غریب طبقات کا امتحان

بلدیاتی انتخابات کے دوسرے اور تیسرے مرحلے کے لیے انتخابی مہم زوروں پر چل رہی ہے،


Zaheer Akhter Bedari November 14, 2015
[email protected]

FAISALABAD: بلدیاتی انتخابات کے دوسرے اور تیسرے مرحلے کے لیے انتخابی مہم زوروں پر چل رہی ہے، ان انتخابات کی اہمیت یہ ہے کہ ان انتخابات میں عوام حصہ لے سکتے ہیں ان انتخابات کی دوسری اہمیت یہ ہے کہ عوام کے ہاتھوں میں علاقائی مسائل حل کرنے کے اختیارات آجاتے ہیں۔

اگرچہ قومی سطح کے فیصلے کرنے کے اختیارات اب بھی اشرافیہ کے ہاتھوں ہی میں ہیں، لیکن بلدیاتی نظام عوام کو یہ موقع فراہم کرتا ہے کہ منتخب نمایندے علاقائی مسائل حل کرکے عوام کی حمایت حاصل کرسکتے ہیں اور اس کارکردگی کی بنیاد پر وہ صوبائی اور قومی اسمبلیوں کے انتخابات میں جاسکتے ہیں، بلدیاتی نظام ایک طرح سے قانون ساز اداروں میں پہنچنے کی سیڑھی کا کام کرتا ہے۔ اسی خوف کی وجہ سے ہماری محترم اشرافیہ 7 سال سے بلدیاتی انتخابات کرانے سے گریزاں رہی ہے۔

میڈیا اورعدلیہ کے شدید دباؤ کی وجہ سے اگرچہ ہمارا حکمراں طبقہ بلدیاتی انتخابات کرانے پر مجبور ہوگیا ہے لیکن اس کی پوری کوشش ہوگی کہ نہ بلدیاتی نظام کامیاب ہو نہ نچلی سطح سے عوام قانون ساز اداروں میں پہنچنے کے قابل ہوسکیں۔

ملک میں ایک عرصے سے انتخابی اصلاحات کی آوازیں تو سنائی دے رہی ہیں لیکن اس حوالے سے کوئی پیش رفت نظر نہیں آرہی ہے، مڈل کلاس کی سیاسی جماعتوں کا یہ فرض ہے کہ وہ انتخابی اصلاحات کے لیے شدت سے آواز اٹھائیں۔کیونکہ موجودہ انتخابی نظام میں مڈل اور لوئر مڈل کلاس کا صوبائی اور قومی اسمبلیوں کے انتخابات میں حصہ لینا ممکن نہیں۔سیاسی اشرافیہ کی پوری پوری کوشش ہوگی کہ انتخابی نظام میں ایسی اصلاحات نہ ہونے دے جس کا فائدہ مڈل اور لوئر مڈل کلاس کو ہو۔ہمارا انتخابی نظام دراصل انتہائی منافع بخش سرمایہ کاری کا نظام ہے۔ دوکروڑ کی سرمایہ کاری کرنے والا آسانی سے دس کروڑ منافع حاصل کرسکتا ہے اور دس کروڑ کی سرمایہ کاری کرنے والا اربوں میں کھیلنے کے قابل ہوجاتا ہے۔

حکمران طبقات کی پہلی کوشش تو یہ ہوگی کہ وہ ریاستی مشینری کو اور دولت کو استعمال کرکے بلدیاتی نظام پر قبضہ کرلے اور بلدیاتی انتخابات کے پہلے مرحلے میں وہ ان کوششوں میں بڑی حد تک کامیاب بھی نظر آرہا ہے چونکہ دیہی علاقے اب تک جاگیرداروں اور وڈیروں کے حلقہ اثر میں ہیں۔

اس لیے ان علاقوں میں حکمران طبقات اپنے زیادہ سے زیادہ نمایندے منتخب کرانے میں کامیاب ہوجاتے ہیں لیکن شہری علاقوں میں اشرافیہ کے لیے مشکلات پیدا ہوجاتی ہیں کیونکہ شہری علاقوں کے عوام میں نسبتاً زیادہ سیاسی شعور ہوتا ہے اور وہ اپنے نمایندے منتخب کرتے ہیں نسبتاً زیادہ آزاد ہوتے ہیں۔ 2002 کے بلدیاتی انتخابات میں شہری علاقوں میں مڈل کلاس کی جماعتوں کو بڑے پیمانے پر کامیابی حاصل ہوئی اورکراچی جیسے ملک کے مرکزی شہر کا میئر ایک مڈل کلاس سے تعلق رکھنے والا شخص تھا۔ اس مئیر نے رات دن کام کرکے کراچی شہر کا نقشہ بدل دیا ۔

یہ کارکردگی ہماری سیاسی اشرافیہ کے لیے خطرے کی گھنٹی کی حیثیت رکھتی ہے ان کی کوشش ہوگی کہ دوبارہ مڈل کلاس کا کوئی نمایندہ کراچی کا میئر نہ بننے پائے۔ اسی طرح ملک کے دوسرے بڑے شہروں میں بھی مڈل اور لوئر مڈل کلاس کے نمایندوں کو آگے آنے سے روکنے کی کوشش کی جائے گی۔

ہمارے ملک کی بڑی سیاسی پارٹیوں کے کارکنوں کا تعلق بھی اگرچہ لوئر مڈل کلاس سے ہوتا ہے لیکن ان کی وفاداریاں پارٹیوں کی قیادت سے ہوتی ہیں اگر مصلحتاً مڈل اور لوئر مڈل کلاس سے تعلق رکھنے والوں کو اشرافیہ بلدیاتی انتخابات جتواتی بھی ہے تو وہ اپنی صلاحیتوں کو استعمال کرنے کے اس لیے قابل نہیں رہتے کہ پارٹی ڈسپلن کے تحت انھیں پارٹی کے مجموعی مفادات کے ساتھ چلنا پڑتا ہے اور ان پارٹیوں کا مفاد عموماً لیڈر شپ کا مفاد ہوتا ہے یوں بڑی پارٹیوں کے مڈل کلاس بے سود ثابت ہوتے ہیں۔

بلدیاتی انتخابات کے پہلے مرحلے میں سندھ کے اندرونی علاقوں میں تشدد وقتل کی جو وارداتیں ہوئیں ان میں نقصان کس کا ہوا؟ بدقسمتی کی بات یہ ہے کہ ہمارے سیاسی کارکنوں کی وفاداریاں پارٹی کے منشور سے نہیں ہوتیں بلکہ پارٹی کی قیادت سے ہوتی ہیں، جس کا اشرافیہ پورا پورا فائدہ اٹھاتی ہے۔ آج بڑی پارٹیوں کی نمبر 2 قیادت پر نظر ڈالیں تو یہ مڈل کلاس میڈیا میں اپنی قیادت کے گناہوں، بدعنوانیوں کی پردہ پوشی کرتی نظر آئے گی۔

ہمارے ملک کا سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ زمینی اور صنعتی اشرافیہ نے ہمیشہ سیاسی قیادت کو اپنے اور اپنے خاندان کے ہاتھوں میں رکھا ہے کسی بڑی پارٹی کی صدارت کبھی مڈل کلاس کے ہاتھ میں جانے نہیں دی گئی، اسے ہمیشہ طفیلی بنا کر رکھا گیا۔ ہماری اشرافیہ مطمئن ہے کہ 68 سال سے جاری انتخابی نظام میں کسی مڈل یا لوئر مڈل کلاس کا کوئی فرد قانون ساز اداروں میں پہنچ بھی جاتا ہے تو اس کی آواز نقار خانے میں طوطی کی آواز بن کر رہ جاتی ہے۔

2015ء کے یہ بلدیاتی انتخابات کئی حوالوں سے بے حد اہمیت کے حامل ہیں۔ 68 سالوں سے سیاست اور اقتدار پر قابض سیاسی مافیا ہرگز نہیں چاہے گی کہ قانون ساز اداروں میں مڈل اور لوئر مڈل کلاس کے مخلص لوگوں کو پہنچانے والی اس سیڑھی ''بلدیاتی نظام'' پر مڈل کلاس کا قبضہ ہوجائے۔

انتخابات کے موقعے پر عوام کو بہت چوکنا رہنے کی ضرورت ہے، پہلے مرحلے کے انتخابات میں جو خون خرابہ ہوا اس کا نقصان کس کو ہوا؟ سیاسی کارکن خواہ اس کا تعلق کسی پارٹی سے ہو وہ غریب اور مفلوک الحال ہی ہوتا ہے۔ تشدد خواہ اس کی نوعیت کچھ ہی کیوں نہ ہو اس کے فریقین کا تعلق غریب طبقات ہی سے ہوتا ہے اور نقصان غریبوں ہی کو ہوتا ہے۔ حالیہ بلدیاتی انتخابات غریب طبقات کا امتحان ہیں اور اس امتحان میں کامیابی کے لیے پرامن طریقے سے لوئر اور مڈل کلاس کے نمایندوں کو کامیاب کرانے ہی میں غریب طبقات کی کامیابی ہے۔

مقبول خبریں