سلامتی کونسل کا داعش کے خلاف اعلان جنگ

سلامتی کونسل کی قرار داد اور صدر اوباما کے خطاب سے یہ واضح ہو جاتا ہے کہ اب شام میں ایک نئی جنگ شروع ہونے والی ہے


Editorial November 23, 2015
روس، امریکا اور اس کے اتحادی داعش کے خلاف تو ہیں مگر روس بشار الاسد حکومت کا بڑا حامی ہے۔ فوٹو: فائل

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے داعش کے خلاف طبلہ جنگ بجا دیا ہے، سلامتی کونسل میں متفقہ طور پر منظور کی جانے والے ایک قرارداد میں تمام ممالک پر زور دیا گیا ہے کہ وہ نام نہاد شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ کے خلاف جنگ میں شامل ہوں۔ یہ قرارداد فرانس کی جانب سے پیرس حملوں کے بعد سلامتی کونسل میں پیش کی گئی تھی، اس قرارداد میں عراق اور شام میں سرگرم دولتِ اسلامیہ کو دنیا کے امن و امان کے لیے ایک غیر معمولی عالمی خطرہ قرار دیتے ہوئے اس کے خلاف کارروائیوں کو مربوط انداز میں دگنا کرنے کا کہا گیا ہے، سلامتی کونسل نے تمام ممالک کو دولتِ اسلامیہ کے خلاف تمام ضروری اقدامات کرنے کی اجازت دی ہے۔فرانس کے صدر فرانسوا اولاند نے قرارداد کی منظوری کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس کی مدد سے دولت اسلامیہ کو ختم کرنے کے لیے ممالک کو متحرک کرنے میں مدد ملے گی۔خبروں کے مطابق قرارداد میں فوجی کارروائی کی قانونی بنیاد فراہم نہیں کی گئی،اقوام متحدہ کے چارٹر کی شق سات بھی اس میں شامل نہیں جس کے تحت طاقت کے استعمال کی قانونی طور پر اجازت دی جاتی ہے تاہم فرانسیسی سفارت کاروں کے مطابق اس سے دولتِ اسلامیہ کے خلاف جنگ میں اہم بین الاقوامی سیاسی حمایت حاصل ہو گی۔

دوسری جانب امریکی صدر بارک اوباما نے ملائیشیا کے دارالحکومت کوالالمپور میں آسیان کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ شام میں نئی سیاسی حکومت کی ضرورت ہے' بشار الاسد کو اقتدار چھوڑنا ہو گا ان کے مخالفین کو شکست دے کر یہ جنگ نہیں جیت سکتے، داعش کو مالی معاونت کی فراہمی ہر صورت روکنا ہو گی جس کے خاتمے کے لیے سعودی عرب بھی تعاون کر رہا ہے' داعش کا سربراہ ابوبکر البغدادی جہاں بھی ہوا اسے جلد ڈھونڈ نکالیں گے اور دہشت گرد تنظیم کے خوف کو جڑ سے اکھاڑ پھینکیں گے، داعش کو تباہ کرنا ہمارا حقیقی مقصد ہے، اسے ختم کر کے دم لیں گے اس کے خلاف جنگ میں سو سے زائد ممالک حصہ لے رہے ہیں ' شام میں روس کے حملوں سے داعش کو مدد ملی' روس شام میں سیاسی طریقے سے تبدیلی پر رضا مند ہے لیکن اسے دمشق میں اپنی ترجیحات طے کرنے کی ضرورت ہے، مسلمان نہیں صرف ایک چھوٹا سا گروہ دہشت گردی میں ملوث ہے، پوری دنیا کو داعش کے دہشت گردوں کے ہاتھوں یرغمال بننے نہیں دیں گے۔

سلامتی کونسل کی قرار داد اور صدر اوباما کے خطاب سے یہ واضح ہو جاتا ہے کہ اب شام میں ایک نئی جنگ شروع ہونے والی ہے' امریکا نے یہ جنگ داعش اور بشار الاسد کے خلاف لڑنے کا اعلان کیا ہے۔ امریکا اور اس کے اتحادی جدید ترین ہتھیاروں سے لیس ہو کر یہاں خون کی نئی ہولی کھیلنا چاہتے ہیں' یہ جنگ کتنی دیر تک جاری رہتی اور اس کا انجام کیا ہوتا ہے یہ الگ بحث ہے لیکن یہ طے ہے کہ جب امریکی اور اتحادی فوجیں داعش اور سرکاری فوجوں کے خلاف بارود پھینکیںگی تو رہا سہا شام ملبے کا ڈھیر بن جائے گا اور ہزاروں بے گناہ افراد مارے جائیں گے۔ شام میں خانہ جنگی کا آغاز مارچ 2011ء میں ہوا جس کے باعث لاکھوں افراد مارے اور زخمی ہونے کے علاوہ بے گھر ہو گئے اور ہر طرف تباہی پھیل گئی' ملک کا انفراسٹرکچر ٹوٹ گیا۔ حکومت مخالف جنگجوؤں نے شروع شروع میں بڑے پیمانے پر کامیابی حاصل کی اور سرکاری فوجوں کو شدید نقصان پہنچایا' سرکاری فوج میں سے بھی بہت سے لوگ باغی ہو کر جنگجوؤں کے ساتھ شامل ہوگئے۔ روس اور ایران نے بشار الاسد کی حکومت کو بچانے کے لیے ہر ممکن مدد کی اور اب بھی وہ اس کا بھرپور ساتھ دے رہے ہیں۔ روس، امریکا اور اس کے اتحادی داعش کے خلاف تو ہیں مگر روس بشار الاسد حکومت کا بڑا حامی ہے۔

اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر امریکا اور اس کے اتحادی بشار الاسد حکومت الٹنے کے لیے کوئی کارروائی کرتے ہیں تو روس اسے بچانے کے لیے کس حد تک آگے بڑھتا ہے یا پھر وہ حالات کی نزاکت دیکھتے ہوئے حکومت کی تبدیلی پر رضا مند ہو جاتا ہے۔ اگر روس اور ایران بشار الاسد حکومت کو بچانے کے لیے کوشش کرتے ہیں تو پھر خطرہ ہے کہ اس خطے میں جنگ خطرناک صورت حال اختیار کر جائے گی جس سے پورا مشرقی وسطیٰ کا خطہ متاثر ہونے کا امکان ہے۔ بعض تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ امریکا کسی اسلامی ملک کو تباہ کرنے کے لیے کوئی نہ کوئی ایشو پیدا کر دیتا ہے جس طرح یہ اطلاعات منظرعام پر آ چکی ہیں کہ 9/11 کے واقعے کے پیچھے امریکی ایجنسیوں کا ہاتھ تھا ممکن ہے کہ پیرس حملوں کے پیچھے بھی انھی ایجنسیوں کی کوئی سازش کارفرما ہو جس کی آڑ میں وہ شام پر حملہ کرکے اسے تباہ کرنا چاہتے ہوں۔ عراق میں آج تک مستحکم حکومت تشکیل نہیں پا سکی اور وہ مسلسل خانہ جنگی کا شکار چلا آ رہا ہے، اگر امریکا اور اس کی اتحادی فوجیں بشار الاسد حکومت کے خاتمے میں کامیاب ہو جاتی ہیں تو شام کی قسمت بھی عراق سے کچھ مختلف نہیں ہو گی۔