نفرت کے لپکتے شعلے

ہمارا برصغیر جو پاکستان، ہندوستان اور بنگلہ دیش کا مجموعہ ہے


Zahida Hina November 08, 2015
[email protected]

ہمارا برصغیر جو پاکستان، ہندوستان اور بنگلہ دیش کا مجموعہ ہے وہ کچھ دنوں سے سنگین بحران کا شکار ہے۔ نفرت اور تعصبات نے ہمارے بہت سے لوگوں کے ذہنوں میں گھر کر لیا ہے۔ یہ تعصبات ان کے وسیع المشرب سماج کو دیمک کی طرح کھا رہے ہیں۔ ہماری اکثریت نہیں جانتی کہ ان کی یہ ذہنی حالت انھیں زوال کی کن پستیوں کی طرف لے جائے گی ۔

ذرائع ابلاغ کے ناقابل یقین پھیلاؤ اور اس کی پہنچ کو استعمال کر کے انتہا پسند عناصر ناخواندہ لوگوں کے ذہن میں بھی ریڈیو اور ٹیلی وژن کے ذریعے نفرت کا بیچ بو رہے ہیں۔

اسی طرح وہ لوگ جو خواندہ ہیں اور کمپیوٹر یا سمارٹ فون استعمال کرتے ہیں، انھوں نے سوشل میڈیا کے ذریعے کروڑوں افراد پر مشتمل ایک ایسی ہم خیال برادری بنا لی ہے جو دوسرے سے نفرت اور اس کے خلاف تشدد کو درست سمجھتی ہے۔ اس برادری کی راہ میں سرحدیں حائل نہیں۔ اسے ایک دوسرے سے رابطے قائم کرنے اور مختلف الخیال لوگوں کا خون بہانے، ان کی بستیاں جلا دینے اور انھیں کچل دینے کی حیوانی جبلت کو ابھارنے پر کوئی مشکل درپیش نہیں۔ اس برادری کو اپنے امتیازی اور ظالمانہ رویوں پر کسی نوعیت کی شرمندگی بھی محسوس نہیں ہوتی۔

ہم آج جب ذرائع ابلاغ کے ذریعے نفرت کے پھیلاؤ کی بات کرتے ہیں تو ہمیں یہ یاد رکھنا چاہیے کہ یہ کام ہمارے یہاں لگ بھگ ڈیڑھ سو برس سے ہو رہا ہے۔ انیسویں صدی کے آخر اور بیسویں صدی میں یہ کام تاریخی ناولوں اور 46 ہزار صفحات پر مشتمل داستان امیر حمزہ نے کیا۔ یہاں تشریف رکھنے والے بیشتر افراد نے یہ ناول پڑھے ہوں گے اور صرف انھوں نے ہی نہیں ان کے والدین نے بھی انھیں پڑھا ہو گا ۔ ان ناولوں اور داستانوں میں تحقیر آمیز انداز میں ہندوؤں اور عیسائیوں کا ذکر ہوتا، انھیں کافر اور مشرک کہا جاتا۔ ان کی شہزادیاں مسلمان سپہ سالاروں کے قبضے میں جاتی ہیں اور مشرف بہ اسلام ہو کر ان کے حرم میں داخل کر لی جاتی ہیں۔

یہ وہ ذہنی فضا تھی جس میں اُس نسل کی پرورش ہوئی جو بیسویں صدی کے آغاز اور پھر پاکستان بننے کے فوراً بعد صحافت، سیاست، ادب، سول و فوجی بیوروکریسی اور ذرائع ابلاغ کے مختلف شعبوں سے وابستہ ہوئی۔ اس نے ہر قدم پر ایک عام پاکستانی کے ذہن میں یہ تصور پیدا کر دیا کہ مسلمانوں کے سوا تمام ادیان کو ماننے والے اسلام کے اور مسلمانوں کے دشمن ہیں۔ وہ کفار ہیں اور ہمیں ان کو تہس نہس کر دینا چاہیے۔ یہ دعویٰ کیا گیا کہ ہر ملک، ملکِ ما است۔ یہ نعرہ عام ہوا کہ مومن ہے تو بے تیغ بھی لڑتا ہے سپاہی۔ اس پر سے ستم یہ ہوا کہ 1947ء کے فوراً بعد ہمارے یہاں ہر سطح پر جو نصاب رائج ہوا اس نے بچپن سے ہی بچوں کے ذہنوں میں نفرتوں کو راسخ کرنا شروع کر دیا۔

ان رجحانات کے سامنے روشن خیالی، انسان دوستی اور کثیرالمشربی کی باتیں، دیوانے کی بڑ کے ساتھ ہی غداری سمجھی گئیں۔ ریاست پر ایسے ہی نفرت انگیز رجحانات رکھنے والی قوتوں اور اداروں کی بالادستی تھی لہٰذا ان کے لیے روشن خیال، انسان دوست اور ترقی اور جمہویت پسند لوگوں کو کچلنا بہت آسان تھا، سو انھوں نے اپنا کام بہت ہنر مندی سے کیا۔

پرنٹ میڈیا میں ان گروہوں کا بول بالا ہوا جنھیں کثیرالمشربی سے نفرت تھی۔ انھوں نے پاکستانیوں کو نفرت کی یہ خوراک روزانہ کی بنیاد پر جھوٹی خبروں، نفرت انگیزکالموں اور مضامین کے ذریعے مہیا کی۔ ہمارے بچے یہ پڑھ کر اور سن کر بڑے ہوئے کہ گاندھی عیار تھا، مکار تھا، مسلمان دشمن تھا۔ کسی نے انھیں یہ نہیں بتایا کہ مہاتما گاندھی کو ایک فرقہ پرست ہندو نے اس لیے قتل کیا کہ وہ مسلمانوں کے خلاف ہونے والے فسادات پر سخت برافروختہ تھے، انھوں نے بھوک ہڑتال کر کے پاکستان کو اس کا جائز حق دلایا تھا اور ان کے قاتل کو آج بھی ہندوستان کے انتہا پسند اپنا ہیرو تصور کرتے ہیں۔

اس صورتحال کا نتیجہ یہ نکلا کہ جب ہمارے یہاں الیکٹرانک چینلوں کی بہار آئی تو اس میں کام کرنے والوں کی اکثریت بھی ان لوگوں کی تھی جو مغرب، جمہوریت اور ہندوستان کے بارے میں نفرت انگیز لہجہ اختیار کرتے ہیں۔ سوشل میڈیا کے ایک بڑے حصے نے رہی سہی کسر پوری کر دی۔

مذہب، مسلک، قومیت اور صنف کے حوالے سے ہر شخص اپنے زہریلے جذبات کا اظہار بے باکی سے کرتا ہے۔ وہ جانتا ہے کہ ان انتہا پسندانہ خیالات کے بیان پر وہ پکڑا نہیں جائے گا۔ آج سوشل میڈیا اور انٹرنیٹ کے ذریعے آسٹریلیا سے آسٹریا اور ہندوستان سے پاکستان تک جہاد یوں کی بھرتی ہو رہی ہے۔ ان میں یورپ اور امریکا کی نوجوان لڑکیاں اور لڑکے بھی شامل ہیں۔

وہ لڑائی جو صادق حسین سردھنوی اور عبدالحلیم شرر نے شروع کی تھی وہ لیتھو کی چھپائی سے ہوتی ہوئی سوشل میڈیا پر سرگرم لوگوں تک آ پہنچی ہے۔ بنگلہ دیش جس کے بارے میں کسی کو گمان بھی نہیں ہو سکتا تھا، وہاں سیکولر خیالات رکھنے والے مصنفین اور ان کے پبلشر قتل کیے جا رہے ہیں۔ ہندوستان میں بھی انتہا پسندوں اور تشدد پسندوں کی بن آئی ہے۔ وہ ملک جس کے شہری اپنی ہزاروں برس پر پھیلی ہوئی عقل و دانش پر ناز کرتے تھے، وہ نفرت کے تندور سے ابلتے ہوئے انتہا پسندی کے شعلوں سے لرزہ بہ اندام ہیں۔

مذہبی اور مسلکی نفرت انگیز تحریروں اور تقریروں نے جہاں ایک طرف روشن خیال، لبرل اور جمہوری خیالات رکھنے والوں کا گلا گھونٹا ہے، وہیں اس نے پاکستان کے وجود کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔ کیونکہ پاکستان ایک کثیرالمسلک ملک ہے، جس کے استحکام کے لیے مختلف مسالک کے درمیان یک جہتی ناگزیر ہے۔

ہندوؤں، سکھوں یا عیسائیوں کے خلاف ہونے والی زیادتیوں کے بارے میں ہم پھر بھی لکھ سکتے ہیں لیکن اگر 1974ء میں غیر مسلم قرار دیے جانے والوں کے ساتھ ہونے والے امتیازی سلوک کے خلاف آواز اٹھائی جائے تو اسے برداشت نہیں کیا جاتا۔ ہم نے یہ بھی دیکھا ہے کہ ضیاء الحق کے دورِ آمریت سے عورتوں اور بہ طور خاص پڑھی لکھی عورتوں کے خلاف جس نفرت کے بیج بوئے گئے، اسی نے نابینا صفیہ بیگم، مختاراں مائی اور ایسی ہی متعدد لڑکیوں اور عورتوں کی زندگی جہنم بنا دی۔

پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا کی یہ ذمے داری تھی کہ وہ اپنے پڑھنے والوں اور سننے والوں کی ذہنی تربیت متوازن اور غیر جذباتی انداز میں کرتا۔ اس کے برعکس ہم میں سے بہت سے لوگوں نے ایسا زہریلا بیانیہ اختیار کیا جس کے بعد مذہب، صنف اور طبقات کی بنیاد پر ہمارا سماج تقسیم در تقسیم کے، سنگین ترین مرحلے میں داخل ہو چکا ہے۔

بچوں کو ابتدائی جماعتوں سے ایسی تاریخ پڑھائی جاتی ہے جس کے بعد اگر وہ دوسروں سے نفرت کریں تو ہمیں حیران نہیں ہونا چاہیے۔ آج ہمیں طالبان سے اور مختلف جہادی گروہوں سے شکایت ہے کہ وہ صوفیوں کے مزار اور مسجدوں کو نہیں بخشتے، انھیں بھی دھماکوں سے تباہ کر دیتے ہیں۔ نمازیوں کے اگر چیتھڑے اڑتے ہیں تو اڑ جائیں۔ نمازیوں میں شامل چھوٹے بچوں کی لاشیں ان سے اپنا قصور پوچھیں تو انھیں جواب دیا جائے کہ تم اور تمہارے اہل خانہ واجب القتل ہیں، کیونکہ تم ہمارے مسلک سے تعلق نہیں رکھتے۔

پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا سے تعلق رکھنے والوں کی ذمے داریاں بہت زیادہ ہیں لیکن ہم اس موجِ خوں سے ڈرتے ہیں جو ہمارے کئی ساتھیوں کے سر سے گزر چکی ہے اور ہم بھی اس میں ڈوب سکتے ہیں۔ ہمیں اس کا اندازہ ہونا چاہیے کہ لفظ انسانوں پر کس قدر اثر انداز ہو سکتے ہیں۔

اسی لیے ہمیں ڈرنا چاہیے کہ ہمارے بچوں کو نفرت انگیز نصابی کتابیں دھڑلے سے پڑھائی جا رہی ہیں، حالانکہ بچوں کا نصاب ہی وہ میدان ہے جہاں ہم ان کو تاریخ کے درست تناظر میں دوسرے مذاہب، مسالک اور قوموں کو سمجھنے اور ان کا احترام کرنے کی تربیت دے سکتے ہیں۔ یہ وہ بچے ہیں جو کل کے بڑے ہوں گے اور اگر ان کے ذہنوں کو نفرت سے آلودہ نہ ہونے دیا جائے تو یہ پاکستان اور خود ان بچوں کی ایک بڑی خدمت ہو گی ۔

بیسویں صدی کے مشہور ادیب بر یخت نے کہا تھا کہ نفرت اتنا خطرناک احساس ہے کہ ہم اگر کسی برائی سے بھی نفرت کر رہے ہوں تو ہمارے چہرے مسخ ہو جاتے ہیں۔ ہمیں اپنے چہرے بگاڑنے کی بجائے یہ سوچنا ہو گا کہ وہ کون سی بیگانگی، محرومیاں اور ناانصافیاں ہیں جن کو استعمال کر کے بعض گروہ لوگوں میں نفرت پیدا کرتے اور انھیں تشدد پر اکساتے ہیں۔ یہ ایک نہایت مشکل مرحلہ ہے جس سے باشعور گروہوں اور قوموں کو گزرنا پڑتا ہے۔

ہم انفرادی اور اجتماعی طور پر آج اسی مشکل سے دوچار ہیں۔ اس سے نجات کے لیے ہمیں وسیع القلبی اور کثیر المشربی کی ضرورت ہے جس کے لیے ایک حقیقی جمہوری معاشرے کا قیام اولین ضرورت ہے۔ ایک ایسا معاشرہ جہاں قانون کی نظر میں ہر مذہب، مسلک، صنف، رنگ، نسل اور طبقے کے شہری مساوی ہوں، سوال پوچھنے، دلیل دینے اور اختلاف کرنے والوں کو غدار یا کافر قرار نہ دیا جاتا ہو اور جہاں شہریوں کو بلا امتیاز انصاف ملے اور انھیں، منصفانہ معاشی نظام کی ضمانت فراہم کی جائے۔

یاد رکھیں، یہ سب کچھ نہ کیا گیا تو نفرت کی بھیانک آگ ہم سب کو جلا کر بھسم کر دے گی ۔

(ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان کے لاہور اجلاس میں پڑھا گیا۔)

مقبول خبریں