بائیں بازو کی ایک محفل

سورج ڈھل رہا تھا اور آشیانوں کو لوٹتے ہوئے پرندوں کی آواز کانوں کو بھلی لگ رہی تھی


Zahida Hina November 18, 2015
[email protected]

سورج ڈھل رہا تھا اور آشیانوں کو لوٹتے ہوئے پرندوں کی آواز کانوں کو بھلی لگ رہی تھی۔ کراچی آرٹس کونسل کے سبزہ زار پر سیکڑوں کرسیاں لگی ہوئی تھیں جن پر نئی اور پرانی نسل کے افراد موجود تھے۔ یہ لوگ 'طالبان' دہشت گردی اور فرقہ واریت، کے موضوع پر مختلف رہنماؤں اور دانشوروں کی باتیں سننے آئے تھے۔

یہ وہ معاملات ہیں جن سے آج ہم سب متاثر ہورہے ہیں۔ بہت سے لوگ خاص طور پر بزرگ سیاسی رہنما معراج محمد خان کو سننے آئے تھے۔ معراج محمد خان نے اپنی سیاسی زندگی کا آغاز طلبہ تحریک سے کیا، دوسرے بہت سے سرکردہ انقلابیوں اور باغیوں کی طرح معراج محمد خان بھی یہی سمجھ رہے تھے کہ مذہب کی بنیاد پر برصغیر کی تقسیم، جسے آزادی کا نام دیا گیا تھا ، وہ واقعی پسماندہ اور پچھڑے ہوئے لوگوں کے لیے روشنی اور خوش حالی کی پیامبر ہوگی ، یہ تو بعد میں کھلا کہ یہ آزادی نہیں، آزادی موہوم تھی جو ہمارے لیے خواب و خیال بن کر رہ گئی۔

انھوں نے ایوب خان کے دور سے جیل کی صعوبتیں سہیں لیکن کبھی ہتھیار نہیں ڈالے۔ ذوالفقار علی بھٹو کی شکل میں انھیں ایک عوامی رہنما نظر آیا، وہ بھٹو صاحب کی کابینہ میں وزیر بھی ہوئے لیکن جلد ہی انھیں معلوم ہوا کہ وہ ایک سراب کے پیچھے بھاگ رہے تھے۔ اس جدوجہد اور قیدو بند کے دوران ان کی ایک آنکھ کی بصارت بھی چلی گئی۔ اس روز محفل کو سجانے والے اظہر جمیل اور ان کے دوسرے ساتھی تھے جن کا عہد و پیماں آج بھی ترقی پسند سیاست سے ہے۔

اس روز مجھے چالیس پچاس برس پہلے کا وہ کراچی یاد آ رہا تھا جب طلبہ تنظیموں کا بہ طور خاص ڈی ایس ایف اور این ایس ایف کا زور تھا۔ مارشل لاء کا دیواستبداد بائیں بازو سے تعلق رکھنے والوں کو جیل میں ڈال رہا تھا ، کچھ کراچی بدر کیے جارہے تھے، کچھ انڈر گراؤنڈ تھے۔ یہ لوگ گنتی میں کم تھے لیکن فوجی حکومتیں ان سے دہشت زدہ رہتی تھیں۔

بائیں بازو کے لوگوں کی جدوجہد روشن خیالی، جمہوریت ، انصاف اور مساوات پر مبنی ایک ایسا سماج چاہتی تھی جہاں مرد اور عورت طلبہ مزدوروں اور کسانوں کو ان کا حق ملے لیکن ملٹری اور سول بیورو کریسی اور جاگیردار طبقہ اسے اپنی موت سمجھتا تھا۔ حسن ناصر، امام علی نازش، فیض، سبط حسن، بزنجو، میجر اسحاق، حبیب جالب، سوبھو گیان چندانی، ڈاکٹر اعزاز نذیر، معراج محمد خان، طفیل عباس، پروفیسر جمال نقوی، نذیر عباسی اور جام ساقی سمیت ان گنت انقلابیوں نے جدوجہد کو اپنی زندگی کا مقصد سمجھ لیا تھا۔ یہ وہ لوگ تھے جو آخر تک اپنے پیمان وفا سے سچے رہے۔

آج جب پاکستان پر انتہا پسندی ، دہشت گردی ، عسکریت پسندی اور فرقہ واریت کا نرغہ ہے، معراج محمد خان آئی اے رحمان اور دوسروں نے آنے والے خطرات کو محسوس کرتے ہوئے ایک پلیٹ فارم پر جمع ہونے اور صورت حال کے خلاف آواز بلند کرنے کو اپنا فرض سمجھا۔

اس روز معراج محمد خان نے ملک کی موجودہ صورت حال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ جب کوئی قوم اپنے اندر سے ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوتی ہے ، جب اقلیتوں کی مذہبی آزاد یاں نشانے پر ہوتی ہیں، سب سے بڑھ کر یہ کہ شہریوں کی جان و مال خطرے میں پڑجاتی ہے تو پھر انتہا پسند سر اٹھاتے ہیں اور ملک میں فرقہ واریت اور دہشت گردی کے ہتھیاروں سے وہ ملک اور قوم کو کمزور کردیتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ اگر ملک میں ترقی پسند سیاست کو فروغ ہوتا اور لوگوں کے درمیان نفرت اور تفرقہ پھیلانے کے بجائے انھیں ایک دوسرے سے جوڑ کر رکھا جاتا تو نہ انتہا پسند ہمارے یہاں غالب آسکتے تھے اور نہ شیعہ سنی اور دوسرے فرقوں کے درمیان کشیدگی اس حد تک بڑھ سکتی تھی کہ لوگ ایک دوسرے کی جان کے دشمن ہوجائیں۔

ملک میں حقوق انسانی کی لڑائی لڑنے والے آئی اے رحمان صاحب جو ایچ آر سی پی کے چیئر پرسن بھی ہیں، اس جلسے میں شرکت کے لیے بہ طور خاص لاہور سے آئے تھے۔ انھوں نے کہا کہ یہ الم ناک بات ہے کہ عسکریت پسندی اور انتہا پسندی ہمارے ملک میں فروغ پا رہی ہے لیکن اس کے ساتھ ہی یہ بھی دلچسپ حقیقت ہے کہ جب کبھی ملک میں عام انتخابات ہوتے ہیں تو دینی جماعتوں کو بہ مشکل چند نشستیں ملتی ہیں اور ان کے کئی امیدواروں کی ضمانتیں بھی ضبط ہو جاتی ہیں۔

معروف شاعرہ فہمیدہ ریاض نے اس روز واضح الفاظ میں ملٹری آپریشن کی حمایت کی اور کہا کہ اس آپریشن کی وجہ سے ہی شہروں میں امن قائم ہوا ہے لیکن انتہا پسندوں سے نمٹنے کا یہ واحد طریقہ نہیں ہے۔ انھوں نے بہار کی ریاست میں بی جے پی کی بد ترین شکست کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ یہ عوامی طاقت کا مظاہرہ ہے جو اداروں کے درمیان صرف جمہوریت کے سبب ہی ممکن ہوسکتا ہے ۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ پاکستان اور ہندوستان اگر سرحدوں پر ایک دوسرے سے لڑنے کے بجائے اکٹھے ہو کر انتہا پسندی کا مقابلہ کریں تو دونوں اس عذاب کو قابو میں کرسکیں گے ۔

اس محفل میں سندھ ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے سابق صدر رشید اے رضوی بھی موجود تھے۔ انھوں نے کہا کہ صرف فوج ایک ایسا ادارہ ہے جو ہمیں عسکریت پسندی سے چھٹکارا دلاسکتا ہے، اسے دوسرے اداروں کے تعاون کی بھی ضرورت رہے گی، اسے یاد رکھنا چاہیے کہ اسی کی سرپرستی میں یہ عناصر پروان چڑھے اور اب یہ اسی کی ذمے داری ہے کہ وہ ملک کو ان سے مکمل طور پر نجات دلائے ۔

سینئر صحافی اور اینکر پرسن مظہر عباس 1977 کے ان دنوں کو یاد کرتے رہے جب جمہوری جماعتوں کے اندرونی تضادات کے سبب اور بھٹو حکومت کے دوران عطا اللہ مینگل اور ولی خان کے ساتھ ہونے والی بد سلوکیوں کے نتیجے میں ان دونوں ترقی پسند سیاست دانوں نے جنرل ضیاء الحق کی فوجی حکومت کی حمایت کی تھی ۔

ان دونوں محترم سیاست دانوں کی اس وقتی حمایت کا دائیں بازو کی مذہبی جماعتوں نے فائدہ اٹھایا اور پھر ضیاء الحق کی پشت پناہی نے انھیں سماج میں اپنے پنجے مضبوطی سے گاڑ نے کا موقع فراہم کردیا۔ مظہر عباس کا تعلق میڈیا سے ہے لیکن انھیں اس کے رویوں سے بھی شکایت تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ اس وقت میڈیا دو شریفوں (نواز شریف اور راحیل شریف) کو جس طرح پیش کر رہا ہے، اس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ میڈیا اپنا وزن کس کے پلڑے میں ڈال رہا ہے۔ انھوں نے بائیں بازو کی پسپائی کا بھی ذکر کیا کیونکہ بائیں بازو سے ہی امید کی جاسکتی تھی کہ وہ انتہا پسندی اور خرد دشمنی کا ڈٹ کر مقابلہ کرے گی۔

انگریزی کے معروف صحافی اور کالم نگار زاہد حسین کا کہنا تھا کہ ہمیں ضرب عضب سے آگے بھی دیکھنا چاہیے ۔ انھوں نے ایک پرانی کہاوت دہرائی کہ یہ کیسے ممکن ہے کہ آپ اپنے پائیں باغ میں سانپوں کو پالیں اور دودھ پلائیں، اس کے بعد توقع یہ رکھیں کہ وہ آپ کو کچھ نہیں کہیں گے ، صرف آپ کے دشمنوں کو ڈسیں گے۔

اس روز میرا یہ کہنا تھا کہ رجعت پسندانہ ذہینت والے عناصر ابتدائی برسوں سے ہی اہم اداروں میں اپنی جگہ بنانے میں کامیاب ہوگئے۔ اسی کا نتیجہ ہے کہ آج وہ پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا پر قابض ہیں۔ انھوں نے ابتدائی جماعتوں سے لے کر ثانوی جماعتوں تک نصاب کو خالص مذہبی بنیادوں پر مرتب کیا ہے اور ہمارے بچے آزاد اور لبرل سوچ سے محروم ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ انتہا پسندی اور خرد دشمنی ہمارے یہاں عام ہوچکی ہے۔ ہم جب تک اپنے نصاب کو جدید خطوط مرتب نہیں کریں گے، اس وقت تک ہم انتہا پسندوں اور عقل دشمنوں سے نجات نہیں حاصل کرسکیں گے ۔

اس محفل میں، ہمارے درمیان احفاظ الرحمن بھی موجود تھے۔ چند ہفتوں پہلے وہ ایک خطرناک آپریشن سے گزرے ہیں اور ابھی بولنا انھیں منع ہے لیکن یہ موضوع ایسا تھا جس میں اپنا حصہ ڈالنے کے لیے وہ بے قرار تھے۔ سوان کی مختصر تقریر ان کی شریک حیات مہ ناز رحمن نے پڑھ کر سنائی اور ان کی کئی نظمیں بھی ۔ایک نظم آپ کی نذر ہے:

محبت تتلیوں کی گفتگو میں رقص کرتی ہے ... پرندوں کے حسیں نغموں کی دھن پر رقص کرتی ہے... ہوا کے ساتھ لہراتی ہوئی پرواز کرتی ہے... فضا میں میٹھی خوشبوؤں کی مہک کو کم نہ ہونے دو ... محبت کم نہ ہونے دو ... محبت کم نہ ہونے دو،... جو نفرت بیچتے ہیں ، خون کا بیوپار کرتے ہیں...خوشی کی کوکھ پر خنجر سے اپنے وار کرتے ہیں... لرزتی آرزوؤں کو ڈرا کر شاد ہوتے ہیں... وہ نازک تتلیوں کے خواب سے زیروز بر ہوں گے ... پرندوں کی حسیں چہکار سے زیروزبر ہوں گے ... پرندوں کے حسیں نغموں کو، نازک تتلیوں کو رقص کرنے دو۔

معراج محمد خان ، آئی اے رحمان اور تمام ترقی پسندوں نے ایسے ہی خوبصورت خواب دیکھے تھے، یہ خواب ابھی تک شرمندہ تعبیر نہیں ہوئے لیکن یہ کیا کم ہے کہ اب بھی بہت سے لوگوں کی آنکھوں میں یہ خواب زندہ ہیں۔

مقبول خبریں