کراچی میں رینجرز کی کارروائی 4 دہشت گرد ہلاک

وطن عزیز میں دہشت گردوں کے خلاف آپریشن ضرب عضب کے نتیجے میں بھی اس عفریت سے نجات کی امید پیدا ہوئی ہے


Editorial November 23, 2015
کراچی میں رینجرز آپریشن سے پہلے بوری بند لاشیں ملنا بھی ایک معمول کی خبر بن چکی تھی۔ فوٹو: فائل

ملک کے معاشی ہب کراچی میں دہشت گردی کے خلاف سیکیورٹی فورسز کے موثر آپریشن کے نتیجے میں شہر کے امن و امان کی صورتحال میں بہتری کا احساس اب ہر شہری کو ہو رہا ہے کیونکہ بھتہ مافیا کے ہاتھوں ٹارگیٹ کلنگ کے واقعات میں نمایاں کمی واقع ہو گئی ہے لیکن ان عناصر پر ابھی پوری طرح قابو نہیں پایا جا سکا' جنھیں کہیں سے فنڈنگ بھی ہوتی ہے اور لاجسٹک سپورٹ بھی ملتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جمعہ کی دوپہر نمازیوں کی حفاظت کے لیے تعینات رینجرز کے اہلکاروں کو دہشت گردوں نے شہید کیا۔ اب رینجرز نے مجرموں کی تلاش کے لیے آپریشن کرتے ہوئے کراچی کے علاقے منگھو پیر خیر آباد میں مقابلے کے دوران 4 مبینہ دہشتگردوں کو ہلاک کر کے ان کے قبضے سے اسلحہ برآمد کر لیا۔ مقابلے میں ایک رینجرز اہلکار بھی زخمی ہوا۔

ترجمان رینجرز کے مطابق مقابلے میں ہلاک ہونیوالے دہشتگرد سیکیورٹی فورسز پر حملوں میں ملوث تھے تاہم ان کی شناخت نہیں ہو سکی۔ انٹیلی جنس اطلاعات کے مطابق مقابلے میں ہلاک دہشتگرد پولیس اور رینجرز اہلکاروں پر حملوں کی منصوبہ بندی کر رہے تھے۔ علاوہ ازیں رینجرز نے شہر بھر میں دہشتگردوں اور جرائم پیشہ عناصر کے ٹھکانوں پر سرجیکل اور ٹارگٹڈ چھاپوں کے دوران ٹارگٹ کلرز، بھتہ خور، لیاری گینگ وار اور مختلف کالعدم تنظیموں کے 20 دہشتگردوں سمیت 73 ملزموں کو گرفتار کر کے ان کے قبضے سے اسلحہ برآمد کر لیا۔ کراچی میں رینجرز آپریشن سے پہلے بوری بند لاشیں ملنا بھی ایک معمول کی خبر بن چکی تھی لیکن اب بوری بند لاشوں کے بجائے ہاتھ پیر بندھی لاشیں کوڑے کرکٹ کے ڈھیروں سے ملنا شروع ہو گئی ہیں۔

کراچی میں گزشتہ روز شروع کیے جانے والے رینجرز کے آپریشن میں کثیر تعداد میں مشتبہ افراد کی گرفتاریاں بھی عمل میں لائی گئی ہیں جن سے تفتیش کے ذریعے ان کے دیگر ساتھیوں تک رسائی کی کوشش کی جائے گی۔ وطن عزیز میں دہشت گردوں کے خلاف آپریشن ضرب عضب کے نتیجے میں بھی اس عفریت سے نجات کی امید پیدا ہوئی ہے مگر پیرس حملے کے بعد تو ایک بار پھر یہ حقیقت ثابت ہو گئی ہے کہ یہ ایک عالمی مسئلہ ہے جو عالمگیر بھی ہے اور اس کے حقیقی معنوں میں سدباب کے لیے اقوام متحدہ کے تحت عالمی سطح پر سنجیدہ کارروائی کی ضرورت ہے مگر چونکہ اس گندے کھیل میں چونکہ بعض بڑی طاقتیں بھی ملوث ہیں اس لیے اقوام متحدہ کا بھی کوئی بس نہیں چل سکے گا۔