ای سی اورکن ممالک پر تجارتی معاہدوں کی توثیق پرزور

اے پی پی آئی سر مایہ کاری کے فر و غ اور تحفظ سے متعلق ای سی اوممبر ممالک کے درمیان ایک معاہد ہ ہے،زبیر طفیل


Business Reporter November 14, 2015
اے پی پی آئی سر مایہ کاری کے فر و غ اور تحفظ سے متعلق ای سی اوممبر ممالک کے درمیان ایک معاہد ہ ہے،زبیر طفیل:فوٹو: فائل

اکنامک کوآپر یشن آرگنائزیشن (ای سی او)کے ممبر ممالک کو باہمی تجارت اور سرمایہ کاری سے متعلق معاہدوں کی سرکاری سطح پر تو ثیق کیلیے اپنی کوششوں میں تیزی لانا ہوگی۔ یہ بات ای سی او چیمبر آف کامر س اینڈ انڈسٹری کی مخصوص کمیٹی برائے تجارت اور سرمایہ کاری کے ایک اجلاس میں متفقہ طور پر تجویز کی گئی۔

فیڈریشن ہاؤس میں ہونے والے اس اجلاس کی صدارت کمیٹی کے کنویر، زبیر طفیل نے کی جس میںصدیق شیخ ای سی او کے سیکریٹری جنرل مہر عالم خان اور اکنامک ایڈوائزر پروفیسر ڈاکٹر ایوب مہر نے بھی شرکت کی۔ زبیر طفیل نے کہا کہ اے پی پی آئی سر مایہ کاری کے فر و غ اور تحفظ سے متعلق ای سی اوممبر ممالک کے درمیان ایک معاہد ہ ہے جس پر تا حال ای سی او چیمبر آف کامر س اینڈ انڈسٹری کے ممبر ممالک ایران ۔ترکی۔پاکستان افغانستان اورآذربائیجان کے نیشنل چیمبرزنے دستخط کیے ہیں جبکہ ایرانی حکومت نے اس کی توثیق کر دی ہے اور دیگر ممبر ممالک بشمول پاکستان کی طرف سے اس معاہدے کی توثیق التوا کا شکار ہے۔

زبیر طفیل نے کہا کہ چائنا پاکستان اکنامک کوریڈوکی تکمیل کے تناظر میں اے پی پی آئی ممبر ممالک کے درمیان تجارت اور سرمایہ کاری کے فروغ اور تحفظ کیلیے انتہائی اہمیت کا حامل ہے جس سے نہ صرف پاکستان کو معاشی فوائد حاصل ہوںگے بلکہ پورے ای سی او ریجن بھی اس سے فائدہ اٹھا سکیں گے۔ انہوں نے پاکستان وزرات خارجہ اور بورڈ آف انویسٹمنٹ پر زور دیا کہ وہ اے پی پی آئی معاہدوں کی توثیق کیلیے ترجیحی بنیادوںپر کام کریں۔

انہوں نے واضح کہا کہ اے پی پی آئی معاہدے کی تو ثیق اور نفاذ کے بعد پورے ای سی او ریجن میں تجارتی اور معاشی سرگرمیوں، سرمایہ کاری، ٹرانسفر آف ٹیکنالوجی اور روزگار کے مواقع میں بے پناہ اضافہ ہو گا کیونکہ یہ سب سرگرمیاں پورے ریجن میں ایک یونیفارم قاعدہ اور قوانین کے تحت ہونگے۔ انھوں نے بتایا کہ پاکستان نے 2016میں ای سی اوچیمبر آف کامر س ای سی اوممالک کی بزنس لیڈر کانفرنس اور تجارتی نمائش کی بھی تجویز دی ہے جو کہ ای سی اوچیمبر کی انقرہ میں ہو نے والی اگلی ایگزیکٹو کمیٹی اور جنرل اسمبلی کے اجلاس میں زیر بحث لائی جا ئیگی۔