میانمار الیکشن میں آنگ سان سوچی کی کامیابی

میانمارکےانتخابات کےنتائج کی روشنی میں اپوزیشن لیڈرآنگ سان سوچی کی فاتحانہ پیش قدمی ایک تاریخ سازعہد کی طرف اہم قدم ہے


Editorial November 11, 2015
اتوار کو ہونے والے انتخابات میں ملک کے 80 فیصد شہریوں نے ووٹ ڈالے۔ فوٹو : فائل

میانمار کے انتخابات کے نتائج کی روشنی میں اپوزیشن لیڈر آنگ سان سوچی کی فاتحانہ پیش قدمی ایک تاریخ ساز عہد کی طرف اہم قدم ہے۔ لیکن ان کے اس اعلان پر کہ وہ ''صدارت سے بالاتر'' رہیں گی، برما کی ہمہ وقت طاقتور فوج اور اس کے جرنیلوں کے شدید رد عمل آنے کا اندیشہ ہے، اور آیندہ کی پر جوش سیاسی صورتحال ہی میانمار کی سیاسی حرکیات کا صحیح رخ متعین کرسکے گی۔

انتخابی نتائج کے مطابق میانمار میں حزب اختلاف کی جماعت نیشنل لیگ فار ڈیموکریسی نے ملک میں 25 سال بعد ہونے والے آزادانہ انتخابات میں بھاری اکثریت حاصل کی ہے ، نتائج کے سرکاری اعلان سے قبل سوچی نے بھی دعویٰ کیا ہے کہ وہ بھاری اکثریت سے کامیابی حاصل کر رہی ہے، اب تک صرف ینگون شہر کی 12 نشستوں کے نتائج کا اعلان ہوا ہے اور ان تمام نشستوں پر این ایل ڈی کے امیدواروں نے کامیابی حاصل کی ہے، دوسری طرف حکمران جماعت یو ایس ڈی پی کے قائم مقام چیئرمین تھے اؤ نے تسلیم کیا ہے کہ وہ اپنی نشست این ایل ڈی کے امیدوارسے ہارگئے ہیں ۔

انٹرنیشنل کرائسس گروپ کے نمایندہ کا کہنا ہے کہ آنگ سان سوچی کی کامیابی جرنیلوں کی برہمی کا باعث بنے گی، میانمار کی سیاست خاصی پر آشوب رہی ہے جب کہ سوچی نے پس زندان اور قید تنہائی میں رہتے ہوئے جیسی ولولہ انگیز اور تہلکہ خیز مزاحمتی اور جارحانہ جمہوری جدوجہد کی ہے اسے عہد حاضر کی برمی سیاسی تاریخ کبھی فراموش نہیں کرسکتی۔ برما میں آئین کے مطابق منتخب اسمبلی میں ایک چوتھائی نشستیں فوج کے لیے مختص ہیں، این ایل ڈی کو ایوان میں واضح اکثریت کے لیے جن نشستوں پر انتخابات ہو رہے ہیں ان میں دو تہائی پر کامیابی حاصل کرنا ہو گی۔

بی بی سی کا کہنا ہے آنگ سان سوچی کے لیے صدر بننے میں ایک اور رکاوٹ آئین کی وہ شق ہے جس کے تحت کوئی بھی شخص جس کے کسی غیر ملکی سے بچے ہوں، وہ ملک کا صدر نہیں بن سکتا، آنگ سان سوچی کے برطانوی شوہر سے دو بچے ہیں۔ اتوار کو ہونے والے انتخابات میں ملک کے 80 فیصد شہریوں نے ووٹ ڈالے، ایک اندازے کے مطابق میانمار میں تین کروڑ افراد نے حقِ رائے دہی استعمال کیا۔

این ایل ڈی کی کامیابی جمہوریت پسندوں کی عظیم پیش رفت ہے اور میانمار کے ووٹرز نے اپنا حق رائے دہی جس جرات ، شان اور عزم کے ساتھ ادا کیا ہے اب دیکھنا یہ ہے کہ میانمار کے سیاسی طاقت کے توازن کی کیا قابل عمل شکل بنتی ہے اور اپوزیشن لیڈرآنگ سان سوچی کو کتنی آزادی کے ساتھ حقیقی اقتدار نصیب ہوتا ہے۔