پاک بیلاروس اقتصادی معاہدے خوش آیند

دونوں ممالک کےدرمیان گزشتہ چھ ماہ کےدوران یہ اعلیٰ سطح پرتیسرا دورہ ہےجومضبوط تعلقات کو آگےبڑھانے کی اہمیت کا غماز ہے۔


Editorial November 12, 2015
پاکستان بیلاروس کے درمیان اقتصادی تعاون کا روڈ میپ دونوں ممالک کے درمیان تجارتی تعلقات کو نئی بلندیوں تک لے جانے میں معاون ہوگا۔ فوٹو : فائل

KARACHI: پاکستان اور بیلاروس نے کثیرالجہتی شعبوں پر محیط ٹھوس فریم ورک کے حامل ''روڈ میپ برائے اقتصادی تعاون'' پر اتفاق اور صنعت، زراعت اور انفراسٹرکچر کی ترقی پر توجہ مرکوز کرتے ہوئے دو طرفہ تجارتی حجم کو ایک ارب ڈالر تک بڑھانے کے عزم کا اظہار کیا ہے، جو دونوں ممالک کے تعلقات اور اقتصادی ترقی کے لیے خوش آیند ثابت ہوں گے۔

واضح رہے کہ دونوں ممالک کے درمیان باہمی تعاون کے 17 مختلف معاہدوں پر دستخط ہوئے ہیں۔ وزیراعظم محمد نواز شریف اور بیلاروس کے وزیراعظم آندرے کوبیاکوف نے منگل کو ایوان وزیراعظم میں تفصیلی مذاکرات کے بعد ذرایع ابلاغ سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ انھوں نے بہت مفیدگفت و شنیدکی ہے جس میں دوطرفہ تعاون اور باہمی روابط کو مزید تقویت دینے کے لیے ٹھوس اقدامات پر اتفاق ہوا ہے۔

دونوں ممالک کے درمیان گزشتہ چھ ماہ کے دوران یہ اعلیٰ سطح پر تیسرا دورہ ہے جو مضبوط تعلقات کو آگے بڑھانے کی اہمیت کا غماز ہے۔ یہ امر خوش آیند ہے کہ دوطرفہ روابط کے فروغ کے لیے کئی اقدامات اٹھائے جا رہے ہیں جن میں تجارت، صنعت، زراعت، تعلیم سمیت مختلف شعبہ جات پر توجہ مرکوز کی گئی ہے۔ وزیراعظم نواز شریف نے عندیہ دیا کہ ہم باہمی مفاد میں اپنے تعلقات کو نئی بلندیوں تک لے جانے کا عزم رکھتے ہیں۔

بیلاروس کے وزیراعظم آندرے کوبیاکوف کا بھی کہنا تھا کہ ان کے دورے کا محور تجارت اور سرمایہ کاری میں دونوں ممالک کے درمیان تعاون کو فروغ دینا ہے۔ بیلاروس کے وزیراعظم نے پاکستان میں بیلاروسی ٹریکٹروں، گاڑیوںکی تیاری، سڑکوںکی تعمیر اور کان کنی کے سازوسامان کے لیے مشترکہ منصوبوں کے قیام کی پیشکش بھی کی ہے۔

بیلاروسی وزیراعظم کا یہ کہنا صائب ہے کہ وہ اپنے لیے پاکستان کو جنوبی ایشیا تک رسائی کا دریچہ تصور کرتے ہیں جب کہ پاکستان بھی یورپ تک رسائی کے لیے بیلاروس کو دریچے کے طور پر استعمال کرسکتا ہے۔ دونوں اطراف زراعت، خوراک اور ڈیری کے شعبوں میں مشترکہ منصوبوں کے مواقع کی بھی حامل ہیں، بظاہر 60 ملین ڈالر کی تجارت بہت کم دکھائی دیتی ہے تاہم دونوں ممالک تجارت کو بآسانی ایک ارب ڈالر تک لے جانے کے لیے تمام بنیادی تقاضوں کے حامل ہیں۔

ترقی کی راہ پر گامزن رہنے کے لیے بین الاقوامی طور پر دیگر ریاستوں سے اقتصادی تعاون وقت کی اہم ضرورت ہے۔ امید کی جاتی ہے کہ پاکستان بیلاروس کے درمیان اقتصادی تعاون کا روڈ میپ دونوں ممالک کے درمیان تجارتی تعلقات کو نئی بلندیوں تک لے جانے میں معاون ہوگا۔