دہشتگردی کے خلاف مشترکہ عزم کی ضرورت

دہشت گردی ایک ایسا سنگین عالمی مسئلہ بن چکا ہے جس نے اقوام عالم کا سکھ چین برباد کردیا ہے،


Editorial November 19, 2015
دہشت گردی کے عالمی عفریت کے خلاف اقوام عالم کو مربوط انداز میں کارروائی جاری رکھنی چاہیے۔ فوٹو : ریڈیو پاکستان

BARA: دہشت گردی ایک ایسا سنگین عالمی مسئلہ بن چکا ہے جس نے اقوام عالم کا سکھ چین برباد کردیا ہے،کیونکہ انتہاپسندانہ سوچ کے مالک گروہ معصوم ، بے قصور اور نہتے عوام کو جہاں کہیں بھی چاہیں باآسانی نشانہ بن کر اپنے مذموم مقاصدکی تکمیل چاہتے ہیں، بزورطاقت اپنے نظریات لاگوکرنے اور آزاد عوام کو اپنا غلام بنانے کی سوچ نے جہاں عالمی امن کو نقصان پہنچایا ہے،وہیں بڑی عالمی قوتوں کے دہرے معیار نے ایسے اسباب کو جنم دیا ہے جن کے ردعمل میں دہشتگردی کے واقعات پروان چڑھ رہے ہیں ،اس کا تازہ ترین نشانہ فرانس کے نہتے عوام بنے ہیں۔

پاکستان بھی ایک عشرے سے زائد عرصے سے دہشت گردی کا شکار ملک ہے، ساٹھ ہزار قیمتی انسانی جانوں کی قربانیوں کے باوجود دہشت گردی کا مکمل طور پر خاتمہ نہیں ہوسکا ہے اور یہ جنگ جاری ہے،پاکستان کے غیورعوام اوربہادرافواج نبرد آزما ہیں دہشتگردوں سے،اسی تناظرمیں وزیراعظم نوازشریف نے ازبکستان کے دو روزہ دورہ کے موقعے پرکہا ہے کہ دہشتگردی عالمی مسئلہ ہے، عالمی برادری سے مل کر دہشت گردی کاخاتمہ کریں گے، پاکستان دہشتگردی کے خلاف فرنٹ لائن اسٹیٹ کا کام کر رہا ہے، دوسری جانب پاکستانی فوج کے سپہ سالار جنرل راحیل شریف جو امریکا کے دورے پر ہیں۔

انھوں نے امریکا کے اعلیٰ حکام سے ملاقات کے دوران خطے کو درپیش چیلنجز پر پاکستان کاموقف اجاگر کرتے ہوئے اس امر پر زور دیاکہ پاکستان قومی اتفاق رائے کے ساتھ اپنی سرزمین سے دہشتگردی اور انتہاپسندی کو ہمیشہ کے لیے ختم کرنے کے لیے پرعزم ہے۔دوسری جانب پاکستان نے امریکا پر واضح کر دیا ہے کہ وہ اس شرط پر افغان امن مذاکرات کا ایک اور راؤنڈکرانے میں تعاون کریگا کہ افغانستان اسے سبوتاژ نہ کرنے کی ٹھوس یقین دہانی کرائے۔ پاکستان نے دہشتگردی کے خلاف جنگ میں نمایاں کردار ادا کرتے ہوئے بے بہا قربانیاں مالی وجانی دی ہیں۔

امریکا اور عالمی برادری ہماری قربانیوں کو سراہتے ہیں،اس وقت بھی وطن عزیز میں دہشت گردی کے خلاف ضرب عضب جاری ہے، جس کے مثبت اثرات سامنے آنا شروع ہوچکے ہیں، اس آپریشن کی کامیابی سے پاکستان کو دہشت گردوں سے نجات حاصل کرنے میں مدد ملے گی،دراصل چھوٹی بڑی تمام عالمی طاقتوں کو اب سرجوڑ کر بیٹھنا چاہیے، پہلے علاقائی تنازعات اور ایک دوسرے کے معاملات میں مداخلت اور فوج کشی کی سوچ کو ترک کرنا ہوگا ، افغانستان ،بھارت اور پاکستان کو اپنے تنازعات مذاکرات کے ذریعے حل کرنا چاہیے تب ہی علاقائی امن کے لیے نئے مواقعے پیدا ہونگے۔دہشت گردی کے عالمی عفریت کے خلاف اقوام عالم کو مربوط انداز میں کارروائی جاری رکھنی چاہیے۔