انھی کھلونوں سے کچھ بھی بہل سکو تو چلو

جناب وزیراعظم نے فرمایا ہے کہ دھرنوں کی سیاست ختم ہونی چاہیے،


Saad Ulllah Jaan Baraq November 18, 2015
[email protected]

جناب وزیراعظم نے فرمایا ہے کہ دھرنوں کی سیاست ختم ہونی چاہیے، ہم نہ صرف اس کی پرزور تائید کرتے ہیں بلکہ ''تائید مزید'' کرتے ہیں' ایک شخص نے دوسرے کو دھمکاتے ہوئے کہا کہ دیکھو میں سارنگی پر تار نہیں رکھتا، یہ ایک پشتو محاورہ ہے جو اس وقت بولا جاتا ہے جب کوئی شر و فساد سے نہ ڈرنے اور سب کچھ کر گزرنے کا اعلان کرنا چاہتا ہے یعنی میرے ساتھ چوں چرا نہ کر ورنہ میں سارنگی پر تار نہیں رکھتا کہ ٹوٹنے کی فکر ہو، چنانچہ دوسرے نے کہا تم تار نہیں رکھتے اور میں سر ے سے سارنگی ہی نہیں رکھتا،یعنی وہ دانت ہی اکھاڑ کر پھینک دیا جائے جو درد کر رہا ہو یہاں ایک شعر یاد آرہا ہے کہ

بدعملہ زوئے چہ مڑ شی پلار ترے خلاص شی
لکہ غاخ چہ پہ ویستو لہ دردہ خلاص شی

یعنی بداعمال بیٹے کے مرنے پے باپ کو ویسے ہی نجات مل جاتی ہے جس طرح دردیلے دانت کو نکالنے سے راحت مل جاتی ہے۔ ان بادشاہوں کی اپنی ریاستیں ہوتی ہیں جنھیں یہ لوگ کنسٹچونسی یا ''حلقہ واردات'' کہتے ہیں، ایک ماہر امراض و العلاج کا کہنا ہے کہ اس پیچیدہ پوشیدہ اور مزمنہ بیماری جمہوریت کا علاج تب تک ممکن نہیں جب تک اس کی ماں سیاست خانم کا کریا کرم نہیں کیا جاتا، جہاں تک ''دھرنوں کی سیاست'' یا ''سیاست'' کے دھرنوں کا تعلق ہے تو اس کے پھل پھول ہیں جو کسی خاص موسم میں اس پر آتے ہیں ، اصل مسئلہ درخت اور اس کی جڑوں کا ہے، پڑوسی ملک کی ایک بزرگہ سونم کپور کا تازہ ترین قول زریں یہ ہے کہ ''پرابلم'' کی جڑ تک جائیں جب تک جڑ کو جڑ سے اکھاڑ کر راکھ نہ کیا جائے تب تک اس قسم کی کونپلیں پھوٹتی رہیں گی۔ وہ جو مرشد نے کہا ہے کہ

تم شہر میں ہوتے ہو تو کیا غم جب اٹھیں گے
لے آئیں گے بازار سے جا کر دل و جاں اور

''دھرنے'' تو آج کل اس لیے پاپولر ہو رہے ہیں کہ اس میں محنت اور تکلیف ذرا کم لگتی ہے مزید سہولت کنٹینروں نے پیدا کی ہے کہ حضرت داغ جہاں بیٹھ گئے بیٹھ گئے۔ وہ جلسے جلوسوں کی سختیاں موسمی تکالیف بھاگ دوڑ کچھ بھی نہیں، آرام سے کسی بھی جگہ بیٹھ جایئے، دھرنا ہو گیا بلکہ ایک طرح سے زیارت بن جائے، لوگ نہ جانے کہاں کہاں سے جوق در جوق آئیں گے اور آپ کے دیدار سے مشرف ہوں گے، کیمرے چمکیں گے لوگ ناچیں گے گائیں گے عیش کریں گے اور کیا اور اگر کوئی کچھ کہے تو مرشد نے اس کا جواز بھی دیا ہوا ہے کہ

دل ہی تو ہے نہ سنگ وخشت درد سے بھر نہ آئے کیوں
روئیں گے ہم ہزار بار کوئی ہمیں ستائے کیوں

بلکہ ایک دو مقامات پر کچھ لوگوں نے ایسی غلطیاں کی بھی تھیں جن کا خمیازہ انھیں اسی وقت اسی جگہ ''نقد'' کی صورت میں مل گیا تھا، دھرنے والوں نے ان کو وہ دھرا دھرا کہ سارے ارادے دھرے کے دھرے رہ گئے اور وہ غرات سادات سے ہاتھ دھو کر بصد خرابی بھاگ گئے، اسی لیے تو ٹرکوں پر لکھا گیا ہے کہ ''نہ چھیڑ ملنگاں نوں اور پپو یار تنگ نہ کر'' اور وہ حق پر بھی تھے آخر سڑک پر دھرنا دیے ہوئے تھے اور زبان حال سے کہہ رہے تھے کہ

دیر نہیں حرم نہیں در نہیں آستاں نہیں
بیٹھے ہیں راہ گذر پہ ہم غیر ہمیں اٹھائے کیوں

اوپر سے ذہین اور فطین لوگ بھی تو دنیا میں ہوتے ہیں چنانچہ دھرنے کو بھی گل و گل زار بنانے والے دماغوں نے اس میں طرح طرح کی دوسری رنگینیاں بھی بھر دیں، رقص و سرود کی محفلیں ایسی جمیں ایسی جمیں جیسے دھرنا نہ ہو کسی شادی کا پنڈال ہو، ایک مرتبہ اس مشہور و معروف دھرنے کو ہم نے ٹی وی پر دیکھا جو ابھی سال بھر پہلے بمقام اسلام آباد منعقد ہوا تھا، اس میں جو ''نظر نواز'' قسم کے مناظر دیکھے تو جی بے اختیار چاہا کہ ہم بھی اڑ کر جائیں اور اس محفل کو دیکھیں جس میں جلال و جمال اور کمال و دھمال کے نایاب نمونے نظر آرہے تھے یعنی کہ

موج خرام ساقی و ذوق صدائے چنگ
وہ جنت نگاہ یہ فردوس گوش ہے
ہر شب کو دیکھیے تو ہر اک گوشہ بساط
دامان باغبان و کف گل فروش ہے

ایسے ایسے چہرے ایسے ایسے سراپے اور ایسے ایسے سروقامت کہ ؎ ساغر کو مرے ہاتھ لینا کہ چلا میں، اب اگر وزیراعظم صاحب ان دھرنوں اور ان جیسے دھرنوں کو ختم کرنے کی بات کرتے ہیں تو احترام کے تمام تر جذبات کے ساتھ، اگر ''کم سے کم'' بھی کہا جائے تو یہی کہہ سکتے ہیں کہ حضور والا یہ ظلم نہ کریں کہ اس بھوکی پیاسی قوم کو کم از کم دیکھنے کی حد تک کچھ مل جاتا ہے اگر سیاست سے ان دھرنوں کو نکال دیا جائے ہمارا مطلب ان ٹیسٹ ماڈل کے دھرنوں سے ہے تو باقی کیا رہ جائے، سوکھے ساکھے بیانات اور خشک تقریریں، ان سب سے تو عوام ناک تک بھر چکے ہیں اس لق و دق صحرائے سیاست میں کچھ عارضی ہی سہی سبزہ و گل تو دیکھنے کو مل جاتے ہیں

یہ راہ گزار کہیں ختم ہی نہیں ہوتا
ذرا سی دور تو رستہ ہرا بھرا کر دے

کیوں کہ پیاس کی کیسے لائے تاب کوئی ۔۔۔ نہ ہو دریا تو ہو سراب کوئی ۔۔۔ کون سا زخم کس نے بخشا ہے اس کا رھے کہاں حساب کوئی ۔۔۔ پھر میں سننے لگا ہوں اس دل کی ۔ آنے والا ہے پھر عذاب کوئی ۔ رہن بھی دیجیے کیوں کہ کچھ بھی ہونے والا نہیں ہے، دم بھر کے لیے کوئی ہمیں پیار دے دے ۔ جھوٹا ہی سہی ۔ جب ستر سال میں تین تین باریوں سے بھی کچھ نہیں ہو سکا تو آگے کیا ہو گا، غم غلط کرنے اور دشت کی کٹھنائیاں کم کرنے کے لیے یہ دھرنے سراب ہی سہی کچھ نہ کچھ تسکین تو دے ہی دیتے ہیں، یوں بھی کوئی دوسرا آپشن بچا ہی کہاں ہے۔

تقریریں سن سن کر کان پک گئے ہیں اور اب وہی باتیں کم از کم ''دس ہزار بارہ'' سن کر جی دب گیا، وعدے اور ارادے سن سن کر اتنے ''بے یقینے'' ہو گئے کہ کوئی یقین سے یہ بھی نہیں کہہ سکتا کہ کل سورج طلوع ہو گا یا نہیں اور اگر طلوع ہو گا تو کس طرف سے ۔ کم از کم سیاست دان جو طرف بتائیں گے اس طرف سے تو بالکل بھی نہیں نکلے گا، علامہ اقبال کو بھی شاید اندازہ تھا کہ اس ملک میں ایسا بھی دن آنے والا ہے جب لوگوں کو سورج جیسی بڑی حقیقت پر سے بھی اعتبار اٹھ جائے گا اس لیے انھوں نے سورج دیکھنے کے لیے ''باقاعدہ مشرق'' کی تخصیص کر رکھی ہے کہ

کھول آنکھ زمین دیکھ فلک دیکھ فضا دیکھ
''مشرق'' سے ابھرتے ہوئے سورج کو ذرا دیکھ

بہرحال وزیراعظم ان واحد اور آخری سراب دھرنوں کو آنکھوں کے سامنے رہنے دیں۔ ہو سکتا ہے آیندہ کے بیس پچیس سال انھی کے سہارے امیدوں میں گزر جائیں۔

یہی ہے زندگی کچھ خواب چند امیدیں
انھی کھلونوں سے ''کچھ'' بھی بہل سکو تو چلو