تعلیم کے فروغ میں اراکین اسمبلی کا کردار

پنجاب اسمبلی کے زیادہ تر اراکین بھی سرکاری شعبہ میں تعلیم کے حوالے سے غفلت کا شکار ہیں


Editorial November 21, 2015
تعلیم کی اہمیت کو بھی کم نہیں سمجھا جانا چاہیے اور اس طرف منتخب اراکین اسمبلی کی خصوصی توجہ ہونی چاہیے۔ فوٹو:فائل

وطن عزیز میں تعلیم کے شعبے کی زبوں حالی کے بارے میں بہت باتیں کی جاتی ہیں مگر کہیں کہیں ہمیں کوئی مثبت صورتحال بھی نظر آتی ہے جس سے حوصلہ پیدا ہوتا ہے کہ ممکن ہے رفتہ رفتہ حالات بہتر ہوجائیں۔

ملک میں تعلیم کے فروغ کی مہم چلانے والی ایک غیر سرکاری تنظیم نے چاروں صوبوں میں فروغ تعلیم کے لیے اراکین اسمبلی کی کارکردگی کا تفصیلی جائزہ لیتے ہوئے اس میں اصلاح کی گنجائش کا ذکر کیا ہے اور اعداد و شمار کے ذریعے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ اراکین اسمبلی نے اپنے صوبوں میں سرکاری اسکولوں کی حالت بہتر بنانے یا مزید نئے اسکول قائم کرنے میں کوئی کارنامہ قائم نہیں کیا۔ صوبہ سندھ میں کراچی اور حیدر آباد کے شہروں میں سرکاری اسکولوں کی حالت اس بنا پر بہتر نظر آتی ہے کہ یہاں لڑکیوں کے اسکولوں میں طالبات کی تعداد میں اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے تاہم ٹھٹھہ اور تھرپارکر میں طالبات کی تعلیم کی طرف اراکین اسمبلی کی طرف سے قطعاً کوئی توجہ نہیں دی جا رہی۔

پنجاب اسمبلی کے زیادہ تر اراکین بھی سرکاری شعبہ میں تعلیم کے حوالے سے غفلت کا شکار ہیں، البتہ خیبرپختونخوا میں اراکین اسمبلی تعلیم کے فروغ میں نسبتاً زیادہ فعال ہیں۔ ادھر بلوچستان میں بھی اراکین اسمبلی اپنے حلقوں میں سرکاری تعلیمی اداروں کی تعداد بڑھانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ یہ درست ہے کہ اراکین اسمبلی کی بہت زیادہ اہم مصروفیات بھی ہوتی ہیں جن میں سے تعلیم کے فروغ کے لیے وقت نکالنا مشکل ہوتا ہے تاہم تعلیم کی اہمیت کو بھی کم نہیں سمجھا جانا چاہیے اور اس طرف منتخب اراکین اسمبلی کی خصوصی توجہ ہونی چاہیے۔