لبرل جمہوری پاکستان
ہم اپنے معاشرے کے کسی طبقے میں انتہاپسندی اور دہشت گردی کے زہر کو پھیلنے نہیں دیں گے،
عوام کا مستقبل جمہوری اور لبرل پاکستان میں ہے، ہم اپنے معاشرے کے کسی طبقے میں انتہاپسندی اور دہشت گردی کے زہر کو پھیلنے نہیں دیں گے، مشکل فیصلے معاشی بحالی کا باعث ہیں۔ وزیراعظم نواز شریف نے اسلام آباد میں ہونے والی سرمایہ کاری کانفرنس میں اپنے خطاب میں ریاست کے خدوخال اور انتہاپسندی کے نقصانات کے بارے میں اپنے وژن کا اظہار کیا۔
پاکستان دنیا کے ان چند ممالک میں شامل ہے جو سیاسی جماعتوں کی جدوجہد اور ووٹ کے حق کے استعمال کے ذریعے وجود میں آئے۔ پاکستان کے بانی قائداعظم محمد علی جناح ہمیشہ جمہوریت کے داعی رہے۔ انھوں نے جمہوری جدوجہد کو اپنے مقاصد کے حصول کا ذریعہ بنایا۔ جناح صاحب نے ایک لبرل مسلمان کی حیثیت سے زندگی گزاری۔ ان کے خاندان کا تعلق اثنا عشری شیعہ فرقے سے تھا۔ وہ ابتدائی دور میں پارسی رہنما دادا بھائی نوروجی سے متاثر ہوئے۔
پھر ایک پارسی نوجوان لڑکی کو اپنی شریک حیات منتخب کیا اور مسلمان عورتوں کی اپنی پسند کی شادی کے حق کے لیے آواز اٹھائی۔ جب انگریز حکومت نے کمسن بچیوں کی شادی کو غیر قانونی قرار دیا تو ہندو انتہاپسندوں نے اس پابندی کے خلاف فضا ہموار کرنے کی کوشش کی۔ بعض مسلمان علما بھی حکومت کے ہندومت کے معاملات میں مداخلت کے خلاف تھے اور وہ شادی کی عمر کے تعین کو اپنی شریعت کے خلاف سمجھتے تھے مگر محمد علی جناح واحد مسلمان رہنما تھے جنھوں نے کمسن بچیوں کی شادی کے خلاف قانون کی حمایت کی۔
جب مولانا محمد علی جوہر نے خلافت تحریک شروع کی تو جناح صاحب نے اس تحریک کو خلاف عقل اور بلاجواز قرار دیا۔ وہ سمجھتے تھے کہ اب خلافت کا ادارہ فرسودہ ہوچکا ہے اور اس کی بحالی جدید دور کے تقاضوں کے مطابق نہیں ہوگی۔ محمد علی جناح کانگریس کے اجلاس میں شرکت کے لیے گئے اور اس اجلاس میںان کا مولانا شوکت علی سے مباحثہ ہوا۔ یوں یہ قائداعظم کا کانگریس میں آخری اجلاس ثابت ہوا۔
قائداعظم نے مسلم لیگ کی تنظیم اس طرح کی جس طرح کی تنظیم برطانیہ کی سیاسی جماعتوں نے کی تھی۔ جب مسلم لیگ نے انگریزی زبان میں اپنا ترجمان اخبار ڈان شایع کرنے کافیصلہ کیا تو قائداعظم ڈان کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کے چیئرپرسن مقرر ہوئے۔ جناح صاحب نے چیئرپرسن کی حیثیت سے پہلا کام ایک عیسائی صحافی پوتھن جوزف کو ڈان کا ایڈیٹر تقرر کر کے کیا۔ پھر ڈان کے ایڈیٹر کو مکمل ادارتی آزادی Editorial Freedom دی تھی۔
جناح صاحب خواتین کی آزادی اور ان کی مردوں کے شانہ بشانہ شرکت کے بھرپور حامی تھے۔ جناح صاحب نے اپنی اہلیہ رتی بائی کو اپنے سیاسی کاموں میں شریک کیا۔ جب 30 کی دہائی میں برطانوی ہند حکومت نے بمبئی کرانیکل کے ایڈیٹر مسٹر ہیورمین کو ہندوستان بدر کیا تو بمبئی کے شہریوں نے احتجاجی تحریک شروع کی۔ اس تحریک میں رتی نے بھرپور شرکت کی۔ وہ احتجاجی جلوس میں اپنے شوہر کا ہاتھ پکڑ کر شریک ہوئیں۔
رتی جناح کے بارے میں مشہور تھا کہ وہ بمبئی کی جدید لباس زیب تن کرنے والی چند خواتین میں سے تھیں۔ بمبئی کے ایک گورنر کی اہلیہ نے ان کے مغربی لباس پہننے پر ایک دعوت میں اعتراض کیا تھا تو جناح صاحب اپنی اہلیہ کے ساتھ اس دعوت سے واک آؤٹ کرکے چلے گئے تھے۔ جناح صاحب نے اپنی اہلیہ سے علیحدگی کے بعد اپنی چھوٹی ہمشیرہ فاطمہ کو اپنے ساتھ رکھا اور تحریک پاکستان کے ہر اہم موڑ پر وہ اپنے بھائی کے ہم رکاب رہیں۔ فاطمہ جناح نے پاکستان میں جمہوریت کے لیے جدوجہد کی اور پہلے فوجی ڈکٹیٹر جنرل ایوب خان کو چیلنج کیا۔ بہت سے سیاسی تجزیہ نگار اس رائے پر متفق ہیں کہ اگر فاطمہ جناح 1964 کے صدارتی انتخابات میں کامیاب ہوجاتیں تو مشرقی پاکستان میں احساس محرومی کبھی پیدا نہ ہوتا اور پھر 1971 میں بنگلہ دیش وجود میں نہ آتا۔
قائداعظم نے پہلی کابینہ میں خارجہ اور قانون کی وزارتیں اقلیتی فرقوں کے نمایندوں کو دیں۔ پاکستان میں عوام نے فوجی آمریتوں کے خاتمے اور جمہوریت کی بحالی کے لیے طویل جدوجہد کی۔ ان تحریکوں کی قیادت لبرل اور پروگریسو جماعتوں نے کی۔ اس جدوجہد کے نتیجے میں ایوب، یحییٰ خان اور ضیاء الحق کی آمریتیں ختم ہوئیں۔
ملک میں پہلی دفعہ سیاستدانوں نے 1973 کا آئین بنایا۔ 1973 کے اصل آئین میں شہریوں کو مذہب، نسل اور جنس کے امتیاز کے بغیر یکساں حقوق دیے گئے تھے مگر بعد میں رجعت پسند گروہوں کے دباؤ پر آئین میں ترامیم ہوئیں اور شہریوں کے درمیان امتیاز پیدا ہوا اور آبادی کا ایک حصہ بنیادی حقوق سے محروم ہوا۔ جنرل ضیاء الحق کا دور کئی اعتبار سے تباہی کا دور تھا۔ جنرل ضیاء الحق نے ایک طرف آئین معطل کر کے قانون کی بالادستی کوختم کردیا تھا اور پھر امریکا کی خفیہ ایجنسی سی آئی اے نے سوویت یونین کے خلاف افغانستان میں محاذ شروع کیا تو مذہب کو بطور ہتھیار استعمال کرنے کی حکمت عملی اختیار کی گئی، یوں انتہاپسندوں کی حوصلہ افزائی شروع کی گئی۔
اسامہ بن لادن سمیت بہت سے انتہاپسندوں کو ملک میں جمع کیا گیا۔ مدرسوں کا ملک بھر میں جال بچھایا گیا، تعلیمی اداروں کے نصاب میں سائنسی طرز فکر کو ختم کرنے کی سوچی سمجھی پالیسی اختیار کی گئی۔ اس صورتحال میں ملک فرقہ وارانہ کشیدگی کا شکار ہوا۔ ایران اور عراق کی پراکسی وار کراچی کی سڑکوں پر لڑی گئی، پھر سوویت یونین تو ختم ہوا مگر افغانستان اور پاکستان میں مسلح غیر ریاستی کردار Non State Actors وجود میں آگئے۔
نائن الیون کا سانحہ تو نیویارک میں ہوا مگر اس دہشت گردی سے افغانستان اور پاکستان براہِ راست متاثر ہوئے۔ لاکھوں شہری اور فوجی، رینجرز اور پولیس کے ہزاروں نوجوان اس جنگ کا شکار ہوئے۔ پاکستان دہشت گردی کے حوالے سے دنیا بھر میں بدنام ہوا۔ اس مذہبی انتہاپسندی کا شکار بے نظیر بھٹو، بشیر بلور، سلمان تاثیر، راشد رحمن، ڈاکٹر شکیل اوج اور ڈاکٹر وحید الرحمن جیسے سیاستدان، اساتذہ اور صحافی بھی ہوئے۔ فوج نے آپریشن شروع کر کے انتہاپسندوں کی کمین گاہوں کو ختم کیا۔
پاکستان اس وقت مذہبی انتہاپسندی کے خلاف جنگ میں مصروف ہے۔ اس جنگ میں دشمن اندر سے حملہ کررہا ہے۔ یہ حملہ ہتھیاروں سے زیادہ مخصوص ذہن کا حملہ ہے۔ اس مخصوص ذہن کے خاتمے کے لیے ایک لبرل جمہوری پاکستان کی ضرورت ہے۔ وزیراعظم نواز شریف کی یہ بات درست ہے کہ عوام کا مستقل جمہوری اور لبرل پاکستان میں ہی ہے اور تصور قائداعظم کے پاکستان کے وژن کے مطابق ہے۔
قائداعظم نے 11اگست 1947کو آئین ساز اسمبلی کے افتتاحی اجلاس میں اپنے صدارتی خطبے میں یہی کچھ فرمایا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کے تمام شہریوں کے ساتھ مذہب، ذات اور جنس کی بنا پر امتیاز نہیں ہوگا، اس امتیاز کو ختم کر کے دہشت گردوں کا خاتمہ ہوسکتا ہے۔