نہ ہر کہ ووٹ بیند وخت لیڈری داند

الفاظ اور زبان و بیان سے قطع نظر جناب کپتان خان کی بلاول بھٹو زرداری یا بلاول زرداری بھٹو کو دعوت ہے


Saad Ulllah Jaan Baraq November 19, 2015
[email protected]

KARACHI: جناب کپتان صاحب نے ہمیشہ کی طرح ''بات'' تو اچھی کی ہے لیکن ''الفاظ'' حسب معمول غیر مناسب استعمال کیے ہیں لیکن خیر کوئی بات نہیں ہے، سیاست میں سب چلتا ہے، زبان و بیان اور قواعد و ضوابط نامی چیزیں سیاست میں ویسے ہی نہیں دیکھی جاتیں جس طرح بقول قوال کے چیز اچھی تو قیمت بھی نہیں دیکھی جاتی اور صورت بھی، کیوں کہ سیاست سر سے پیر تک ''رنج ہی رنج'' ہوتی ہے اور

رنج کی جب گفتگو ہونے لگی
آپ سے تم، تم سے تو ہونے لگی

الفاظ اور زبان و بیان سے قطع نظر جناب کپتان خان کی بلاول بھٹو زرداری یا بلاول زرداری بھٹو کو دعوت ہے کہ وہ ان کے پاس آئیں تاکہ وہ ان کو لیڈری کرنا سکھا دیں، ہم نہیں جانتے کہ بے بی اس کا جواب کیا دیں گے لیکن جب بے بی ہے تو کچھ بھی کہہ سکتے ہیں اور ہمیں ڈر ہے کہ وہ کہیں اپنے ''بے بی پن'' کا مظاہرہ کرتے ہوئے یہ نہ کہہ دیں کہ انکل پہلے آپ تو لیڈری بلکہ ''شوہری'' سیکھ لیں اس کے بعد میں آپ کے آگے زانوئے تلمذ تہہ کروں گا بلکہ بچوں کا کیا ہے کہیں یہ نہ جڑ دیں کہ نیا پاکستان بنانا چھوڑیئے پہلے گھر بسانا تو سیکھ لیجیے، یہ کیا کہ گھر میں ''دیا'' تک نہیں اور نام چراغ دین۔

یہ ہم نہیں کہہ رہے ہیں لیکن بچوں کی زبان تو کوئی نہیں پکڑ سکتا اور پھر ایک ایسا بے بی جسے کپتان صاحب سکھانے کی ضرورت محسوس کر رہے ہوں، ویسے اس ''بے بی'' کے لفظ پر ہم جتنا بھی عش عش کریں کم ہے حالانکہ وہ باربی ڈول بھی کہہ سکتے تھے جو پڑوسی ملک میں ایک بہت ہی بے بی قسم کی بی بی کی عرفیت ہے چونکہ بلاول بھٹو زرداری یا بلاول زرداری بی بی یا بی بی شہید کے فرزند ہیں اس رعایت سے کپتان صاحب نے بڑا موزوں لفظ استعمال کیا ہے بے بی، جناب کپتان صاحب نے ''بے بی'' کو شاگردی کی ہدایت دینے سے پہلے تو ایک بڑا ہی دل چسپ بلکہ فلمی انداز کا سوال کیا ہے کہ ... پہلے بتاؤ آپ کون ہو؟ آپ تو جانتے ہیں کہ ہم اچھے شعر اچھے ڈائیلاگ اور اچھے جملے پر پھڑک اٹھتے ہیں ۔

اس سوال ''آپ کون ہو'' ... میں سے سب سے بڑا حسن تو یہ ہے کہ اس میں لالو پرشاد کی زبان جھلک رہی ہے جو آج ہندوستان میں خصوصی طور پر فلموں اور ڈراموں وغیرہ میں بے تحاشا استعمال ہو رہی ہے، مقصد ''اردو'' کی مٹی پلید کرنے کا ہوتا ہے، آپ کون ہو، آپ کیا کرتے ہو، آپ سن رہے ہو، آپ کہاں جا رہے ہو ... ''آپ'' کے ساتھ ''ہو'' کا استعمال ویسا ہی ہے جیسا آج کل بھارت میں جلیبی کے ساتھ کاکڑا یا پکوڑے کھانے کا فیشن ہے یا پاکستان میں سوفٹ ڈرنک کے ساتھ بسکٹ اور کیک پیسٹری کھائی جاتی ہے اور ہمارے کے پی کے میں چائے کے ساتھ چپلی کباب کھانے کا رواج ہے، مطلب دونوں کا بیڑا غرق کرنا اور ذائقے کی منافقت ہوتی ہے اس لہجے میں مرحوم مولانا عبدالستار نیازی بھی بولتے تھے اور عطاء اللہ سابق نیازی حال عیسیٰ خیلوی گاتے بھی ہیں۔

اس طرز کلام میں کمال یہ ہے کہ سامنے والے کو پہلے سر پر بٹھایا جاتا ہے پھر دھڑام سے گرا کر لات ماری جاتی تھی، والئی سوات مرحوم اس عمل کو الٹ کر کے کرتے تھے وہ بازار میں نکلتے کسی کو ٹریفک کی خلاف ورزی یا کوئی دوسرا ناپسندیدہ کام کرتے دیکھتے تھے تب گاڑی رکوانے کا حکم ہوتا، ساتھ پھرنے والے باڈی گارڈ بھی اچھے خاصے تربیت یافتہ ہو گئے تھے چنانچہ والئی صاحب کے اترنے سے پہلے وہ شخص مذکورہ کو پکڑتے اور لاتوں گھونسوں سے ''نرم'' کرتے ہوئے والئی صاحب کے سامنے کھڑا کر دیتے، والئی صاحب اسے ایک تھپڑ رسید فرماتے اور پھر سو روپے کا نوٹ نکال کر اس کے ہاتھ پر رکھ کر یہ جا وہ جا ہو جاتے۔

اس طریقہ کار سے اکثر بے روزگار لوگوں کو فائدہ پہنچتا وہ دانستہ والئی صاحب کی گزرگاہ میں کھڑے ہو جاتے اور ان کے آنے پر کوئی نہ کوئی ناپسندیدہ حرکت کرتے، دو چار ٹھڈوں اور ایک شاہی تھپڑ کے عوض سو روپے کا ملنا اچھا خاصا منافع بخش سودا تھا کیونکہ ان دنوں مزدور کی دیہاڑی زیادہ سے زیادہ پانچ دس روپے ہوتی تھی جو لوگ اس سعادت سے محروم رہ جاتے وہ بڑے افسوس سے کہتے، دیہاڑی بھی چُھوٹی اور تھپڑ بھی نہیں ملا، جناب کپتان صاحب نے بھی بلاول بھٹو زرداری یا بلاول زرداری بھٹو کے ساتھ وہی کیا ہے پہلے اسے ''آپ'' ... کون ... ہو'' کا پتھر مارا، ماں کی تصویر کے سامنے سیاست کرنے کا طعنہ دیا، لکھی ہوئی تقریر پڑھنے کی پھبتی کسی اور پھر ''سو روپے کا نوٹ'' نکالتے ہوئے کہا کہ بے بی میرے پاس آؤ تجھے لیڈری سکھا دوں ؎ آتجھ کو بتاؤں میں تقدیر امم کیا ہے؟

لے میرے تجربے سے سبق اے مرے ''بے بی''
دو چار سال عمر میں تجھ سے بڑا ہوں میں

ویسے اگر دیکھا جائے تو ''استاد'' یعنی کپتان صاحب اور شاگرد بے بی دونوں ہی نو سیکھئے ہیں دونوں کو ابھی بہت کچھ سیکھنے کی ضرورت ہے لیکن غالباً کپتان صاحب وہ اسٹوڈنٹ ہیں جو دوسروں کو سکھانے کا شدید جذبہ رکھتے ہیں چنانچہ جونیئر اسٹوڈنٹس کو رضاکارانہ طور پر اپنا آموختہ ازبر کرانا چاہتے ہیں ورنہ حقیقت تو یہ ہے کہ کپتان صاحب صرف ''تقریری مقابلے'' میں طاق ہیں باقی ابھی وہ سیاست کی کچی پکی ہی میں بیٹھے ہوئے ہیں، دعویٰ ''نئے پاکستان'' کا کر رہے ہیں لیکن اپنا چھوٹا سا گھروندہ تک نہیں بسا پائے ان کو شاید کسی نے بتایا ہی نہیں ہے کہ

سن تو سہی جہاں میں ہے تیرا فسانہ کیا
کہتی ہے تجھ کو خلق خدا غائبانہ کیا

جناب کپتان نے جناب شہزادہ سے ایک اور بڑے مزے کی بات کہی ہے کہ ماں کی تصویر لگا کر سیاست نہیں کی جاتی ہے اس پر ہمیں وہ ایک انڈین فلم کا سین یاد آرہا ہے اگر کپتان صاحب اور شہزادہ صاحب فرض کیجیے آمنے سامنے ہو کر ڈائیلاگ بازی کریں گے تو کچھ ایسا ہی سین بنے گا مثلاً

کپتان صاحب : میرے پاس انصاف ہے، کرکٹ ہے، اسپتال ہے، کنٹینر ہے، نیا پاکستان ہے تمہارے پاس کیا ہے؟
شہزادہ : میرے پاس ماں ہے
کپتان : ماں نہیں بلکہ ماں کی تصویر ہے

شہزادہ : تمہارے پاس بھی تو صرف تصویری یا تصورات ہیں
کپتان : میرے پاس شوکت خانم ہے
شہزادہ : وہ بھی تو ماں تھی ... اور میرے پاس انکل بھی تو ہیں
کپتان : انکل تو میرے پاس بھی بہت ہیں بلکہ ایک علامہ بھی ہے
شہزادہ : تمہارے پاس علامہ ہے تو میرے پاس گارڈ فادر بھی جو سب پر بھاری ہیں

ظاہر ہے کہ ڈائیلاگ بازی اوروہ بھی سیاسی ڈائیلاگ بازی کبھی ختم نہیں ہوتی لیکن آگے چل کر جو دوسرے ڈائیلاگ ہو سکتے ہیں وہ آپ خود بھی فرض کر سکتے ہیں کیوں کہ ہر دو کے پاس ایک ایک صوبہ اور ایک ایک وزیراعلیٰ بھی تو ہیں یعنی فنانسر بھی سمجھ لیجیے، سیکھنے سکھانے پر یاد آیا، کہتے ہیں ایک مسلمان نے ایک کافر کو پچھاڑ دیا اور اس کے سینے پر بیٹھ کر کہا پڑھ کلمہ پڑھ ۔ کافر نے کہا سر آنکھوں پر ... آپ بتایئے کیا کلمہ پڑھوں، بے چارے مسلمان کو خود بھی کلمہ نہیں آتا تھا، ادھر ادھر دیکھ کر بولا کافر کے بچے تمہیں کلمہ بھی نہیں آتا۔ کپتان صاحب نے شہزادے کو لیڈری سکھانے کی پیش کش تو کر دی ہے لیکن کل کلاں شہزادے نے بستہ گلے میں ڈال کر کہا کہ سکھایئے جناب ... تو پھر ؟
کپتان صاحب یہ نعرہ لے کر اٹھے تھے کہ یہ جو سیاسی پارٹیاں ہیں سارے ایک ہی تھیلی کے چٹے بٹے ہیں آپس میں ملے ہوئے ہیں اور میں ان سب سے الگ نیا پاکستان بناؤں گا، لیکن جب وہ پاکستان کے پی کے میں بنا تو ملنگوں کا کمبل تھا ہر رنگ کا ٹوٹا اس میں لگا ہوا تھا

کے پی کے کسی مفلس کی قباء ہو جس میں
ہر گھڑی درد کے پیوند لگے جاتے ہیں

خیر ہمارا کیا ہے اگر بلاول بھٹو زرداری یا بلاول زرداری بھٹو کو کپتان صاحب کا مشورہ اچھا لگا ہو تو ہم کون ہوتے ہیں بیج میں قلم اڑانے والے، لیکن ہم دونوں کو صرف اتنا بتا دینا چاہتے ہیں کہ پاکستان میں لیڈری کوئی سیکھنے سکھانے کی چیز نہیں ہے یہ ایک ایسا جنگل ہے جس کے سارے پیڑ پودے خود رو ہوتے ہیں مچھلیوں کو تیرنا کوئی بھی نہیں سکھاتا صرف مچھلی کے ہاں پیدا ہونا کافی ہے۔