روسی صدر کا انکشاف

داعش کے خلاف کامیابی کے لیے ہمیں امریکا، یورپی ممالک، سعودی عرب، ترکی اور ایران کی مددکی ضرورت ہے


Editorial November 18, 2015
اگر یہ ممالک اپنے اپنے مفادات میں ہم آہنگی پیدا کر لیں تو شام کا بحران ختم ہو سکتا ہے. فوٹو: فائل

ISLAMABAD: روسی صدر ولادی میر پوتن نے ماسکو میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے انکشاف کیا ہے کہ عراق اور شام میں سرگرم تنظیم دولت اسلامیہ کو40ممالک سے مالی امداد مل رہی ہے جن میں کچھ جی20گروپ کے رکن ممالک بھی شامل ہیں۔

روسی صدرکاکہنا تھاکہ انھوں نے ترکی کے شہر اناطولیہ میں ہونے والی جی20سربراہ کانفرنس سے خطاب میں روسی انٹیلی جنس اداروں کی رپورٹس پیش کی ہیں جن میں مختلف ممالک اور پرائیویٹ اداروں کی جانب سے داعش سے منسلک گروپس کی مالی مددکی نشاندہی کی گئی ہے۔

انھوں نے داعش کی تیل کی غیرقانونی تجارت بھی فوری طور پر بندکرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ انھوں نے کہا کہ داعش کے خلاف لڑائی کے لیے عالمی اتحادکی ضرورت ہے۔انھوں نے کہاکہ روس شام میں داعش کے خلاف لڑنے والے باغی گروپوں کو اسلحہ فراہم کرنے کو تیار ہے۔داعش کے خلاف کامیابی کے لیے ہمیں امریکا، یورپی ممالک، سعودی عرب، ترکی اور ایران کی مددکی ضرورت ہے۔صدر پوتن کاکہنا تھاکہ دنیاکودہشتگردی سے بچانے اور داعش مخالف کوششوں کے لیے روس امریکا کے ساتھ مل کرکام کرنے کوتیار ہے تاہم امریکا کی جانب سے انکار افسوسناک ہے۔

روس کے صدر نے شام و عراق کے بحران اور عالمی دہشت گردی میں صنعتی ترقی یافتہ اور مالی طور پر طاقتور ممالک کے دہرے کردار کو بے نقاب کیا ہے۔ کتنی عجیب بات ہے کہ جی 20 کے سربراہ اجلاس کے شرکاء میں داعش کی مدد کرنے والے بھی موجود تھے۔ شام کے بحران نے تقریباً ڈھائی لاکھ افراد کی زندگیاں لی ہیں جب کہ لاکھوں لوگ مہاجربن کر یورپ اور لاطینی امریکا کے ممالک میں ذلیل و خوار ہورہے ہیں' اس المیہ کی ذمے دار بشار حکومت ہے ۔

داعش ہے یا دنیا کے طاقتور ممالک؟ اس سوال کا جواب روس کے صدر نے دے دیا ہے۔ شام کے بحران کا ایک پہلو یہ ہے کہ یہاں امریکا کے طیارے بھی بمباری کر رہے ہیں' فرانسیسی طیارے بھی بمباری کر رہے ہیں اور روس کے طیارے بھی بمباری کر رہے ہیں لیکن داعش کا خاتمہ نہیں ہو سکا۔ ہر ملک کہہ رہا ہے کہ داعش اور آئی ایس کا مقابلہ متحد ہو کر ہی کیا جا سکتا ہے لیکن عملاً یہ ہو رہا ہے کہ یہاں ہر بڑی طاقت اور علاقائی قوتیں اپنے مفادات کو سامنے رکھ کر کام کر رہی ہیں۔

اس بحران کا ایک حیران کن پہلو یہ ہے کہ داعش نے جو خود ساختہ ریاست بنا رکھی ہے' اس کا تیل بڑے دھڑلے سے فروخت ہو رہاہے' آخر یہ تیل کون حاصل کر رہا ہے' یہ بھی کسی سے ڈھکی چھپی بات نہیں ہے۔ اصل بات یہ ہے کہ داعش والے تیل عالمی مارکیٹ کے مقابلے میں انتہائی سستا بیچ رہے ہیں۔ یہ تیل بھی صنعتی طور پر ترقی یافتہ ممالک خرید رہے ہیں یعنی ایک جانب داعش سے تجارت ہورہی ہے اور دوسری جانب وہاں بمباری ہو رہی ہے'جتنے ممالک وہاں بمباری کررہے ہیں' اس کا خمیازہ عام شامی شہری بھگت رہے ہیں۔ داعش کے جنگجوؤں کا نقصان کم ہو رہا ہے۔

یہی وجہ ہے کہ اسلامک اسٹیٹ ابھی تک قائم ہے اور داعش اپنی کارروائیاں کر رہی ہے۔ اس بحران کا اصل نکتہ یہ ہے کہ جب تک امریکا' برطانیہ' فرانس' روس' ایران اور سعودی عرب اپنی پالیسیوں میں موجود نقائص یا دو عملی کو دور نہیں کرتے' شام و عراق کا بحران ختم نہیں ہو سکتا ہے۔ ان مالی طور پر طاقتور ممالک کی باہمی چپقلش سے دنیا کے کمزور اور غیر جانبدار ممالک بھی متاثر ہو رہے ہیں' ہر طاقتور ملک اپنے اپنے اتحادیوں اور دوستوں کو بھی اس بحران میں گھسیٹنے کی کوشش کر رہا ہے' جس کی وجہ سے وہ ممالک جن کا اس بحران سے براہ راست کوئی تعلق نہیں وہ بھی متاثر ہو رہے ہیں۔

روس کے صدر نے بہت سے ملکوں کے دہرے کردار کو بے نقاب کیا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ فرانس کے شہر پیرس میں جو کچھ ہوا' وہ یقینا قابل افسوس ہے لیکن یہ بھی سچ ہے کہ یہ سب کچھ امریکا اور یورپی ممالک کی حکومتوں کی حریصانہ پالیسیوں کا ردعمل ہے' امریکا اور مغربی یورپ کو یہ حقیقت سمجھ لینی چاہیے کہ داعش اور دیگر دہشت گرد تنظیموں کا اس وقت تک خاتمہ نہیں ہو سکتا جب تک طاقتور ممالک دو عملی کو ترک نہیں کرتے۔ شام میں روس اور ایران بشار حکومت کی مدد کر رہے ہیں جب کہ امریکا ' یورپ اور سعودی عرب اسے ہٹانا چاہتے ہیں۔

یہاں جنگ ختم نہ ہونے کی یہی وجہ ہے' یمن کے بحران میں بھی یہی تضادات کار فرما ہیں۔ افغانستان کو دیکھا جائے تو یہاں بھی منافقت کی پالیسی نظر آئے گی۔یوں دیکھا جائے تو دنیا کو دہشت گردی کے جس عفریت کا سامنا ہے، اسے زندہ رکھنے میں طاقتور ممالک ہی اہم کردار ادا کررہے ہیں۔ اگر یہ ممالک اپنے اپنے مفادات میں ہم آہنگی پیدا کر لیں تو شام کا بحران ختم ہو سکتا ہے اور اسی کے ساتھ ہی داعش اور دیگر دہشت گرد تنظیموں کا خاتمہ بھی ہو جائے گا۔