دہشت گردی کے خلاف اقدامات اور حقائق

دہشت گردی ایک عفریت اور ناگہانی بلاؤں کی طرح سے پاک وطن کے وجود سے چمٹی ہوئی ہے،


Editorial November 12, 2015
دہشت گرد کراچی میں اپنے قدم جمانے میں کسی طور کامیاب نہیں ہونے چاہیے، وہ شہر قائد میں سرگرم رہے تو مشکلات میں اضافہ ہوگا۔ فوٹو: آئی ایس پی آر

پاک فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف نے کہا ہے کہ ملک میں دیرپا اور پائیدار امن یقینی بنانے کے لیے فوجی آپریشن کے برابر حکومتی اقدامات بھی ضروری ہیں، انھوں نے کہا کہ دہشتگردی اور شدت پسندی کے خاتمے کے لیے جاری آپریشن میں پوری قوم کی حمایت حاصل ہے۔ کورکمانڈرز کانفرنس میں آرمی چیف کے مجوزہ دورہ امریکا کے حوالے سے بریفنگ دی گئی اور اس دورے کے دوران پاکستانی موقف پر بھی غور کیا گیا جہاں وہ نئی ابھرتی ہوئی علاقائی حقیقتوں میں پاکستان کے تناظر کو واضح طور پر اجاگر کریں گے۔ آرمی چیف نے شرکا کو اپنے دورہ سعودیہ پر اعتماد میں لیا۔

آرمی چیف کے 15 سے 20 نومبر تک امریکا کے مجوزہ دورہ سے قبل کور کمانڈرز کانفرنس کا انعقاد ملکی سیکیورٹی ایشوز کے حوالہ سے انتہائی اہم ہے جس میں قومی ایکشن پلان سمیت متعدد امور زیر غور لائے گئے۔ یہ امور ملک کو دہشت گردی و کرپشن سے پاک جمہوری ٹریک پر لانے اور ادارہ جاتی استحکام کے حصول سے متعلق ہیں۔

فوج کا فاٹا کے حساس علاقے میں آپریشن ضرب عضب کے جملہ فوائد کے تناظر میں نیشنل ایکشن پلان پر موثر اور پر عزم طور پر عملدرآمد پر زور دینا اس لیے وقت کا تقاضا ہے کہ ریاست مخالف طاقتیں اس کوشش میں ہیں کہ دہشت گردی ، انتہا پسندی، فرقہ واریت کا چلن عام ہو، داخلی امن و امان کی صورتحال میں دراڑ ڈالی جائے اور سیاسی و عسکری قیادت کے درمیان مثالی ہم آہنگی کو بلڈوز کیا جائے جو فوجی آپریشن اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے مشترکہ میکنزم کے باعث ممکن نہیں ، چنانچہ ناکامی و نامرادی سے ان میں جھنجھلاہٹ کا پیدا ہونا فطری ہے۔

اسی چیز کو مد نظر رکھتے ہوئے آرمی چیف نے دہشت گردی کے خلاف قومی اہداف تک رسائی میں دور رس حکومتی اقدامات کی ضرورت پر زور دیا ہے جس کا مقصد دو طرفہ قومی ایکشن پلان ملک دشمنوں کے عزائم کی راہ میں آہنی دیوار بنی رہے اور داخلی امن و استحکام کو یقینی بنا کر انتہا پسندوں کی تخریب کاری اور دہشتگردی کا ہر راستہ بند کردیا جائے، جس کے لیے عسکری اور سیاسی سوچ اور حکمت عملی انتظامی اقدامات کی نتیجہ خیزی کی سطح پر ہر شک و شبہ سے بالاہو تاکہ مجرمانہ نیٹ ورکس کے خلاف مسلسل کریک ڈاؤن کی شفافیت کے معاملہ میں مخالف عناصر کو کھل کھیلنے کا موقع نہ مل سکے کیونکہ ان گمراہ قوتوں کے خلاف محاصرہ تنگ ہوچکا ہے۔

ان کی کمر ٹوٹ چکی ہے۔ آئی ایس پی آر کے مطابق آرمی چیف نے جاری آپریشن، خفیہ اطلاعات پر کارروائیوں میں حاصل کی جانیوالی کامیابیوں اور اس کے بعد کے اثرات پر جو اطمینان ظاہر کیا ہے اس عمل کو مزید تقویت ملنی چاہیے ۔ جمہوری عمل کو عوامی زندگی میں دوڑتے خون کی حیثیت حاصل ہونی چاہیے، تاہم مشترکہ تحقیقاتی ٹیموں (جے آئی ٹیز) کی انکوائریاں جلد اور ترجیحی بنیادوں پر مکمل کی جائیں ، ان کو جلد مکمل نہ کیا گیا تو ملک میں جاری آپریشن متاثر ہونگے ۔اسی اندیشہ کو رفع کرنے اور شدت پسندی اور دہشتگردی کے خاتمے کے لیے جاری آپریشن میں عوامی حمایت کے ساتھ مناسب گورننس کی بھی اشد ضرورت ہے۔

وفاقی وزیر پانی و بجلی و دفاع خواجہ محمد آصف نے کہا ہے کہ قومی ایشوز پر سیاسی و عسکری قیادت ایک صفحے پر ہے، حکومت اپنی کارکردگی کے حوالے سے عوام کو جوابدہ ہے، تاہم ادھر افغان صدر اشرف غنی نے افغانستان میں پائیدار امن کے لیے پاکستان کو کردار ادا کرنے کا پھر سے مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان افغانستان کی سرزمین پر دہشت گردانہ کارروائیاں کرنے والے دہشت گرد گروپوں کے خاتمے کے لیے سنجیدہ اقدامات اٹھائے، منگل کو ایوان صدر سے جاری بیان کے مطابق افغان صدر اشرف غنی نے یہ بات چین کے نمایندہ خصوصی برائے پاکستان و افغانستان ڈینگ ژن سے ملاقات میں کہی جب کہ افغانستان پر لازم ہے کہ وہ مفرور طالبان کمانڈرز اور دہشت گردوں کو پاکستان کے حوالہ کر کے دوطرفہ سلامتی کو یقینی بنانے میں پاکستان کی مدد کرے۔ پاکستان تو دہشت گردوں کے خلاف ایکشن لے رہا ہے۔

گلشن اقبال کراچی کی کارروائی اس کا ثبوت ہے جس میں حساس ادارے کے ہاتھوں18 اگست 2015 کو مقابلے میں ہلاک ہونے والا کالعدم القاعدہ کارکن صالح محمد کے بارے میں انکشاف ہوا ہے کہ وہ امریکا پر9/11 کے حملے کے مرکزی کردار خالد شیخ کا بھانجا تھا اور اس کا اصل نام ادریس بلوچ ہے۔ یہ اہم کامیابی ہے مگر ایکشن پلان تیزی سے جاری رہنا چاہیے، دہشت گرد کراچی میں اپنے قدم جمانے میں کسی طور کامیاب نہیں ہونے چاہیے، وہ شہر قائد میں سرگرم رہے تو مشکلات میں اضافہ ہوگا۔ ابھی وہ منزل دور ہے جس میں ایک محفوظ پاکستان پر یقین محکم کا بھرپور اظہار کیا جائے۔

پاکستان کو داخلی محاذ کے ساتھ خارجی چیلنجوں کا بھی سامنا ہے، مثلاً بھارتی اخبار ٹائمز آف انڈیا نے واویلا مچایا ہے کہ پاکستان ایک دہائی میں چین، فرانس اور برطانیہ کو پیچھے چھوڑتے ہوئے امریکا اور روس کے بعد تیسری بڑی جوہری طاقت بن جائے گا۔ ارباب اختیار عالمی اور خطے کی صورتحال کے تناظر میں داخلی سیاسی و سماجی استحکام پر توجہ مرکوز کریں ، دہشت گردی ایک عفریت اور ناگہانی بلاؤں کی طرح سے پاک وطن کے وجود سے چمٹی ہوئی ہے، اس وجودی خطرہ سے نمٹنے میں مستعدی ناگزیر ہے۔