نریندر مودی کی آمد پر مقبوضہ کشمیر میں یوم سیاہ

نریندرمودی کی گزشتہ روزمقبوضہ کشمیر آمد کےخلاف مقبوضہ وادی اورآزاد کشمیرسمیت دنیابھرمیں کشمیریوں نے یوم سیاہ منایا


Editorial November 09, 2015
پاکستانی حکمرانوں کو اب روایتی بیان بازی کے بجائے بھارت کے خلاف عالمی سطح پر بھرپور کردار ادا کرنا ہو گا ، فوٹو : فائل

لاہور: بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کی گزشتہ روز مقبوضہ کشمیر آمد کے خلاف مقبوضہ وادی اور آزاد کشمیر سمیت دنیا بھر میں کشمیریوں نے یوم سیاہ منایا، مقبوضہ وادی میں مکمل ہڑتال کی گئی' کشمیریوں نے احتجاجی مظاہرے کیے اور ریلیاں نکالیں۔ بھارتی وزیر اعظم کے دورے کے خلاف حریت رہنما سید علی گیلانی نے ملین مارچ کی کال دی تھی' کشمیریوں کے احتجاج کو دبانے کے لیے سری نگر سمیت دیگر قصبوں میں کرفیو نافذ کر دیا گیا، شہریوں کو سری نگر کے شیر کشمیر کرکٹ اسٹیڈیم میں ہونے والے ملین مارچ میں شرکت سے روکنے کے لیے بھارتی فوجیوں اور پولیس اہلکاروں کی بڑی تعداد کو تعینات کیا گیا لیکن تمام تر پابندیوں کو روندتے ہوئے کشمیری سڑکوں پر نکل آئے اور مظاہرے کیے' مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے قابض بھارتی فوجیوں نے اندھا دھند فائرنگ سمیت طاقت کا وحشیانہ استعمال کیا جس سے ابتدائی اطلاع کے مطابق ایک شہری شہید اور متعدد زخمی ہوگئے' سید علی گیلانی کو گرفتار کر لیا گیا۔

بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے سری نگر کے شیر کشمیر کرکٹ اسٹیڈیم میں جلسے سے خطاب کرتے ہوئے مقبوضہ کشمیر کے لیے 80 ہزار کروڑ (8کھرب) روپے کے پیکیج کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ یہ پیکیج گزشتہ برس مقبوضہ کشمیر کے بدترین سیلاب سے متاثر ہونے والے افراد اور ریاست کی مجموعی ترقی کے لیے جاری کیا گیا ہے' انھوں نے روایتی ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کرتے ہوئے کہا کہ کشمیر کے بغیر ہندوستان ادھورا ہے' کشمیر نے بہت کچھ برداشت کیا ہم اسے دوبارہ جنت بنانا چاہتے ہیں' کشمیر کے لیے مجھے دنیا سے کسی مشورہ کی ضرورت نہیں۔

بھارتی حکمران ایک عرصے سے یہی رٹ لگا رہے ہیں کہ مقبوضہ کشمیر ان کا اٹوٹ انگ ہے جسے وہ کسی بھی طور پر چھوڑنے کے لیے آمادہ نہیں، انھوں نے کشمیریوں کی تحریک آزادی کو دبانے کے لیے جبر و ظلم کا ہر ہتھکنڈا استعمال کیا مگر تمام تر قربانیوں کے باوجود کشمیری پیچھے نہیں ہٹے بلکہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ جہاں ان کی قربانیوں اور شہادتوں میں اضافہ ہوتا چلا گیا وہاں ان کی تحریک آزادی بھی قوت پکڑتی چلی گئی۔ انتہا پسند نظریات رکھنے والے نریندر مودی نے برسراقتدار آنے کے بعد جہاں اندرون ملک دوسری قوموں بالخصوص مسلمانوں کے خلاف جارحانہ رویہ اپنایا وہاں انھوں نے پاکستان کے خلاف بھی محاذ کھول دیا، اس کے ساتھ ساتھ انھوں نے مقبوضہ کشمیر کے مسئلے پر کسی قسم کے مذاکرات اور لچک کا مظاہرہ کرنے کے بجائے اسے مستقل طور پر بھارت کا حصہ بنانے کے لیے سازشوں کے جال بننا شروع کر دیے۔

مقبوضہ کشمیر میں ہونے والے ریاستی انتخابات میں بھی انھوں نے اکثریت حاصل کرنے کی کوشش کی تا کہ آئینی طور پر مقبوضہ وادی کو بھارت میں شامل کر دیا جائے مگر اس میں انھیں ناکامی کا سامنا کرنا پڑا' انھوں نے کشمیریوں کی تحریک آزادی کو دبانے کے لیے ظالمانہ کارروائیوں میں تیزی پیدا کر دی مگر ان کا یہ ہتھکنڈا بھی ناکام ثابت ہوا اور کشمیریوں نے مختلف مواقع پر پوری وادی میں پاکستانی پرچم لہرا کر بھارت سے بریت اور پاکستان سے اپنی قلبی وابستگی کا اظہار کر دیا۔

اپنی تمام سازشوں اور حربوں کو ناکام ہوتا ہوا دیکھ کر بھارتی حکومت نے پینترا بدلا اور کشمیریوں کو پھنسانے کے لیے 8 سو ارب روپے کا جال پھینکا مگر کشمیریوں نے اس جال میں پھنسنے کے بجائے پوری وادی میں ہڑتال اور مظاہرے کر کے یہ ثابت کر دیا کہ وہ کشمیر کی آزادی سے کم کسی پیکیج کو قبول نہیں کریں گے۔ مودی نے اپنے خطاب میں بڑا مکارانہ اور منافقانہ انداز اپناتے ہوئے یہ کہا کہ یہ پیکیج تو صرف آغاز ہے دہلی کا خزانہ ہی نہیں دل بھی آپ کا ہے۔ ایک طرف نریندر مودی کشمیریوں کا دل جیتنے کے لیے بھاری پیکیج کے ساتھ ساتھ اپنا دل بھی نثار کر رہے تھے تو دوسری جانب بھارتی فوج اور پولیس کشمیریوں پر گولیوں کی بوچھاڑ کر کے ان کے جگر چھلنی کر رہی تھی۔

بھارتی حکمران یہ بھول گئے کہ کشمیر ان کے بھاری پیکیج سے دوبارہ جنت نظیر نہیں بن سکتا۔ یہ اسی وقت جنت نظیر بنے گا جب کشمیریوں کو ان کی خواہشات کے مطابق آزادی ملے گی۔ جب نریندر مودی روایتی ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کرتے ہوئے یہ کہہ رہے ہیں کہ وہ نہ صرف کشمیر کو آزاد کرنے کے لیے آمادہ نہیں بلکہ اس مسئلے پر دنیا میں کسی کی بھی سننے کو تیار نہیں تو پھر کشمیر میں امن کیسے قائم ہو سکتا ہے کیونکہ کشمیری بھارت کے ساتھ کسی بھی صورت رہنے کے لیے آمادہ نہیں، وہ اس سے مکمل آزادی چاہتے ہیں۔

اقوام متحدہ اور عالمی طاقتیں بھی کشمیر کے مسئلے پر خاموش ہیں اور وہ اس کے حل کے لیے کوئی ٹھوس اور جاندار کردار ادا نہیں کر رہیں۔ موجودہ بھارتی حکومت کو بھی اس حقیقت کا ادراک ہو چکا ہے کہ عالمی طاقتیں کشمیر کے مسئلے پر روایتی بیان بازی کے سوا اس پر دباؤ نہیں ڈالیں گی۔ یہی وجہ ہے کہ وہ مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے پاکستان کے ساتھ مذاکرات کے بجائے جارحانہ رویہ اپنائے ہوئے ہے۔ پاکستانی حکمرانوں کو اب روایتی بیان بازی کے بجائے بھارت کے خلاف عالمی سطح پر بھرپور کردار ادا کرنا ہو گا تا کہ اسے مذاکرات کی میز پر آنے کے لیے مجبور کیا جا سکے۔