افغانوں کو شناختی کارڈ کا اجرا کیوں

فاٹا میں نادرا حکام پیسے لے کر افغان باشندوں کو شناختی کارڈ جاری کر رہے ہیں۔


Editorial November 12, 2015
بہر کیف غیر ملکیوں کو شناختی کارڈ کے اجرا کی مکمل حوصلہ شکنی ہونی چاہیے، یہ ملکی سالمیت اور قومی وقار کا معاملہ ہے۔حکام ادراک کریں۔ فوٹو : فائل

KARACHI: قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کے اجلاس میں ارکان نے بتایا کہ فاٹا میں نادرا حکام پیسے لے کر افغان باشندوں کو شناختی کارڈ جاری کر رہے ہیں۔ یہ انکشاف اس وقت ہوا جب ارکان وزارت داخلہ کے حکام اور ذیلی اداروں کے ناروا سلوک پر برہم ہوئے۔

حقیقت پوچھی جائے تو سب اس بات سے اتفاق کریں گے کہ غیر ملکیوں خاص طور پر افغانوں کو شناختی کارڈ کے اجرا میں کسی قومی حمیت اور پیشہ ورانہ دیانتداری کا لحاظ نہیں رکھا جاتا ، یہ سلسلہ برس ہا برس سے جاری ہے حتیٰ کہ جعلی شناختی کارڈ کے اجرا سے لے کر ہنگامی طور پر غیر ملکیوں اور منظور نظر افغانوں کو شناختی کارڈ جاری کیے جاتے رہے ، محض چند روپوں کی خاطر، بعد میں انھی شناختی کارڈز پر پاکستانی پاسپورٹ بنتے ہیں اور پھر مذموم دھندوں اور منشیات وغیرہ کی اسمگلنگ میں جو لوگ سعودی عرب، یورپ یا دیگرممالک میں پکڑے جاتے ہیں تو وطن عزیز کے پاسپورٹ کی تقدیس مجروح ہوتی ہے اور ملک کی بدنامی الگ ہوتی ہے۔

افسوس ہے کہ اجلاس میں یقین دہانی کے باوجود چیئرمین نادرا شریک نہیں ہوئے ، تاہم انھیں ایک اور وارننگ دیدی گئی، ارکان کا کہنا تھا کہ یہ تیسری بار ہے کہ چیئرمین نادرا کمیٹی کا استحقاق مجروح کر رہے ہیں۔ کمیٹی کا اجلاس چیئرمین رانا شمیم کی زیرصدارت ہوا، اجلاس میں بعض ارکان اسمبلی کا کہنا تھا کہ فاٹا میں نادرا حکام پیسے لے کر افغانوں کو شناختی کارڈ جاری کر رہے ہیں جب کہ قبائلی شہری جن میں انجینئرنگ اور میڈیکل کے طالبعلم بھی شامل ہیں ان کو شناختی کارڈ جاری نہیں کیے جا رہے، نادرا کا عملہ پولیٹیکل ایجنٹ کے ساتھ مل کرمبینہ کرپشن کرتا ہے۔آن لائن کے مطابق کمیٹی نے ملک بھرمیں جعلی شناختی کارڈکے اجراء کی تحقیقات کے لیے4رکنی سب کمیٹی تشکیل دیدی ہے جونادرا ہیڈکوارٹرکا دورہ کریگی ۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ وزیر داخلہ چوہدری نثار کا بیان اسی روز صفحہ اول پر چھپا ہے کہ نادرا سے کرپٹ مافیا کا خاتمہ کردیا گیا اور پاسپورٹس اور نادرا کے حوالے سے 8 ماہ میں ملک میں بڑی تبدیلی آئے گی ، اسے بدنام کرنے والوں کو اللہ سچ بولنے کی توفیق دے۔

خدا کرے اس خوشخبری سے ملک گیر سطح پر سرکاری اداروں میں شفافیت اور فرض شناسی کی قندیلیں جل اٹھیں ۔لیکن اب یہ بات تحقیق سے ثابت ہونی چاہیے کہ قائمہ کمیٹی کے باضمیر اور ذمے دار ارکان کا انکشاف الزامات پر مبنی ہے یا حقائق کچھ اور کہتے ہیں۔ بہر کیف غیر ملکیوں کو شناختی کارڈ کے اجرا کی مکمل حوصلہ شکنی ہونی چاہیے، یہ ملکی سالمیت اور قومی وقار کا معاملہ ہے۔حکام ادراک کریں۔