پیشگی منصوبہ بندی کی جائے

عمارات کی تعمیر کےدوران قانونی ضوابط کی خلاف ورزیاں اورانفراسٹرکچرمیں ناقص میٹریل کااستعمال بھی حادثات کاباعث بنتا ہے


Editorial November 10, 2015
پرانی روش چھوڑ کر حادثات کی روک تھام اور پیشگی منصوبہ بندی کا رویہ اپنانا ہوگا، یہی وقت کا تقاضا ہے۔ فوٹو : فائل

ملک میں ناگہانی حادثات کے باعث اموات میں اچانک اضافہ دیکھنے میں آرہا ہے، گزشتہ دنوں سانحہ سندر کا اندوہناک واقعہ پیش آیا جس میں پیر کو مزید 4 لاشیں برآمد ہونے کے بعد ہلاکتوں کی تعداد 52 ہوگئی جب کہ تاحال 8 مزدور لاپتہ ہیں۔ افسوس ناک امر یہ ہے کہ ہمارے ملک میں بعد از حادثہ واویلا تو خوب کیا جاتا ہے مگر حادثات سے نمٹنے کے لیے پیشگی منصوبہ بندی کی طرف دھیان نہیں دیا جاتا۔

عمارات کی تعمیر کے دوران قانونی ضوابط کی خلاف ورزیاں اور انفرا سٹرکچر میں ناقص میٹریل کا استعمال بھی حادثات کا باعث بنتا ہے لیکن بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کا محکمہ دوران تعمیرات یا تو خود چشم پوشی سے کام لیتا ہے یا پھر اہلکاروں کی بصارت رشوت کی دھول معطل کردیتی ہے۔

اتوار کو سکھر اور خیرپور کے درمیانی علاقے ببرلو میں بھی ایک گھر کی چھت گرنے کے باعث 4 افراد جاں بحق جب کہ 25 سے زائد زخمی ہوگئے، اطلاعات کے مطابق یہ حادثہ امام زین العابدین کے یوم شہادت پر برآمد ہونے والے ماتمی جلوس کو دیکھنے کے دوران پیش آیا۔ علاوہ ازیں خیبرپختونخوا کے ضلع لوئر دیر میں قائم ایک بیکری کے گودام میں آتشزدگی کے نتیجے میں 5 مزدور جھلس کر جاں بحق ہوگئے، پولیس کے مطابق گودام میں آگ شارٹ سرکٹ کے باعث لگی۔ ملک کے دیگر حصوں میں بھی شدید بارشوں سے گھر کی چھتیں گرنے، آتش زدگی اور دیگر حادثات کی خبریں معمول بنتی جارہی ہیں۔

گزشتہ دنوں کراچی میں پہاڑی ٹکڑا گرنے سے ہلاکتیں ہوئیں۔ آخر خودحفاظتی کے اصولوں سے انحراف کیوں برتا جارہا ہے؟ جہاں انتظامیہ کی بے حسی اور لاپرواہی ان حادثات کا محرک ہے وہیں عوام کی غلطیوں و کوتاہیوں کو بھی نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ ماہ اکتوبر میں زلزلے سے متاثرین اب تک امداد کے منتظر ہیں، ان پر ہی کیا موقوف 10 برس پہلے آنے والے زلزلہ متاثرین کے گھر بھی اب تک تعمیر نہیں ہوسکے۔ وینزویلا کے صدر نکولس مادورو نے ایک بیان میں کہا ہے کہ اگر ان کی حکومت 2015 کے آخر تک 10 لاکھ لوگوں کو گھر فراہم کرنے کا وعدہ پورا نہ کرسکے تو وہ مونچھیں مونڈھوا دیں گے۔

کیا ہمارے ملک میں کوئی ایسا صاحب کردار ہے جو عملاً نہ سہی زبانی جمع خرچ کے طور پر ہی ایسا بیان دے سکے۔ یہ روایت دیگر ممالک ہی میں دیکھنے میں آتی ہے کہ حکومتیں اور شخصیات بعد از حادثہ اپنی لاپرواہی پر ازخود مستعفی ہوجاتی ہیں لیکن پاکستان میں کوتاہی تسلیم کرنا تو درکنار غلطیوں کا ازالہ تک نہیں کیا جاتا۔ پرانی روش چھوڑ کر حادثات کی روک تھام اور پیشگی منصوبہ بندی کا رویہ اپنانا ہوگا، یہی وقت کا تقاضا ہے۔