انتخابی تشدد روکنے کے پیشگی اقدامات

پہلے مرحلے میں سندھ میں بڑا تصادم ہوا تھا‘ یہ تاریخ دوبارہ نہیں دہرائی جانی چاہیے۔


Editorial November 09, 2015
سیاسی جماعتیں اپنے کارکنوں کو پرامن رہنے کی تلقین کریں۔ فوٹو: فائل

پنجاب اور سندھ میں بلدیاتی انتخابات کا دوسرا مرحلہ شروع ہے' پولنگ 19 نومبر کو ہو گی' اس مرحلے کو پرامن بنانے کے لیے زیادہ بہتر حفاظتی اقدامات اختیار کرنے پر غور ہو رہا ہے۔ پنجاب حکومت نے الیکشن کمیشن سے درخواست کی ہے کہ تمام پولنگ اسٹیشنوں پر رینجرز اور فوج تعینات کی جائے تاکہ سیاسی گروہوں کے درمیان کسی ممکنہ تصادم کو روکا جا سکے۔ سندھ حکومت نے سانگھڑ کو حساس علاقہ قرار دیا ہے' بلدیاتی الیکشن کے دوسرے مرحلے کو پرامن بنانا صوبائی حکومت اور الیکشن کمیشن کی بنیادی ذمے داری ہے لہٰذا بہتر یہی ہے کہ بلدیاتی الیکشن کو پرامن بنانے کے لیے ہر ممکن اقدامات کیے جائیں۔

پہلے مرحلے میں سندھ میں بڑا تصادم ہوا تھا' یہ تاریخ دوبارہ نہیں دہرائی جانی چاہیے۔انتخابات میں چھوٹے موٹے لڑائی جھگڑے ہوتے رہتے ہیں لیکن جب وسیع پیمانے پر تصادم ہو اور جانیں ضایع ہو جائیں تو یہ تشویش کی بات ہوتی ہے۔ سندھ کے ضلع خیر پور اور پنجاب میں فیصل آباد میں جو کچھ ہوا' اسے مدنظر رکھا جانا چاہیے اور حفاظتی اقدامات زیادہ سخت ہونے چاہئیں۔ اس کے ساتھ ساتھ سیاسی جماعتوں کی لیڈر شپ کا بھی فرض ہے کہ وہ بلدیاتی الیکشن کو پرامن بنانے کے لیے اپنا کردار ادا کرے۔ سیاسی جماعتیں اپنے کارکنوں کو پرامن رہنے کی تلقین کریں۔ یہی جمہوری طرز عمل ہے' اگر حکومت' الیکشن کمیشن اور سیاسی جماعتیں ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کریں تو بلدیاتی الیکشن کا دوسرا مرحلہ پرامن بنایا جا سکتا ہے۔