سندھ حکومت وفاق سے رابطہ کرے

وزیراعظم یا متعلقہ وزراتوں اور ذمے داروں سے رابطہ کر کے مفاہمت اور جائز فنڈز کے حصول کو یقینی بنایا جاسکتا ہے۔


Editorial November 11, 2015
حکومت سندھ نے گرین لائن بس پروجیکٹ کے تحت بسوں کی مکمل فراہمی اور آپریشنل چارجز کے اخراج پر تحفظات کا اظہار کیا ہے، فوٹو:فائل

میڈیا کی اطلاع کے مطابق وفاق اور سندھ کے درمیان فنڈز کے تنازع میں شدت آئی ہے۔ سندھ کے سینئر وزیر نثار کھوڑو نے کہا ہے کہ قابل تقسیم محاصل میں سے وفاقی حکومت سندھ حکومت کو 50 ارب روپے کے بقایا جات ادا نہیں کر رہی، اگر وفاقی حکومت اپنا وعدے وفا نہیں کرسکتی تو بلند بانگ دعوے بھی نہ کرے، سندھ کو قابل تقسیم محاصل میں سے اپنا پورا حصہ دے، جب کہ وزیراعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ نے کہا ہے کہ وفاقی حکومت گرین لائن بس منصوبے کے مکمل اخراجات برداشت کرے، ان خیالات کا اظہار انھوں نے پیر کو میڈیا سے بات چیت اور وزیراعلیٰ سندھ نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔

حقیقت یہ ہے کہ وفاق سے شکایتوں کے ازالے کے لیے صوبوں کے پاس کئی فورم ہیں جب کہ دوطرفہ بات چیت، مراسلت اور وفود کے ذریعے معاملات طے کرنا صائب ترین طریقہ ہے، بجائے اس کے کہ پیدا شدہ سیاسی اور انتظامی کلچر میں بیان بازی سے تصفیہ طلب امور کو بھی لفظی جنگ کی نذر کردیا جائے جو دانشمندی نہیں ہے، اس لیے احسن طریقہ یہ ہے کہ فریق افہام و تفہیم سے متنازع امور طے کریں۔ وزیراعظم یا متعلقہ وزراتوں اور ذمے داروں سے رابطہ کر کے مفاہمت اور جائز فنڈز کے حصول کو یقینی بنایا جاسکتا ہے۔

نثار احمد کھوڑو کا کہنا ہے کہ وفاقی حکومت کو قابل تقسیم محاصل میں سے سندھ کو 164ارب روپے میں سے 50ارب روپے دینے ہیں جو ابھی تک سندھ کو نہیں دیے گئے، وفاقی حکومت کا سندھ کو مکمل فنڈز فراہم کرنے کا دعویٰ درست نہیں ہے، انھوں نے کہا کہ وفاقی حکومت نے وزیراعظم کی ہدایات پر گرین لائن منصوبے کی پی سی ون تخمینے کی لاگت 16.085بلین روپے کے ساتھ منظور کی تھی، وزیراعظم نے اس پروجیکٹ کو کراچی کے لوگوں کے لیے تحفے کے طور پر اعلان کیا تھا ۔

حکومت سندھ نے گرین لائن بس پروجیکٹ کے تحت بسوں کی مکمل فراہمی اور آپریشنل چارجز کے اخراج پر تحفظات کا اظہار کیا ہے اور مکمل منصوبے کے اخراجات برداشت کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

تاہم مسئلہ فنڈز کے حصول اور منصوبہ کی تکمیل کے عوامی مفاد سے متعلق ایشو کا ہے جسے کسی بھی نشست میں طے کیا جاسکتا ہے، اور پیداشدہ اس تاثر کو بھی دور کیا جاسکتا ہے کہ سندھ حکومت کام نہیں کرتی بس پیسے مانگتی رہتی ہے، اس طرح کے شکایتی اور مطالباتی مسئلہ کا واحد حل بات چیت ہے، اس کے لیے میڈیا سے جذباتی انداز میں رجوع کرنا ضروری نہیں ۔یوں بھی یہ وقت وفاق اور صوبوں کے درمیان خوشگوار اور قابل تقلید مفاہمت بہترین تعلقات کار اور اشتراک عمل کا ہے۔ اور اس کار خیر میں سندھ حکومت بلا تاخیر وفاق سے اپنے شکوے خوشدلانہ انداز میں دور کرے تو احسن اقدام ہوگا ۔