بلدیاتی الیکشن کا دوسرا مرحلہ خوش اسلوبی سے انجام پذیر

بلدیاتی انتخابات عوام کو اپنے گلی محلے کے مسائل حل کرنے کے لیے نمایندے منتخب کرنے کا موقع فراہم کرتے ہیں


Editorial November 21, 2015
دھاندلی کے کسی امکان سے بچنے کے لیے بائیو میٹرک سسٹم رائج کیا جائے۔ فوٹو : فائل

19نومبر کو ہونے والے بلدیاتی الیکشن کے دوسرے مرحلے میں مسلم لیگ ن نے پنجاب جب کہ پیپلز پارٹی نے سندھ میں برتری حاصل کر لی، پنجاب کے 12 اور سندھ کے 14 اضلاع میں پولنگ ہوئی۔

31 اکتوبر کو پنجاب کے 12 اور سندھ کے 8 اضلاع میں پہلے مرحلے کے بلدیاتی انتخابات ہوئے تھے جس میں پنجاب میں مسلم لیگ ن اور سندھ میں پیپلز پارٹی نے بھاری اکثریت سے کامیابی حاصل کی تھی۔ پہلے اور دوسرے مرحلے کے انتخابی نتائج کے مطابق صوبائی حکمران پارٹیوں ہی نے میدان مارا ہے جب کہ آزاد امیدوار بڑی تعداد میں کامیابی حاصل کر کے دوسرے نمبر پر رہے، اس طرح وہ دوسری بڑی عوامی طاقت بن کر ابھرے ہیں۔

پی ٹی آئی دونوں پہلے اور دوسرے مرحلے کے انتخابات میں تیسرے نمبر پر رہی' تحریک انصاف جو پنجاب میں حکمران جماعت کے لیے ایک بڑا چیلنج تصور کی جا رہی ہے ان انتخابات میں اتنی بڑی تعداد میں نشستیں حاصل نہیں کر سکی جس کی اس سے امید کی جا رہی تھی۔ پنجاب اور سندھ میں حکمران جماعتوں نے غیرمعمولی اکثریت حاصل کر کے اپنی برتری کو منوایا ہے۔

سیکیورٹی خدشات کے باعث سانگھڑ میں انتخابات ملتوی کر دیے گئے ہیں۔ الیکشن کمیشن کے مطابق بلدیاتی انتخابات کے تیسرے مرحلے کے لیے پانچ دسمبر کو پولنگ ہو گی۔ بلدیاتی انتخابات کا دوسرا مرحلہ پہلے مرحلے کی بہ نسبت زیادہ پرامن رہا' چیف الیکشن کمشنر نے پولنگ پر اظہار اطمینان کرتے ہوئے کہا ''بلدیاتی انتخابات کے دوسرے مرحلے کی تکمیل خوش آیند ہے' پرامن بلدیاتی انتخابات کرانے اور امن و امان کی صورت حال کنٹرول کرنے میں پاک فوج کا کردار لائق تحسین ہے' 76 بلدیاتی حلقوں میں الیکشن عدالت کے حکم پر روکے گئے ہیں' الیکشن کمیشن انتخابات کرانا چاہتا تھا لیکن عدالتی فیصلوں کو تسلیم کیا گیا'' ۔

بلدیاتی انتخابات عوام کو اپنے گلی محلے کے مسائل حل کرنے کے لیے نمایندے منتخب کرنے کا موقع فراہم کرتے ہیں' اسی لیے ان انتخابات کے بغیر جمہوری نظام مکمل نہیں ہوتا۔ اب منتخب نمایندوں پر یہ بھاری ذمے داری ہوتی ہے کہ وہ عوامی مسائل حل کرنے کے لیے اپنی تمام صلاحیتیں بروئے کار لائیں جس مقصد کے لیے ان کا انتخاب عمل میں آیا ہے۔

ان انتخابات میں بعض حلقوں میں حیران کن نتائج سامنے آئے ' گوجرانوالہ ریجن کے تینوں اضلاع میں میونسپل کارپوریشن' میونسپل کمیٹیوں اور ضلع کونسلز کی بیشتر نشستوں پر مسلم لیگ ن کے امیدواروں نے میدان مارا جب کہ پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ق ایک بھی نشست نہ جیت سکی۔ بھیرہ میں وزیر مملکت امین الحسنات کے بھائی پیر ابراہیم شاہ شکست کھا گئے' حافظ آباد میں وزیر مملکت برائے صحت سائرہ افضل تارڑ کے والد اور سابق وفاقی پارلیمانی سیکریٹری میاں افضل حسین تارڑ کو بھی شکست ہو گئی۔ سندھ کے انتخابات کی خاص بات بدین شہر کے الیکشن تھے پیپلز پارٹی کے باغی رہنما ذوالفقار مرزا کے گروپ نے میونسپل کمیٹی کی تمام 14 سیٹوں پر کامیابی حاصل کر کے پیپلز پارٹی کو شکست دی۔

یو سی فتح آباد میں ذوالفقار مرزا کے بیٹے حسام مرزا نے صوبائی وزیر سکندر میندھرو کے رشتہ دار کو شکست دی' حیدر آباد میں ایم کیو ایم آگے رہی۔ دوسرے مرحلے کے انتخابات پہلے مرحلے کی نسبت پرامن رہے کیونکہ پنجاب اور سندھ حکومت نے پہلے مرحلے میں رونما ہونے والے چند ناخوشگوار واقعات کے پیش نظر سیکیورٹی کے بہترین انتظامات کیے تھے' الیکشن کمیشن نے بھی انتخابات کو شفاف بنانے کے لیے بھرپور کردار ادا کیا تاہم بعض پولنگ اسٹیشنز پر دھاندلی اور بے ضابطگی کے الزامات بھی سامنے آئے۔ 2013 کے عام انتخابات' ضمنی انتخابات اور اب بلدیاتی انتخابات کا جائزہ لیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ دھاندلی اور بے ضابطگیوں کے الزامات میں کمی نہیں آئی اور ان کا مسئلہ بدستور چلا آ رہا ہے۔

یہ اس امر پر دلالت کرتا ہے کہ انتخابی نظام میں کہیں نہ کہیں کوئی خرابی اور سقم موجود ہے جس کو ختم کرنے کے لیے ابھی تک کوئی کوشش سامنے نہیں آئی جہاں تک الیکشن کمیشن کے اختیارات کا تعلق ہے تو اس میں بھی اصلاحات کی ضرورت شدت سے محسوس کی جا رہی ہے' چیف الیکشن کمشنر کا الیکشن میں ریٹرننگ افسروں کی تعیناتی سے لے کر دیگر معاملات تک کوئی فعال کردار نظر نہیں آتا زیادہ کردار صوبائی الیکشن کمیشن کے ارکان نے ادا کیا' مرکزی اور صوبائی الیکشن کمیشن سے لے کر پریذائیڈنگ افسر تک کسی کے پاس کوئی ایسا اختیار نہیں کہ وہ پولنگ اسٹیشن سے باہر ہونے والے امن و امان کے مسئلے سے نمٹنے کے لیے پولیس کو ہدایت دے سکے۔

ان خامیوں کو دورکرنے کے لیے ناگزیر ہے کہ بھارت کی طرح الیکشن کمیشن کے اختیارات میں خاطر خواہ اضافہ کیا جائے' دھاندلی کے کسی امکان سے بچنے کے لیے بائیو میٹرک سسٹم رائج کیا جائے اس طرح بیلٹ بکس کی منتقلی کے دوران ہونے والی ہیرا پھیری کے امکانات بھی ختم ہو جائیں گے' حلقہ بندیاں کرتے ہوئے سیاسی اثرونفوذ کا خیال نہ رکھا جائے' ووٹر لسٹوں کو اپ ڈیٹ کیا جائے اور انتخابی عمل سے کچھ عرصہ قبل انتخابی امیدواروں کو ووٹر لسٹیں دے کر ان کی پڑتال کرائی جائے تاکہ بعدازاں امیدواروں کی جانب سے ووٹر لسٹوں میں تبدیلی کے الزامات نہ لگائے جا سکیں۔