اندرونی مسائل پر قابو پانا ضروری ہے

شمالی وزیرستان میں آپریشن ضرب عضب اس کا اہم مرحلہ ہے اور یہ آپریشن اپنے نتائج کے اعتبار سے انتہائی اہمیت کا حامل ہے


Editorial November 11, 2015
اگر ہم اندرونی مسائل پر قابو پا لیں تو پھر خارجہ معاملات کو سلجھانا کوئی مشکل کام نہیں ہو گا، فوٹو : فائل

وزیراعظم میاں محمد نواز شریف کی صدارت میں پیر کو وزیراعظم ہاؤس اسلام آباد میں اعلیٰ سطح کا اجلاس ہوا۔ اخبارات میں اس اجلاس کے حوالے سے جو اطلاعات شایع ہوئی ہیں' ان میں کہا گیا ہے کہ اس اہم اجلاس میں وزیراعظم میاں محمد نواز شریف ' وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان' وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار' وزیراعظم کے قومی سلامتی کے مشیر لیفٹیننٹ جنرل ناصر جنجوعہ' وزیراعظم کے مشیر برائے خارجہ امور سرتاج عزیز اور طارق فاطمی شریک ہوئے بلکہ پاک فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف' چیف آف جنرل اسٹاف لیفٹیننٹ جنرل زبیر محمود سمیت دیگر سول اور فوجی حکام بھی موجود تھے۔

اس اجلاس میں قومی سلامتی کے امور اور ملک کو درپیش اندرونی و بیرونی چیلنجز پر تبادلہ خیال کیا گیا اور نیشنل ایکشن پلان کے مختلف مراحل کا جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں آرمی چیف جنرل راحیل شریف کے آیندہ دورہ امریکا پر بھی تفصیلی غور کیا گیا۔ اخباری اطلاع کے مطابق اجلا س میں ایک بار پھر واضح کیا گیا کہ پاکستان میں دہشت پھیلانے والے جتھوں کو کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا۔ وزیراعظم میاں محمد نواز شریف نے نیشنل ایکشن پلان پر عملدرآمد تیز کرنے کی بھی ہدایت کی۔

پاکستان اس وقت ایک نئے دور میں داخل ہو رہا ہے' ماضی کی پالیسیوں کی وجہ سے جو مسائل پیدا ہوئے انھیں دور کرنے کی کوششوں کا آغاز ہو چکا ہے' شمالی وزیرستان میں آپریشن ضرب عضب اس کا اہم مرحلہ ہے اور یہ آپریشن اپنے نتائج کے اعتبار سے انتہائی اہمیت کا حامل ہے' اس آپریشن کو ہر صورت میں مکمل طور پر کامیاب ہونا چاہیے، اس طرح نیشنل ایکشن پلان میں جو کچھ طے ہوا ہے' اس پر بھی مکمل عمل ہونا چاہیے کیونکہ ایسا کرنا ملک کی بقا اور سلامتی کے لیے انتہائی ضروری ہے' پاک فوج کے سربراہ امریکا کے پانچ روزہ دورے پر جا رہے ہیں۔

وزیراعظم میاں محمد نواز شریف امریکا کا دورہ کر کے آئے ہیں' یہ دورے بھی بہت اہمیت کے حامل ہیں اور یہاں بہت کچھ زیر بحث آیا ہو گا اور آیندہ بھی زیر بحث آئے گا۔ لہٰذا پاک فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف کا دورہ امریکا اپنے نتائج اور اثرات کے حوالے سے انتہائی اہمیت کا حامل ہو گا۔پاکستان داخلی طور پر دہشت گردی کے خلاف جنگ میں مصروف ہے' کراچی میں بھی آپریشن جاری ہے جس کے مثبت نتائج سامنے آ رہے ہیں اور کراچی میں کاروباری سرگرمیاں خاصی حد تک بحال ہو گئی ہیں،امن و امان کی صورت حال بھی خاصی بہتر ہے جب کہ بلوچستان میں بھی شرپسندوں کے خلاف کارروائیاں جاری ہیں۔

یہاں بھی شرپسند عناصر پسپا ہوئے ہیں۔صوبائی حکومت خاصی بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کر رہی ہے۔ملک بھر کا جائزہ لیا جائے تو یہ حقیقت سامنے آتی ہے کہ ہر جگہ دہشت گرد پسپا ضرور ہوئے ہیں لیکن وہ مکمل طور پر ختم نہیں ہوئے ہیں' اس کا ثبوت یہ ہے کہ وہ کئی کارروائیاں کر چکے ہیں' جن میں سب سے بڑی کارروائی پنجاب کے وزیر داخلہ شجاع خانزادہ کی شہادت ہے' دہشت گردی کے خاتمے کے لیے جہاں فوجی آپریشن ضروری ہے۔

وہاں سول اداروں اور جمہوری طرز پر منتخب پارلیمانی اداروں کی بھی بھاری ذمے داری ہے کہ وہ ملک کو دہشت گردی' انتہا پسندی اور کرپشن جیسے ناسور کو ختم کرنے میں اپنا کردار ادا کریں' سول ادارے اور جمہوری ادارے اپنی ذمے داریوں سے بھاگ نہیں سکتے' قومی اسمبلی' سینیٹ اور صوبائی اسمبلیاں اگر اپنی مراعات میں اضافے کرتی رہیں گی یا مخصوص طبقات کے مفادات کے تحفظ کے لیے قانون سازی کرتی رہیں گی اور اصل معاملات پر خاموش رہیں گی تو پھر اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ اپنا کردار ادا نہیں کر رہیں' سیاسی جماعتیں بھی محض اقتدار کا کھیل کھیلیں تو بھی اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ اصل مسائل کا یا تو ادراک نہیں رکھتیں یا پھر انھیں دور کرنا نہیں چاہتیں۔

اسی طرح ریاست کے سول اداے بھی اپنی ذمے داریوں سے بھاگ نہیں سکتے' بیورو کریسی بھی ملک کے مسائل کی ذمے دار ہے' اگر اعلیٰ سول افسران بھی دقیانوسی سوچ و فکر کے تابع رہیں گے اور افسروں کی ساری توجہ اپنے ذاتی مفادات کے گرد گھومے گی تو پھر ملک سے دہشت گردی کا خاتمہ ممکن نہیں' اعلیٰ اور ماتحت عدلیہ کو بھی اپنی ذمے داریاں پوری کرنا ہوں گی۔

یوں دیکھا جائے تو ریاست کاہر ادارہ اگر اپنی اپنی حدود میں رہ کر آئین و قانون کی سربلندی' جمہوری اقدار کی پاسبانی اور پرامن بقا ئے باہمی کے اصول کے ماتحت اپنا کردار ادا کرے تو وطن عزیز سے دہشت گردی اور انتہا پسندی کا خاتمہ ممکن بنایا جا سکتا ہے' اگر ہم اندرونی مسائل پر قابو پا لیں تو پھر خارجہ معاملات کو سلجھانا کوئی مشکل کام نہیں ہو گاکیونکہ خارجہ محاذ پر بھی مسائل اندرونی مسائل سے جڑے ہوئے ہیں۔