بے اختیار بلدیاتی نظام

پاکستان کا حکمران طبقہ اختیار کلی کے بغیر زندہ نہیں رہ سکتا۔


Zaheer Akhter Bedari November 23, 2015
[email protected]

پاکستان کا حکمران طبقہ اختیار کلی کے بغیر زندہ نہیں رہ سکتا۔ اختیار کلی کو اپنے قبضے میں رکھنے کے لیے وہ کیا کیا جتن کرتا رہتا ہے، اس کا اندازہ اس حقیقت سے لگایا جا سکتا ہے کہ اس نے اپنے کسی دور اقتدار میں بلدیاتی انتخابات ہونے نہیں دیے، کیونکہ بلدیاتی نظام میں اختیارات کی تقسیم ناگزیر ہوتی ہے، انتظامی اور مالی اختیارات اوپری سطح یعنی صوبائی حکومتوں کے ہاتھوں سے نکل کر نچلی سطح یعنی منتخب بلدیاتی نمایندوں کے ہاتھوں میں چلے جاتے ہیں اور ان منتخب بلدیاتی نمایندوں کا عمومی تعلق نچلے طبقات سے ہوتا ہے، جسے ہماری حکمران اشرافیہ غلام بنا کر رکھنا چاہتی ہے، ان مقاصد کے لیے اشرافیہ نے 7 ، 8سال تک بلدیاتی انتخابات کی راہ میں طرح طرح کی رکاوٹیں کھڑی کیں، جب عدلیہ میڈیا اور عوام کا دباؤ بڑھتا گیا تو بادل نخواستہ انتخابات کے لیے مجبور تو ہو گئی لیکن اس شاطر مافیا نے چال یہ چلی کہ اختیارات نچلی سطح پر منتقل کرنے کے بجائے اپنے ہاتھوں میں رکھنے کا اہتمام کر لیا۔ بلدیاتی نظام اس وقت تک بیکار محض ہے جب تک کے اسے مالی اور انتظامی اختیارات حاصل نہ ہوں۔

ایم کیو ایم کے رہنما ڈاکٹر فاروق ستار نے ایک انتخابی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے یہ بجا اعتراض کیا ہے کہ حکمران طبقات نے انتظامی اور مالی اختیارات اپنے ہاتھوں میں رکھ کر بلدیاتی نظام کو بے معنی بنا دیا ہے، اب منتخب بلدیاتی نمایندوں کو صوبائی حکومتوں کے دست نگر رہنا پڑے گا کیونکہ اختیارات صوبائی وزیر اعلیٰ اور بلدیہ کے وزیر کے ہاتھوں میں مرکوز رہیں گے۔ یوں بڑی مشکلوں سے منظور کرائی جانے والی اٹھارویں ترمیم کو بے اثر کر کے رکھ دیا گیا ہے۔ ہمیں حیرت ہے کہ ڈاکٹر فاروق ستار کے علاوہ اپوزیشن کے کسی رہنما نے اس سازش کے خلاف آواز نہیں اٹھائی۔ بلدیاتی نظام دراصل جمہوریت کی بنیاد ہے، جمہوریت کی عمارت بلدیاتی نظام کی بنیادوں ہی پر کھڑی کی جاتی ہے اور ہماری عاشق جمہوریت اشرافیہ جمہوریت کی بنیاد ہی کو ڈھے دینے پر تلی ہوئی ہے۔ یہ ایک ناقابل انکار حقیقت ہے کہ انتظامی اور مالی اختیارات کے بغیر بلدیاتی نظام ایک ڈھکوسلے کے علاوہ کچھ نہیں۔

جاگیردارانہ ذہنیت کی حامل ہماری حکمران اشرافیہ کسی قیمت پر عوامی نمایندوں کو اقتدار کا حصہ بننے نہیں دینا چاہتی، بلدیاتی نظام عوام کو اقتدار کا حصہ بنا دیتا ہے اور بلدیاتی نظام اس وقت تک اقتدار کا حصہ نہیں بن سکتا جب تک انتظامی اور مالی اختیارات بلدیہ کے منتخب نمایندوں کے ہاتھوں میں نہ آئیں۔ اگرچہ فوجی حکمرانوں نے اپنے دور میں بلدیاتی انتخابات کرائے لیکن کسی نہ کسی طرح بلدیہ کے منتخب نمایندوں کو بے اختیار بنائے رکھنے کی سبیل کی اور بلدیاتی منتخب نمایندوں کو کمشنروں ڈپٹی کمشنروں کا ماتحت بنا کر رکھ دیا۔ سابق فوجی صدر پرویز مشرف واحد فوجی حکمران تھے جنھوں نے وہ بلدیاتی نظام متعارف کرایا جو مکمل خودمختار تھا۔ بلدیہ کے منتخب نمایندوں کے ہاتھوں میں انتظامی اور مالی اختیارات تھے۔ اسی کا نتیجہ تھا کہ مشرف دور میں بلدیاتی اداروں نے مقامی مسائل کے حل کے ساتھ ساتھ ایسے ترقیاتی کام کیے جس کی پاکستان کی تاریخ میں مثال نہیں مل سکتی۔

اس حوالے سے کراچی کے سابق ناظم اعلیٰ مصطفیٰ کمال نے رات دن کام کر کے کراچی کا نقشہ اس طرح بدل دیا کہ ملک کے اندر اور عالمی سطح پر ان کی بے مثال کارکردگی کو تسلیم کیا گیا۔ یہ سب اس طرح ممکن ہوا کہ مشرف دور میں انتظامی اور مالی اختیارات بلدیہ کے منتخب نمایندوں کے ہاتھوں میں تھے، صوبائی وزرا اور بیوروکریسی ان کے اختیارات میں دخل نہیں دے سکتی تھی۔ہماری حکمران اشرافیہ کی اختیارات کل کی مالک رہنے کی نفسیات کا تعلق ہمارے جاگیردارانہ نظام سے ہے، وڈیرے اور جاگیردار اپنے اختیارات میں کسی کو دخل دینے کی اجازت نہیں دیتے اور اسے اپنی توہین سمجھتے ہیں۔ جو لوگ جاگیردارانہ نفسیات سے واقف ہیں وہ برسوں سے چیخ رہے ہیں کہ اگر پاکستان کو معاشرتی اور معاشی پستیوں سے نکال کر ترقی کی راہ پر ڈالنا ہے تو سب سے پہلے زرعی اصلاحات کے ذریعے جاگیردارانہ نظام کو ختم کرو، لیکن کوئی سیاستدان اس اہم ترین مسئلے پر آواز اٹھانے کے لیے تیار نہیں اس کے برخلاف وہ جاگیرداروں کا سیاسی اتحادی بنا ہوا ہے۔

ہماری حکمراں اشرافیہ بلدیاتی نظام کی اس لیے سخت مخالف ہے کہ اس نظام کی وجہ اسے نچلی سطح کے منتخب نمایندوں کو کنٹرول کرنا مشکل ہو جاتا ہے عوام اس کی غلامی سے آزاد ہو جاتے ہیں کیونکہ ان کے مسائل علاقائی سطح پر ان کے جانے پہچانے نمایندے حل کرنے کے اہل ہو جاتے ہیں، انھیں بیوروکریسی کی دہلیز پر سر جھکانے کی ضرورت نہیں رہتی۔ بلدیاتی نظام کی مخالفت کی دوسری وجہ یہ ہے کہ علاقائی مسائل کے حل کے لیے جو بھاری رقوم بجٹ میں رکھی جاتی ہیں وہ حکمران اشرافیہ کی جیبوں میں چلی جاتی ہیں۔ اگر بلدیاتی نظام آزاد ہو اور اسے انتظامیہ اور مالی اختیارات حاصل ہوں تو ہماری اشرافیہ عوام پر حکومت کرنے کے قابل رہتی ہے نہ اربوں روپوں کے بلدیاتی فنڈ ہڑپ کرنے کا اسے موقع حاصل ہوتا ہے۔ یہی وہ بنیادی وجوہات ہیں جو حکمران اشرافیہ کو مجبور کرتی ہیں کہ وہ ایک بااختیار بلدیاتی نظام کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کرتے رہے۔بلدیاتی انتخابات کا پہلا اور دوسرا مرحلہ کسی نہ کسی طرح مکمل ہو گیا۔

حکمران اشرافیہ نے جس قدر ممکن ہوا اپنے بندے منتخب کرا لیے، اب بلدیاتی انتخابات کا اہم اور تیسرا مرحلہ 5 دسمبر کو پورا ہونے والا ہے، اس کی اہمیت اس لیے زیادہ ہے کہ اس مرحلے میں شہری علاقے شامل ہیں اور شہروں پر اختیار حاصل کرنا بڑا اہم مسئلہ ہے کیونکہ شہری علاقوں میں انتظامی اور مالی اختیارات کی بڑی اہمیت ہوتی ہے، اگر مڈل کلاس کے بلدیاتی نمایندے ایمانداری اور محنت سے عوام کے مسائل حل کرتے ہیں تو قومی انتخابات میں کامیابی کے لیے ان کی راہ ہموار ہو جاتی ہے اور حکمران اشرافیہ کی ہمیشہ یہ کوشش رہی ہے کہ قانون ساز اداروں میں مڈل اور لوئر مڈل کلاس کے نمایندے نہ آنے پائیں۔ انھیں قانون ساز اداروں میں آنے سے روکنے کے لیے انتخابی نظام ایسا بنایا گیا ہے کہ اس میں صرف کروڑ پتی لوگ ہی حصہ لے سکتے ہیں۔ کیا ملک میں جو انتخابی اصلاحات ہو رہی ہیں ان میں ایسا انتظام کیا جا رہا ہے کہ مڈل اور لوئر مڈل کلاس کے غریب لوگ آزادی سے حصہ لے سکیں؟ اس سوال کے جواب پر ہی ہماری جمہوریت کا انحصار ہے اور ہمارا بلدیاتی نظام بھی بامعنی ہو سکتا ہے۔

مقبول خبریں