بینکوں کے مجموعی ڈپازٹس میں گزشتہ ماہ 93 ارب کا اضافہ

اکتوبر 2015کے اختتام تک ڈپازٹس کی مالیت9114ارب رہی جو جون کے مقابل 27ارب کم تھی


Business Reporter November 16, 2015
اکتوبر 2015کے اختتام تک ڈپازٹس کی مالیت9114ارب رہی جو جون کے مقابل 27ارب کم تھی فوٹو: فائل

ISLAMABAD: اکتوبر کے مہینے میں بینکوں کے مجموعی ڈپازٹس کی مالیت میں93ارب روپے کا اضافہ ہوا ہے۔

اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے اعدادوشمار کے مطابق اکتوبر 2015 کے اختتام پر بینکوں کے مجموعی ڈپازٹس کی مالیت 9114ارب روپے تک پہنچ چکی ہے تاہم یہ ڈپازٹس کی یہ مالیت جون 2015کی 9141ارب روپے کے ڈپازٹس سے اب بھی 27ارب روپے کم ہے۔ ماہرین کے مطابق بینکوں سے لین دین پر ودہولڈنگ ٹیکس کے نفاذ کی وجہ سے جون 2015سے بینکوں کے ڈپازٹس میں کمی کا رجحان بھی وقت گزرنے کے ساتھ کم ہورہا ہے جون 2015میں بینکوںکے ڈپازٹس 9141ارب روپے کی بلند ترین سطح پر پہنچنے کے بعد ودہولڈنگ ٹیکس کی وجہ سے کم ہوکر 9020ارب روپے کی سطح پر آگئی تھی اس طرح بینک کھاتوں میں اگست ستمبر تک 121ارب روپے تک کی کمی واقع ہوئی تھی۔

حکومت کی جانب سے ودہولڈنگ ٹیکس میں کمی اور تاجروں کے ساتھ جاری مذاکرات کے نتیجے میں کھاتے داروں کا اعتماد بحال ہورہا ہے تاہم ڈپازٹس کی مالیت جون کے مقابلے میں اب بھی کم ہے۔ اعدادوشمار کے مطابق رواں سال جنوری سے اکتوبر تک بینک کھاتوں میں مجموعی طور پر 651ارب روپے کا اضافہ ہوا ہے گزشتہ سال کے اسی عرصے کے دوران بینک کھاتوں میں 776ارب روپے کا اضافہ ہوا تھا اس طرح رواں سال ودہولڈنگ ٹیکس کے تنازعے کی وجہ سے بینک کھاتوں میں ڈپازٹس بڑھنے کی شرح میں بھی کمی واقع ہوئی ہے۔