تاپی منصوبے کے احیا کے اشارے

تاپی کا لفظ ترکمانستان، افغانستان، پاکستان اور انڈیا کے پہلے حروف کو جوڑ کر بنایا گیا تھا


Editorial November 09, 2015
اگر یہ منصوبہ مکمل ہو جائے تو پاکستان اور بھارت ہی نہیں بلکہ افغانستان بھی توانائی کی ضرورتوں پر قابو پا سکتا ہے۔ فوٹو: فائل

پاکستان کو ایران سے گیس لینے سے روکنے کے لیے امریکا نے ''تاپی'' کے عنوان سے جو متبادل منصوبہ پیش کیا تھا اس کو مقامی مبصرین نے ابتدائی طور پر ناقابل عمل قرار دیدیا تھا لیکن اب یہ قابل عمل شکل میں سامنے آ رہا ہے۔ تاپی کا لفظ ترکمانستان، افغانستان، پاکستان اور انڈیا کے پہلے حروف کو جوڑ کر بنایا گیا تھا کیونکہ یہ گیس ترکمانستان سے براستہ افغانستان اور پاکستان انڈیا تک جانا تھی۔ اب تازہ اطلاع کے مطابق ترکمانستان کے صدر قربان گلی بردی محمد کی ہدایت پر پاکستان، بھارت اور افغانستان تک گیس پہنچانے کے لیے پائپ لائن کی تعمیر شروع کر دی گئی ہے جب کہ ترکمان صدر نے دو ریاستی کمپنیوں کو اپنے حصے کی گیس پائپ لائن تعمیر کرنے کے احکامات جاری کیے ہیں۔

اس کا مطلب یہ ہے کہ افغانستان، پاکستان اور بھارت کو اپنے اپنے حصے کی پائپ لائن تعمیر کرنا ہو گی کیونکہ مجموعی طور پر یہ پائپ لائن1800 کلومیٹر طویل ہو گی اور اس کی تعمیر پر10 ارب ڈالر سے زیادہ لاگت آئے گی۔ ترکمان حکومت کو توقع ہے کہ ترکمانستان سے تینوں ایشیائی ممالک کو سالانہ 33 ارب کیوبک میٹر گیس کی فراہمی2018ء کے آخر تک مکمل طور پر آپریشنل ہو جائے گی۔ وزیر اعظم نواز شریف پائپ لائن کے سنگ بنیاد کی باقاعدہ تقریب میں شرکت کے لیے 13 دسمبر کو اشک آباد جائیں گے۔ دریں اثناء گزشتہ روز ترکی کے شہر استنبول میں چاروں ممالک کے اعلیٰ عہدیداروں کا اجلاس ہوا جس میں اس بات پر غور کیا گیا کہ منصوبے پر کام کے آغاز کے بعد کس طرح آگے بڑھنا ہو گا۔ منصوبے کے تحت پاکستان اور بھارت کو روزانہ 1.3 بلین کیوبک فٹ گیس فراہم ہو گی جب کہ افغانستان کا حصہ پانچ سو ملین کیوبک فٹ ہوگا۔

گیس کے قیمتی ذخائر کی دولت سے مالا مال ترکمانستان کا اس وقت انحصار چین کو گیس کی فراہمی پر ہے، تاپی منصوبہ انتہائی فائدہ مند ثابت ہو سکتا ہے مگر اس مہنگے منصوبے پر غیر یقینی کے بادل بھی چھائے ہوئے ہیں۔ جنگ زدہ افغانستان میں پائپ لائن سے متعلق خطرات کے ساتھ چار ملکی کنسورشیم اب تک کسی غیر ملکی کمرشل شراکت دار کی شرکت کی تصدیق نہیں کر سکا جو مالی طور پر منصوبے میں مدد کر سکے۔ سیاسی طور پر بھی یہ منصوبہ پیچیدہ ہے جس کے لیے چاروں ممالک میں ایک دوسرے سے تعاون کرنے والی حکومتوں کی ضرورت ہے۔

لاجسٹک اعتبار سے بھی یہ بڑا چیلنج ہے کیونکہ پائپ لائن کو پاکستان اور افغانستان کے ایسے علاقوں سے گزرنا ہے جہاں طالبان اور دیگر عسکریت پسند گروپ موجود ہیں۔ اس ساری صورتحال سے تو یہی ظاہر ہوتا ہے کہ اس منصوبے کی راہ میں خاصی مشکلات حائل ہیںجنھیں دور کیا جانا ضروری ہے تاہم سارے حالات چاروں ملکوں کے پیش نظر بھی ہیں'یقیناً انھیں سارے معاملات کا علم ہے اور اندازہ بھی ہے،تبھی اس منصوبے کو آگے بڑھایا جا رہا ہے۔ آنے والے دنوں میں افغانستان میں بھی قیام امن ممکن ہو سکتا ہے' اگر ایسا ہو جاتا ہے تو پھر یہ منصوبہ باآسانی پایہ تکمیل تک پہنچ سکتا ہے' اگر یہ منصوبہ مکمل ہو جائے تو پاکستان اور بھارت ہی نہیں بلکہ افغانستان بھی توانائی کی ضرورتوں پر قابو پا سکتا ہے جس سے ترقی کے نئے در کھل جائیں گے۔