دنیا جہنم کیوں بنی ہوئی ہے
ہم ان کی مجبوری کو نظر انداز کر کے انھیں حقارت سے درندوں کا نام دیتے ہیں
KARACHI:
اگر سنجیدگی سے دنیا کے منظرنامے پر نظر ڈالیں تو یہ محسوس ہوتا ہے کہ یہ دنیا اشرف المخلوقات کی نہیں ہے بلکہ اس دنیا میں ایسے درندے رہتے ہیں جو جنگل کے درندوں سے زیادہ وحشی ہیں۔ جنگل کے جانوروں کو درندے اس لیے کہا جاتا ہے کہ وہ اپنا پیٹ بھرنے کے لیے، اپنی بھوک مٹانے کے لیے دوسرے جانوروں کا شکار کرتے ہیں، ان کا نظام ہضم قدرتی طور پر ایسا بنا ہوا ہے کہ وہ گھاس وغیرہ نہیں کھا سکتے، یہ ان کی مجبوری ہے کہ وہ اپنا پیٹ بھرنے کے لیے جانوروں، جانداروں کا شکار کریں۔
ہم ان کی مجبوری کو نظر انداز کر کے انھیں حقارت سے درندوں کا نام دیتے ہیں، یہ درندے بس اتنا کھاتے ہیں کہ ان کا پیٹ بھر جائے، اگر ان کا پیٹ بھرا ہوا ہو تو وہ سامنے سے گزرنے والے جانور کو بھی نہیں چھیڑتے۔ یہ درندے ہیں جن سے ہم خوف زدہ رہتے ہیں، جن کا سامنا کرنے سے ہم کپکپاتے ہیں، اس طریقہ زندگی کو ہم جنگل کا قانون کہہ کر اپنی نفرت کا اظہار کرتے ہیں، ہم انسان ہیں، ہم مہذب ہیں، ہم اشرف المخلوقات ہیں، ہم بھی جانوروں کا گوشت کھاتے ہیں، اس کو مزیدار بنانے کے لیے طرح طرح کے پکوان کرتے ہیں، سیخ بوٹی بناتے ہیں، کباب بناتے ہیں، ملائی بوٹی بناتے ہیں۔
تکے بناتے ہیں، مرغی روسٹ کرتے ہیں، گولا کباب بناتے ہیں، شامی کباب بناتے ہیں یہ سب جانوروں کے گوشت سے بناتے ہیں، ہمارا نظام ہضم ایسا ہے کہ ہم دالوں اور سبزیوں پر گزرا کر سکتے ہیں لیکن گوشت کی لذت نہ دالوں میں آتی ہے نہ سبزیوں میں، گوشت میں غذائیت بہت ہوتی ہے، اس لیے ہم گوشت کھاتے ہیں، درندوں کی طرح ہم جانوروں پر حملہ کر کے انھیں چیرتے پھارٹے نہیں، بلکہ جانوروں کے پاؤں باندھ کر انھیں گراتے ہیں، پھر ان کے گلے پر چھری پھیرتے ہیں، کیوں کہ ہم مہذب انسان اور اشرف المخلوقات ہیں۔
اب ذرا دنیا کے منظرنامے پر نظر ڈالیے، انسانی تاریخ پر نظر ڈالیے، دنیا کی تاریخ جنگوں، نفرتوں، خون خرابوں سے بھری ہوئی نظر آئے گی، طاقتور ملک کمزور ملکوں پر حملے کرتے نظر آئیں گے اور ان جنگوں میں انسانی سروں کے مینار بناتے اور قتل عام کرتے نظر آئیں گے۔
ماضی کے انسانوں کے پاس نہ ٹی ٹی تھی، نہ کلاشنکوف، نہ F-16 تھے، نہ مگ 21 تھے، نہ ٹینک تھے، نہ راکٹ، نہ میزائل، نہ ایٹم بم، ماضی کی جنگوں میں دست بدست لڑائی ہوتی تھی، تلوار ہوتی تھی، جس سے دشمنوں کے سر کاٹے جاتے تھے، نیزے تیر اور بلم ہوتے تھے، جس سے انسانوں کے جسم چیرے جاتے تھے، انسان انسان کے کشتوں کے پشتے لگاتا تھا اور کشتوں کے پشتے لگانے والا بہادر کہلاتا تھا۔ اب بیسویں اور اکیسویں صدی کے انسان نے ایسے جدید ترین ہتھیار بنا لیے ہیں کہ ہزاروں لاکھوں انسانوں کو چشم زدن میں لاشوں کے ڈھیر میں بدل دیتا ہے۔
1945ء میں ہیروشیما اور ناگاساکی پر صرف ایک ایٹم بم گرایا گیا تھا اور پلک جھپکتے میں لاکھوں انسان راکھ کے ڈھیر میں بدل گئے تھے، بادشاہوں کے دور کی جنگوں پر نظر ڈالیے، ہاتھی گھوڑے توپ تلوار کے ذریعے یہ جنگیں لڑی جاتی تھیں اور ہزاروں لوگوں کو گاجر مولی کی طرح کاٹ کر پھینک دیا جاتا تھا، اب مہذب انسان F-17-F-16، مگ 21، B-52 سے بمباری کرتا ہے اور ہزاروں انسانوں کو پلک جھپکتے میں موت کی نیند سلا دیتا ہے۔
کوریا، ویت نام سے لے کر عراق اور افغانستان تک لڑی جانے والی جنگوں میں لاکھوں انسان مارے گئے، مذہب کے حوالوں سے لڑی جانے والی جنگوں میں لاکھوں انسان مارے گئے، صلیبی جنگوں سے لے کر کشمیر اور فلسطین کی جنگوں تک لاکھوں انسان قتل ہوئے، صرف 1947ء کے مذہبی فسادات میں22 لاکھ انسان مارے گئے۔
کشمیر اور فلسطین کی آگ میں بھی لاکھوں انسان جل گئے اور اب بھی جل رہے ہیں۔ دنیا کے مہذب ملکوں کے پاس اتنے ایٹمی ہتھیار ہیں کہ ہزاروں بار دنیا کو تباہ کر سکتے ہیں، ہمارے پاس میزائل بھی ہیں اور میزائل شکن نظام بھی ہے جس پر ہم اربوں ڈالر خرچ کر رہے ہیں اور دنیا کے 7 ارب انسان دو وقت کی روٹی کے لیے ترس رہے ہیں۔ پسماندہ ملکوں کی آبادی کا 50 فیصد سے زیادہ حصہ غربت کی لکیر کے نیچے زندگی گزار رہا ہے، بھوک سے تنگ آئے ہوئے انسان انفرادی اور اجتماعی خودکشیاں کر رہے ہیں۔
یہ سب وہ انسان کر رہا ہے جو اپنے آپ کو مہذب کہتا ہے، اپنے آپ کو اشرف المخلوقات کہتا ہے، خدا کا زمین پر نائب کہتا ہے، یہی انسان آج خودکش حملے کر رہا ہے، بارودی جیکٹ پہن کر بے گناہ انسانوں کے ہجوم میں جا رہا ہے اور خودکش دھماکے کر کے اپنے جسم کو بھی ٹکڑوں میں بانٹ رہا ہے ہزاروں بے گناہ انسانوں کے جسموں کو بھی گوشت کے لوتھڑوں میں تبدیل کر رہا ہے۔ آج کا مہذب انسان انسانوں کو لٹا کر انھیں جانوروں کی طرح ذبح کر رہا ہے۔
یہ سارا بھیانک منظرنامہ دیکھ کر ذہن میں فطری طور پر یہ سوال ابھرتا ہے کہ یہ سب کیوں ہو رہا ہے؟ اس کا کارن کیا ہے، اس کی وجہ کیا ہے؟ جواب آتا ہے انسانوں کو ملک، قوم، دین دھرم کے نام پر بانٹ کر حیوان بنا دیا گیا ہے، رنگ نسل زبان قومیت کے نام پر اولاد آدم کو تقسیم کر کے ایک دوسرے کے سامنے کھڑا کر دیا گیا ہے اور انھیں بتایا جا رہا ہے کہ ایک دوسرے کو مارنا ثواب ہے اس سے جنت اور سورگ ملتے ہیں، بے گناہ انسانوں کو قتل کر کے جنت اپنے نام کی جا رہی ہے، مذہبی تفریق نے انسان کو درندوں سے بدتر بنا دیا ہے۔
آج کے مہذب انسان نے زمین پر جغرافیائی لکیریں کھینچ کر ملک بنا لیے ہیں۔ ان ملکوں کی سرحدیں ہیں، یہ سرحدیں زمین پر ہی نہیں پانی اور فضا میں بھی بنی ہوئی ہیں ان سرحدوں کی حفاظت کرنا ضروری ہے اس حفاظت کے لیے لاکھوں غریب انسانوں پر مشتمل فوج بنائی گئی ہے۔
ایک محکمہ دفاع بنایا گیا ہے عوام بھوکوں مر رہے ہیں اور دفاع پر اربوں ڈالر پھونکے جا رہے ہیں کیوں کہ ملکی سالمیت کی حفاظت سب سے اہم اور ضروری ہے اور یہ سب کچھ اس لیے ہو رہا ہے کہ اولاد آدم کو مختلف حوالوں سے تقسیم کر کے آزاد ملک بنائے گئے ہیں ان کی حفاظت میں جان دینا حب الوطنی ہے، یہ سب وہ مہذب انسان کر رہا ہے جو انسانی تاریخ کے کوہ ہمالیہ پر کھڑا ہے۔ میں ایک حقیر انسان ایک معمولی کالم نگار ایسا کیوں سوچ رہا ہوں کہ انسان کو صرف انسان رہنے دو اسے ہندو مسلمان، سکھ، عیسائی، امریکی، روسی، ہندوستانی، پاکستانی نہ بناؤ، میں ایک معمولی کالم نگار ہوں۔