہا کہ ان کی حکومت آنے سے پیشتر ملک کے نہ صرف معاشی حالات خراب تھے بلکہ امن و امان کی بگڑتی ہوئی صورت حال نے ملکی سلامتی کے بارے میں کئی قسم کے سوالات پیدا کر دیے تھے۔ اس امر میں کوئی شبہ نہیں کہ آپریشن ضرب عضب اور دہشت گردوں کے خلاف بھرپور کارروائیوں کے نتیجے میں آج ملک میں دہشت گردی میں نمایاں کمی آئی اور امن و امان کی صورت حال بہتر ہوئی ہے۔

بہتر معاشی پالیسیوں اور بڑے بڑے ترقیاتی منصوبوں کے آغاز کے سبب سرمایہ کاروں کا حکومت پر اعتماد بڑھا اور ملک میں بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کے رجحان میں اضافہ ہوا۔ اب پاک چین اقتصادی راہداری منصوبے کی تکمیل سے ملک میں خوشحالی اور ترقی کے نئے دور کا آغاز ہو گا۔ اس سب کے باوجود بہت سے ایسے مسائل ہیں جنھیں حکومت ابھی تک ختم کرنے میں کامیاب نہیں ہوئی اور یہ مسائل نہ صرف ملکی بلکہ غیر ملکی سرمایہ کاری کی راہ میں بھی حائل ہیں جب تک ان پر قابو نہیں پایا جاتا حکومت لاکھ غیرملکی سرمایہ کاروں کو ترغیبات دیتی رہے وہ سرمایہ کاری پر راغب نہیں ہوں گے۔

مہنگی توانائی، ٹیکسوں کی بھرمار اور مہنگا خام مال صنعتی ترقی کی راہ میں رکاوٹ بنے ہوئے ہیں۔ پیداواری لاگت بڑھنے سے مینوفیکچررز عالمی منڈی میں مسابقت نہیں کر پا رہا جس کے باعث ملکی سطح پر صنعتی ترقی کی رفتار بہت سست ہے، جب ملکی سرمایہ کار مشکل معاشی صورت حال کے باعث عدم اطمینان کا شکار ہو گا تو ایسی صورت میں غیر ملکی سرمایہ کار کیسے پاکستان کی جانب راغب ہوگا۔

غیرملکی زرمبادلہ کے ذخائر 20 ارب ڈالر سے تجاوز کرنے کی نوید تو سنائی جا رہی ہے مگر حقیقت یہ ہے کہ جس کشکول کو موجودہ حکومت نے توڑنے کا وعدہ کیا تھا وہ اب مزید بڑا ہو گیا ہے اور معاشی نظام چلانے کے لیے آئی ایم ایف سے قرضوں پر قرضے لیے جا رہے ہیں۔ وفاقی وزیر خزانہ یہ خوشخبری سنا رہے ہیں کہ مہنگائی تاریخ کی کم ترین سطح پر آ گئی ہے، نا جانے یہ کہاں کم ترین سطح پر آئی ہے جب کہ صورت حال تو یہ ہے کہ مہنگائی کا گراف بلند سطح پر بدستور موجود ہے، آٹا، دودھ اور دیگر روز مرہ کی اشیا کی قیمتوں میں گزشتہ برسوں کی نسبت اضافہ ہو چکا ہے۔

دوسری جانب ایسی خبریں بھی سامنے آ رہی ہیں کہ 50 کروڑ ڈالر سے زائد کے قرضے کی آیندہ قسط کے لیے پاکستان نے تقریباً 40ارب روپے کے اضافی ٹیکس لگانے کی حامی بھر لی ہے تاکہ ٹیکس وصولیوں میں کمی کو پورا کر کے ریونیو اہداف حاصل کیے جائیں۔

اگر حکمران اور بااثر سیاسی طبقہ اپنے ٹیکس ایمانداری سے ادا کر کے دوسروں کے لیے مثال قائم کریں تو حکومت کو اضافی ٹیکس لگانے کی ضرورت ہی پیش نہیں آئے گی۔ ملکی معیشت کو استحکام دینے کے لیے مزید اقدامات کی ضرورت ہے' اگر ٹاپ لیول پر سادگی اختیار کی جائے تو صورتحال خاصی بہتر ہو سکتی ہے اور اچھا خاصا ریونیو حاصل ہو سکتا ہے۔