سانحہ جعفر ایکسپریس شفاف تحقیقات ناگزیر

حقیقت میں سانحہ کی الم ناکی پرہردل غم زدہ ہےاورجومسافر راہیٔ ملک عدم ہوئے ان کے لواحقین کا دکھ شیئر کرنے کا یہی وقت ہے


Editorial November 19, 2015
انکوائری کمیٹی کی جانب سے بعض شواہد کی روشنی میں سب انجینئر سگنلز اسد اللہ اور پوائنٹس مین محمد علی کو براہ راست ذمے دار ٹھہرایا گیا۔ فوٹو : فائل

بلوچستان کے علاقے بولان میں آب گم کے قریب جعفرایکسپریس کے انجن کے بریک فیل ہونے کے باعث 8بوگیاں پٹڑی سے اتر گئیں۔ ٹرین کوئٹہ سے راولپنڈی جارہی تھی۔ حادثے میں انجن ڈرائیور، اسسٹنٹ ڈرائیور، پولیس اہلکار اور دو سگے بھائیوں سمیت22افراد جاں بحق جب کہ 150 کے قریب زخمی ہوگئے جنھیں مچھ اسپتال ، کوئٹہ کے سول اسپتال اور سی ایم ایچ منتقل کردیا گیا۔ ٹرین کا انجن مکمل طور پر تباہ ہو گیا جب کہ بوگیوں کو بھی نقصان پہنچا ۔

حقیقت میں سانحہ کی الم ناکی پر ہر دل غم زدہ ہے، اور جو مسافر راہیٔ ملک عدم ہوئے ان کے لواحقین کا دکھ شیئر کرنے کا یہی وقت ہے، تحقیقات جلد اور ناگزیر سہی مگر بنیادی حقیقت ریلوے کے نظام پر لگنے والا سوالیہ نشان کا ہے کہ ایک تہذیبی ادارہ جس نے قومی یک جہتی میں بے مثال کردار ادا کیا ہے اس کے انجنوں کی خرابی آج بھی حادثات کا سبب بن رہی ہے جن میں مضمر خرابی داخلی ،انتظامی یا تکنیکی ہوتی ہے ، دہشتگردی یا تخریب کاری کا امکان بھی نظر انداز نہیں کیا جانا چاہیے۔

انجن ڈرائیورسے ہونے والی غلطی اس لیے عفو و درگزر کے قابل نہیں کہ اس کے رحم و کرم پر کئی مسافر ہوتے ہیں۔ چنانچہ آب گم کی سنگلاخ پہاڑی حدود میں ٹرین کے بریک فیل ہونے کی وجہ سے سانحہ ہوجائے یا انجن کی خرابی اور اس کی مرمت میں تساہل کے باعث ہلاکتیں ہوں تو حکام کے لیے لمحہ فکریہ ہے ۔

وزیر ریلوے خواجہ سعد رفیق جعفر ایکسپریس کے حادثہ کی اطلاع ملتے ہی ریلوے ہیڈ کوارٹر پہنچ گئے ، لازم ہے کہ وہ اس حادثہ کی تہہ تک پہنچیں، ہدایت دیں کہ تحقیقات جزئیات کو جوڑتے ہوئے مکمل کی جائے، غفلت یا پہلو تہی کے تمام زاویوں کے پیش نظر اس چیز کا پتا لگایا جائے کہ حادثہ ہوا کیوں؟ بلاشبہ ریلوے کے فرسودہ اور بگڑے ہوئے نظام اور فنی خرابیوں سمیت انتظامی معاملات کی درستگی میں نمایاں پیش رفت ہوئی ہے اس لیے ان قیاس آرائیوں یا الزامات کو جو جعفر ایکسپریس کے تباہ شدہ انجن کے حوالہ سے گردش میں ہیں ان کی غیر جانبدارانہ تحقیقات ناگزیر ہے ، بدقسمت ڈرائیور اور دیگر ٹیکنیشنز سمیت مسافروں کی الم ناک موت کی ٹائمنگ بھی درد ناک ہے جب کہ ہر جانب موت ، بربادی، آگ ،دھواں اور وحشت نے دنیا کا امن و سکون تہس نہس کردیا ہے۔

وزیراعظم نواز شریف اور وزیراعلیٰ ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ نے حادثہ پر شدید افسوس کا اظہارکرتے ہوئے ریلوے انتظامیہ کو جلد امدادی کارروائیاں مکمل کر کے ٹریک بحالی کا حکم دیا ۔ ادھر پاکستان ریلویز کی جانب سے جعفر ایکسپریس حادثے کی تحقیقات کے لیے فیڈرل گورنمنٹ انسپکٹر آف ریلویز کی زیرقیادت اعلیٰ سطح کمیٹی قائم کر دی گئی ہے جو جمعرات 19نومبر کو آبِ گم اسٹیشن سے انکوائری کا آغاز کرے گی ، حکومت نے جاں بحق افراد کے ورثأ کو آٹھ ، آٹھ لاکھ روپے جب کہ زخمیوں کو 50ہزار سے 3لاکھ روپے ادا کرنے کا اعلان کیا ہے جو زندگی کا نعم البدل تو نہیں مگر اشک شوئی ضرور ہونی چاہیے۔

بہرکیف معلوم کرنا چاہیے کہ کیا واقعی جعفر ایکسپریس کوخراب انجن کے ساتھ روانہ کیا گیا ۔ کیا انجن کی بیشتر موٹریں بھی جواب دے چکی تھیں جب کہ نئے انجن تاحال کوئٹہ ڈویژن کو نہیں مل سکے، یہ سنگین معاملہ ہے جس کی ہمہ جہتی تحقیق و تفتیش ہونی چاہیے، ریلوے انجن اپنی دائمی فنی خرابیوں اور ازکار رفتہ ہونے کے قصوں کے حوالہ سے خاصے بدنام ہیں، اگر چین سے نئے انجن منگا لیے گئے تھے تو جعفر ایکسپریس کے خراب انجن کا واقعہ کتنا سچا ہے۔

اس راز پر سے حکام جلد پردہ اٹھائیں۔ اسی نوعیت کی تکنیکی کوتاہی کا ایک اور واقعہ ریلوے کی اعلیٰ سطح انکوائری کے مطابق چک جھمرہ اسٹیشن پر بدر ایکسپریس کے حوالہ سے ہوا جس میں کسی فنی خرابی کے بجائے سازش کے نتیجہ میں ریلوے ٹریک سے اتری ۔ ذرایع کے مطابق جوائنٹ انویسٹی گیشن عمل میں لانے والے سینئر افسران کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ کانٹوں کے اندر پتھر اور شافٹ میں اینٹ رکھی گئی جس بنا پر 7 نومبر کی صبح فیصل آباد سے لاہور جانے والی بدر ایکسپریس اس مقام پر ''ڈرین منٹ ''کا شکار ہوئی ۔

انکوائری کمیٹی کی جانب سے بعض شواہد کی روشنی میں سب انجینئر سگنلز اسد اللہ اور پوائنٹس مین محمد علی کو براہ راست ذمے دار ٹھہرایا گیا۔ جوائنٹ انکوائری ٹیم میں ڈی ٹی او ، ڈی ایس ای اور ڈی ایم ای ٹو شامل تھے۔ اس لیے دونوں حادثات کی فنی وجہ یا تخریب کاری کے امکانات اور حقائق کے بارے میں ٹھوس تحقیقات ہونی چاہیے۔

جعفر ایکسپریس کو پیش آنے والے حادثہ میں بلوچستان کی حالت جنگ جیسی صورتحال کو مد نظر رکھا جائے کہ ابھی وہاں دہشتگرد اور کالعدم تنظیموں کا زور مکمل طور پر نہیں ٹوٹا، دہشتگرد ، مزاحمت کار، سیاسی طور پر مشتعل اور ناراض ریاست مخالف عناصر اپنے مطالبات کو منوانے کے لیے تخریب کاری یا سبوتاژ کی کسی بھی انتہا تک جا سکتے ہیں۔ جعفر ایکسپریس پر حملہ کے حوالہ سے بلوچ ینگ ٹائیگر کے ترجمان نے ذمے داری قبول کی ہے۔ اس لیے شفاف تحقیقات کے سوا دوسرا کوئی آپشن نہیں۔