مذہبی انتہا پسندی خطرناک ہتھیار
داعش کو یورپ سمیت 20 سے زائد ممالک سے امداد ملتی ہے۔
JEDDAH:
داعش کو یورپ سمیت 20 سے زائد ممالک سے امداد ملتی ہے۔ اس خود ساختہ اسلامی ریاست کا تیل ترکی اور دیگر ممالک خریدتے ہیں۔ داعش شام میں آثارِ قدیمہ کی اسمگلنگ سے اربوں روپے کماتی ہے۔ صدر پوتن کہتے ہیں کہ داعش کی مالیاتی امداد میں یورپ سمیت 20 سے زائد ممالک ملوث ہیں۔ کیا فرانس کے فضائی حملوں سے داعش کی حکومت کا خاتمہ ہو گا؟ صدر اوباما زمینی دستوں کی داعش کے خلاف جنگ کو خطرناک قرار دیتے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ داعش کی حکومت کے خاتمے کے لیے ایران اور سعودی عرب، امریکا، شام اور مصر میں تعاون ضروری ہے۔ داعش، القاعدہ اور دیگر مذہبی انتہاپسند تنظیموں کے وجود میں آنے کے معاملات امریکا کی ایشیاء کے بارے میں پالیسیوں سے منسلک ہیں۔ 70ء کی دہائی تک دنیا کا نقشہ مختلف تھا۔ سوشلسٹ ریاست سوویت یونین کی مدد سے ایشیاء اور افریقہ اور 40 کے قریب ممالک نوآبادی نظام سے چھٹکارا حاصل کر چکے تھے۔
جنوبی امریکا میں کیوبا کاسترو کی قیادت میں امریکا کو چیلنج کر رہا تھا۔ امریکا مشرقِ بعید میں 20 سال تک لڑائی کے بعد ویتنام سے شکست کھا چکا تھا۔ شاہِ ایران کے خلاف کمیونسٹ تودہ پارٹی اور دیگر سوشلسٹ گروپوں کی جدوجہد کامیابی کے قریب تھی۔ افغانستان میں کامریڈ استاد امیر کبیر کی قیادت میں کمیونسٹ پارٹی اقتدار کے قریب تھے۔ پھر استاد امیرکبیر کے قتل کے بعد نور محمد تراکئی کی قیادت میں افغانستان میں سوشلسٹ انقلاب کی ابتداء ہو چکی تھی۔
امریکی ماہرین نے سوویت یونین کو کمزور کرنے کے لیے مذہب کو بطور ہتھیار استعمال کرنے کا فیصلہ کیا۔ ان ماہرین نے مذہبی منافرت کے نقصانات کو اہمیت نہیں دی۔ امریکی خفیہ ایجنسی سی آئی اے نے افغانستان میں پروجیکٹ شروع کیا۔ جنرل ضیاء الحق اس پروجیکٹ کے اسٹیک ہولڈر بن گئے، اور مذہبی انتہاپسندی کی ترویج کی پالیسی پر عملدرآمد شروع ہوا۔ پوری دنیا کے مذہبی انتہاپسندوں کو پاکستان میں جمع کیا گیا۔ اور افغانستان میں جہاد میں مصروف ہوئے۔
سوویت یونین اور افغانستان امریکی ماہرین کی حکمت عملی کا سامنا نہ کرسکے، اور سوویت یونین ختم ہوا مگر انتہاپسندی کا عفریت پاکستان سمیت دیگر مسلمان ممالک میں پھیل گیا۔ اس دوران نائن الیون کا واقعہ ہوا۔ اس دن دنیا دو حصوں میں تقسیم ہو گئی۔ امریکا نے دہشت گردی کے خاتمے کے لیے جامع پالیسی اختیار کی۔ مگر یہ عفریت دنیا میں پھیل گیا۔ پھر مشرق وسطیٰ میں امریکی مفادات کے تحفظ کا معاملہ سنگین نوعیت اختیار کر گیا اور مستقبل میں تیل کے ذخائر پر امریکی قبضے کے بارے میں امریکی جنگی ماہرین نے ایک منصوبہ تیار کیا تو امریکا نے عراق پر حملہ کیا۔ اس حملے میں یورپی ممالک امریکا کے ہم رکاب ہوئے۔ امریکی جارحیت کی بناء پر صدر صدام حسین کی حکومت ڈھیر ہو گئی مگر اسلامی دنیا کے تضادات پورے مشرق وسطیٰ میں پھیل گئے۔
فرقہ وارانہ خلیج نے ایک نئی تباہی کا آغاز کیا۔ جب جمہوریت پسندوں نے بحرین میں طاقت پائی اور سعودی امارات کو خطرہ ہوا تو یمن میں ایک نئی لڑائی چھڑ گئی۔ چند سال قبل مصر، الجزائر، لیبیا اور تیونس میں ایک نئی لڑائی چھڑ گئی۔ امریکا نے مذہبی انتہاپسندوں کو ان ممالک پر قبضے کے لیے استعمال کرنا شروع کیا۔
شام میں صورتحال زیادہ خراب ہوئی۔ امریکا، ترکی اور سعودی عرب نے بشار الاسد کی حکومت کے خاتمے کے لیے مذہبی انتہاپسندوں کی سرپرستی شروع کر دی، جس طرح افغانستان میں طالبان اور القاعدہ وجود میں آئے تھے اسی طرح عراق میں ابوبکر بغداد ی نے داعش قائم کی۔ امریکا اور یورپی ممالک اور ترکی کے اشتراک سے ابوبکر بغدادی کو ایک نئی زندگی مل گئی۔
داعش کے بہیمانہ مظالم کی داستانیں عام ہوئیں۔ مگر امریکا اور یورپی ممالک کے داعش کو غیر قانونی ریاست قرار دینے کے فیصلے کے باوجود ترکی نے داعش سے تعلقات برقرار رکھے۔ ترکی کے راستے داعش والے تیل فروخت کرتے رہے۔ اسی طرح آثارِ قدیمہ کی فروخت کی ایک نئی منڈی کھل گئی۔ داعش کی بہیمانہ پالیسیوں کی بناء پر لاکھوں لوگوں کو یورپی ممالک میں پناہ مل گئی۔
داعش نے ترکی، سعودی عرب اور لبنان میں دوسرے فرقوں کی عبادت گاہوں کو خودکش حملوں سے تباہ کرنا شروع کیا۔ کہا جاتا ہے کہ طالبان کا ایک حصہ ابوبکر بغدادی کے ہاتھوں بیعت کر کے داعش میں شامل ہوا۔ افغانستان میں طالبان اور داعش کے حامیوں میں جھڑپوں کی خبریں ذرایع ابلاغ کی زینت بنیں۔ کراچی سمیت کئی شہروں میں سڑکوں پر داعش کی حمایت میں ہونے والی وال چاکنگ بھی ہوئی ۔ اگرچہ پاکستان میں حکام داعش کی موجودگی کی تردید کرتے ہیں مگر انتہاپسندی پر نظر رکھنے والے ماہرین ملک میں داعش کی موجودگی کی تصدیق کرتے ہیں۔
اسی طرح بھارت کے مسلمانوں میں بھی داعش کی موجودگی کا ذکر ہو رہا ہے۔ فرانس میں گزشتہ ہفتے ہونے والے خودکش حملوں اور 200 کے قریب افراد کی ہلاکت کے بعد اب یورپ اس عفریت کے خاتمے کی تدابیر پر غور کر رہا ہے۔ فرانس نے شام میں داعش کے ٹھکانوں پر فضائی حملوں کو بڑھا دیا ہے اور اتحادیوں کی ایک مشترکہ فوج کے شام پر حملے پر غور ہو رہا ہے۔ صدر اوباما کی یہ بات اس تناظر میں انتہائی اہم ہے کہ داعش کی خلافت کے خلاف زمینی جنگ خطرناک ہو گی۔
اصولی طور پر امریکا اور یورپی ممالک کی مشرق وسطی اور خطے کے دیگر ممالک کے بارے میں پالیسی پر بنیادی تبدیلیوں کی ضرورت ہے۔ داعش کے خلاف امریکا، ایران، ترکی اور سعودی عرب کو ایک مشترکہ حکمت عملی اختیار کرنا سب سے ضروری بات ہے۔ ان ممالک کو شام کے صدر بشار الاسد کا تختہ الٹنے کی پالیسیوں کو فوری طور پر ترک کرنا چاہیے۔
شام کی مدد سے داعش کی ناکہ بندی ہونی چاہیے۔ دہشت گردی کے ماہرین کا کہنا ہے کہ داعش میں مغربی ممالک کے نوجوانوں کی شمولیت نے صورتحال کو زیادہ خراب کیا ہے۔70ء کی دہائی میں امریکا نے سوویت یونین کے خاتمے کے لیے مذہبی انتہاپسندی کو جو ہتھیار استعمال کیا تھا اس کے نتیجے میں جو انتہاپسند ذہن وجود میں آئے اب ضرورت ہے کہ اس پالیسی کو ہمیشہ کے لیے ترک کر کے ایک سیکیولر اور انسانیت کی روایات پر مبنی ذہن کی پرورش کے لیے اقدامات ہوں۔ امریکا اپنی ایڈہاک پالیسیوں کے دنیا میں ہونے والے نقصانات کا جائزہ لے اور ٹونی بلیئر کی طرح اپنی غلطی تسلیم کرے۔