ریاست بہار میں بی جے پی کی شکست

انتخابی نتائج کے مطابق بھارتی حکمران جماعت کو ریاستی اسمبلی کی صرف58 سیٹیں مل سکیں


Editorial November 10, 2015
بہار کے الیکشن کے نتائج پاکستان اور بھارت کے انتہا پسند سیاستدانوں کے لیے ایک سبق ہیں کہ یہاں کے عوام کی اکثریت انتہا پسندی اور نفرت کی سیاست کو پسند نہیں کرتی۔ وٹو:فائل

ISLAMABAD: بھارت کی مشرقی ریاست بہار کے اسمبلی انتخابات میں وزیراعظم نریندر مودی کی جماعت بی جے پی کو بدترین شکست ہوئی ہے جب کہ وزیراعلیٰ بہار نتیش کمار کی زیر قیادت بننے والے لالو پرساد کی راشٹریہ جنتا دل اور کانگریس کے جنتادل اتحاد کو واضح اکثریت حاصل ہو گئی۔

بی جے پی کو انتہا پسند پالیسیاں لے ڈوبیں، انتخابی نتائج کے مطابق بھارتی حکمران جماعت کو ریاستی اسمبلی کی صرف58 سیٹیں مل سکیں جب کہ جنتادل اتحاد243نشستوں میں سے 178پر کامیاب ہوا۔ نریندرمودی نے شکست تسلیم کرتے ہوئے بہار کے وزیر اعلیٰ نتیش کمار کو ٹیلیفون کیا اور کامیابی پر مبارکباد دی۔

نتیش کمار نے فتح کے بعد پہلے ٹویٹ میں کہا کہ ہم اپنی فتح میں باوقار رہیں گے، انتخابی نتائج ایک سنگ میل اور عوامی موڈکے عکاس ہیں کہ وہ قومی سطح پر ایک مضبوط متبادل قیادت چاہتے ہیں۔ لالو پرساد اور نتیش کمار نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مودی کو حکومت میں رکھنا بھارت کو ٹکڑے ٹکڑے کرنے کے مترادف ہے۔ لالو پرساد نے کہا کہ تبدیلی کی ہوائیںاب ملک بھر میں چلیں گی، ملک گیر مہم چلا کر نریندر مودی کی فاشسٹ حکومت کو نکال پھینکیں گے۔

انھوں نے دلی پر چڑھائی کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ مودی سرکار کا گائے کارڈ فیل ہو گیا ہے، بہار کے عوام نے نفرت انگیز مہم کے خلاف ووٹ دیا، انتخابات میں شکست ان کے لیے ایک سبق ہے، عوام منفی سیاست نہیں بلکہ پیار محبت کی سیاست چاہتے ہیں۔ کانگریس کے رہنما راہول گاندھی نے کہا کہ بہار کے نتائج نے مودی کو یہ پیغام دیا ہے کہ بی جے پی اور آرایس ایس ملک کو تقسیم نہیں کر سکتے، بہار والوں نے ثابت کیا کہ ہندو کو مسلمان سے لڑا کر کوئی جیت نہیں سکتا، یہ بھائی چارے کی جیت ہے، یہ ملک کسی ایک ذات یا مذہب کا نہیں ہے بلکہ سب کا ہے۔

دلی کے وزیراعلیٰ اروند کیجریوال اور مغربی بنگال کی وزیر اعلیٰ ممتا بینرجی نے نتیش کمار کو مبارک باد دی ہے، ممتا بینرجی نے کہا کہ یہ رواداری کی جیت اور عدم رواداری کی ہار ہے۔ کیجریوال نے کہا کہ انتخابی نتائج نفرت کی سیاست کرنے والوںکے گال پر طمانچہ ہیں، لوگ امن چاہتے ہیں جنگ نہیں، مستقبل میں اس طرح کی پھر کوشش کی گئی تو ایسے لوگوں کا پوری طرح صفایا کردیا جائے گا۔

مودی کی شکست انتہا پسند ہندوؤں کی شکست ہے ،اس سے ثابت ہوتا ہے کہ ریاست بہار کے عوام کی اکثریت بی جے پی کی انتہا پسندی کے خلاف ہے اور وہ ایسے نظریات رکھنے والوں کو حکومت میں نہیں دیکھنا چاہتی۔ مودی سرکار کی یہ پہلی شکست نہیں اسے فروری میں دلی کے انتخابات میں اروند کیجریوال کے ہاتھوں بھی ہزیمت اٹھانا پڑی تھی جہاں عام آدمی پارٹی نے 70میں سے67سیٹیں حاصل کرکے بی جی پی کا صفایا کر دیا تھا۔

مبصرین کا کہنا ہے کہ بہار کے الیکشن مودی کے خلاف ریفرنڈم ہیں اور اب ہندوستان میں شدت پسند عناصر کمزور ہوں گے اور عوام انھیں دوبارہ اقتدار میں دیکھنا پسند نہیں کرتے۔ اس صورت حال کے تناظر میں یوں معلوم ہوتا ہے کہ بھارت میں بی جے پی کا زوال شروع ہو گیا ہے اور آنے والا وقت اس کے لیے مزید مشکلات کا باعث بن سکتا ہے۔ بی جے پی کے لیے 2017ء کے انتخابات میں کامیابی حاصل کرنے کے لیے بہار میں انتخابات جیتنا لازمی تھا، اب دیکھنا یہ ہے کہ اس انتخابی شکست کے بعد مودی اپنی پالیسیاں بدلنے پر غور کرتے ہیں یا انھیں جاری رکھنے ہی پر بضد رہتے ہیں۔

اگر تو وہ انتہا پسندوں کے ہاتھوں مجبور ہوکر اپنی انھی شدت پسند اور متعصبانہ پالیسیوں کو جاری رکھتے ہیں تو یہ کہنا مشکل نہیں کہ آیندہ عام انتخابات میں انھیں بری طرح شکست کا سامنا کرنا پڑے گا۔ریاست بہار میں شکست اس امر پر دلالت کرتی ہے کہ مسلم مخالف عنصر بھی بی جے پی اور مودی کو سہارا نہیں دے سکا اور ان کی مقبولیت میں تیزی سے کمی آ رہی ہے ۔ بھارتی میڈیا نے اس بدترین شکست کو بی جے پی اور مسلمانوں کے درمیان اعتماد کی کمی کو بھی قرار دیا۔

مودی نے بہار کا الیکشن جیتنے کے لیے 40 سے زیادہ انتخابی ریلیوں سے خطاب کیا پوری انتخابی مہم انھوں نے خود اور پارٹی کے صدر امیت شاہ نے چلائی، انتخابات کے دوران مذہبی منافرت کے ذریعے ہندوؤں کا ووٹ متحد کرنے کی کوشش کی گئی۔ بدترین شکست ملنے کے بعد بی جے پی کے رہنماؤں میں پھوٹ پڑ گئی ہے اور انھوں نے ایک دوسرے کے خلاف محاذ کھول دیا ہے۔

بہار کے الیکشن کے نتائج پاکستان اور بھارت کے انتہا پسند سیاستدانوں کے لیے ایک سبق ہیں کہ یہاں کے عوام کی اکثریت انتہا پسندی اور نفرت کی سیاست کو پسند نہیں کرتی اور وہ اس کا ہمیشہ ہمیشہ کے لیے خاتمہ چاہتی ہے۔ اگر یہاں کے عوام نے انتہا پسندوں کو شکست دے دی تو وہ دن دور نہیں جب پاکستان اور بھارت کے درمیان بہترین دوستانہ تعلقات قائم ہو جائیں گے اور نفرت کی سیاست ہمیشہ ہمیشہ کے لیے دفن ہو جائے گی۔