کراچی دہشت گردی کی بزدلانہ واردات

حکومت نے رینجرز اور پولیس کے مشترکہ آپریشن کا آغاز کیا جس کے مثبت نتائج پوری قوم نے دیکھ لیے


Editorial November 22, 2015
دہشت گردی ملکی سلامتی کے لیے وجودی خطرہ ہے، عوام کے جان ومال کا تحفظ اولین ترجیع ہے، فوٹو : ایکسپریس

لاہور: کراچی کے علاقے بلدیہ ٹاؤن میں دہشت گردوں کی نماز جمعہ کے وقت ابو حریرہ مسجد و مدرسہ کے باہر اندھا دھند فائرنگ سے رینجرز سندھ کے4 اہلکار شہید ہوگئے۔

یہ وہ علاقہ ہے جہاں قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ ساتھ سیاسی جماعتوں، انسانی حقوق کی تنظیموں اور معاشرے کی سنجیدہ اکثریت کی تحقیق کے مطابق کالعدم تنظیموں ، دہشت گرد وفرقہ وارانہ ہلاکتوں میں ملوث گروہ اپنے ماسٹرمائنڈز کی نگرانی اور ہدایات کے تحت کارروائی کے لیے مختلف محلوں میں کثیر تعداد میں رہتے ہیں، لیکن ان تک رسائی اور واردات سے قبل ان کی گرفتاری کا خواب ابھی تک شرمندہ تعبیر ہے۔

صدر مملکت ممنون حسین ، وزیر اعظم محمد نواز شریف اور وزیر اطلاعات پرویز رشید نے رینجرز پر حملے کی شدید مذمت کی ہے اور شہید اہلکاروں کے ورثا سے اظہار تعزیت کیا ہے، وزیر اعلیٰ سندھ قائم علی شاہ نے ڈی جی رینجرز کو فون کر کے اہلکاروں کی شہادت پر افسوس کا اظہار کیا اور شہداء کے ورثاء کے لیے فی کس20 لاکھ روپے معاوضے کا اعلان کیا ۔ وزیر داخلہ سندھ سہیل انور خان سیال نے آئی جی سندھ سے رپورٹ طلب کر لی ۔

جمعہ کی نماز کے فوری بعد موٹرسائیکل سوار دہشت گردوں نے سیکیورٹی پرتعینات رینجرز اہلکاروںکی موبائل پر اندھا دھند فائرنگ کی اور اسلحہ لہراتے ہوئے فرار ہوگئے ۔ حقیقت یہ ہے کہ کراچی عشروں سے دہشت گردی کی آگ میں جھلس رہا تھا اور انسانی ہلاکتوں ، بدامنی ، بھتہ خوری، ٹارگٹ کنلگ اور اغوا برائے تاوان کے بعد اس میگا سٹی میں فرقہ وارانہ تضادات ابھارنے والے عناصر کا غلبہ بڑھتا گیا اور دہشت گردی کے عفریت نے عالمی لہر کے ہم دوش پاکستان کی ریاستی رٹ کو چیلنج کیا جب کہ طالبانیت کے ہولناک ایجنڈے کی تکمیل میں بیگناہوں کے خون ناحق سے اپنے ہاتھ رنگ لیے گئے ۔

یہی وہ مرحلہ تھا جب حکومت نے رینجرز اور پولیس کے مشترکہ آپریشن کا آغاز کیا جس کے مثبت نتائج پوری قوم نے دیکھ لیے اور شہر کراچی کو اس کی رونقیں دوبارہ لوٹائی گئیں۔ تاہم دہشت گرد تنظیموں کی طرف سے بلدیہ ٹاؤن کی بزدلانہ اور الم ناک واردات سے یہ سگنل ملا ہے کہ قانون نافذ کرنے والوں کو اپنی انٹیلی جنس شیئرنگ، ریپڈ ڈپلائمنٹ فوروسز کی نتیجہ خیز فعالیت، باہمی رابطہ اور مجرموں کو واردات کے چوبیس گھنٹے کے اندر گرفتار کرنے کے لیے کوئی کسر نہیں اٹھا رکھنی چاہیے، رینجرز اور پولیس دونوں فورسز کو جمعہ کی نماز اور بلدیہ ٹاؤن کے علاقہ کی حساسیت کا اندازہ تھا تو کس طرح مسلح موٹرسائیکل سوار منظر میں ابھرے اور رینجر اہلکاروں کو شہید کر کے فرار ہوگئے ۔

اس واردات کو دہشت گردی مخالف میکنزم کے تناظر میں دیکھا جائے تو پیرس پولیس کی سی فعالیت اور چابکدستی کی ضرورت ہے کہ کس طرح وہاں مجرموں اور سانحہ کے اصل ذمے داروں کو کونوں کھدروں سے زندہ یا مردہ ڈھونڈھ کر نکالاگیا، سوچنے کا مقام ہے کہ بلدیہ کی ابوہریرہ مسجد کے اطراف جدید ترین ہتھیاروں سے فائرنگ ہو، پورا علاقہ بندوقوں کی گڑگڑاہٹ سے لرز اٹھے اور وہ گلی کوچوں سے پر شور موٹرسائیکلوں پر اپنا ٹارگٹ پورا کر کے بچ نکلیں ایک بڑے سوالیہ نشان کی صورت اینٹی ٹیرر حکمت عملی سے متعلق حکام کے سامنے آیا ہے۔

اس لیے امید کی جانی چاہیے کہ کل کا سورج طلوع ہونے سے قبل قاتلوں کی گردنیں دبوچی جائیں گی اور وہ میڈیا کے سامنے پیش کیے جائیں گے ۔ ڈی جی رینجرز میجر جنرل بلال اکبر نے صحافیوں کو بتایا کہ رینجرز خوفزدہ نہیں ہوئی، آخری دہشت گرد تک آپریشن جاری رکھے گی ، اس واردات میں ملوث کالعدم تنظیم کے دہشت گردوں، ٹارگٹ کلرز اور ان کے سہولت کاروں کو ہر صورت گرفتارکیا جائے گا۔ سابق وزیر داخلہ لیفٹیننٹ جنرل (ر) معین الدین حیدر نے کہا ہے کہ کراچی میں رینجرز اہلکاروں کی ہلاکت کوئی ٹرننگ پوائنٹ نہیں ہے کہ جس سے کراچی آپریشن کو ادھورا چھوڑ دیا جائے، کراچی آپریشن جاری رہیگا، دوسری طرف رینجرز سندھ نے شہر کے مختلف علاقوں میں ٹارگٹڈ کارروائیاں کر کے کالعدم تنظیم کے 3دہشت گردوں کوگرفتارکرلیا ۔

ترجمان کے مطابق2 ملزمان نے دوران تفتیش انکشاف کیا ہے کہ انھوں نے کراچی میں بلدیاتی الیکشن کے دوران کارروائی کی منصوبہ بندی کررکھی تھی ۔بتایا جاتا ہے کہ حملہ آوروں کی تعداد 6 تھی جو 3 موٹر سائیکلوں پر سوار اور شلوار قمیض میں ملبوس تھے ، دہشت گرد مسجد کے عقب سے آئے اور واردات کے بعد انھوں نے فرار ہونے کے لیے بھی وہی راستہ اختیار کیا ۔ اصولاً دہشت گردی مخالف حکمت عملی کے تحت ملزموں کو کوئی راستہ ملنا ہی نہیں چاہیے۔

دہشت گردی ملکی سلامتی کے لیے وجودی خطرہ ہے، عوام کے جان ومال کا تحفظ اولین ترجیع ہے، حیرت ہے کہ دنیا میں ایسے بھی دانشور ہیں جن کا کہنا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ بھی دہشت گردی ہے۔ بلدیہ ٹاؤن کا واقعہ عالمی دہشت گردی سے الگ نہیں، آج کا دہشتگرد عام مجرم نہیں ، وہ بقول شخصے نظریہ کے ہتھیار سے مسلح ہے، اس کی وحشت ناک کارروائی کسی مذہب اور مسلمہ انسانی اقدار کو خاطر میں نہیں لاتی ۔ یہ قتل وغارت کا بین الاقوامی تسلسل ہے،جس کا سرا تلاش کرنا ناگزیر ہے، جب کہ ضرورت اس بات کی ہے کہ انتہا پسند اور بلدیہ میں غیر انسانی واردات میں ملوث عناصر کو جلد از جلد گرفتار کر کے قرار واقعی سزا دلائی جائے۔