داعش و القاعدہ میں نئی کشمکش

داعش القاعدہ سے جہاد کی عالمی قیادت چھیننے کی سر توڑ کوشش کررہی ہے


Editorial November 24, 2015
ملکی حکمراں اور سیکیورٹی ادارے بھی داعش کی پاکستان میں عدم موجودگی پر مطمئن نہ ہوں بلکہ ضرورت مشرق وسطیٰ کو تھیٹر آف وار بنانے سے گریز کی ہے فوٹو: فائل

امریکی صدر بارک اوباما نے کہا ہے کہ مسلمان نہیں، چھوٹا سا گروہ دہشتگردی میں ملوث ہے، مٹھی بھر دہشتگرد پوری دنیا کو یرغمال نہیں بنا سکتے، داعش کو مالی وسائل کی فراہمی روکیں گے۔ انھوں نے جنوب مشرقی ایشیائی ملکوں کی تنظیم آسیان کے اجلاس میں شرکت کے بعد نیوز کانفرنس میں کہا کہ داعش کا خاتمہ امریکا کا حقیقی ہدف ہے اور وہ ایسا کرکے چھوڑے گا، عالمی برادری کو داعش کے خلاف متحد ہوکر کارروائی کرنا چاہیے۔

اوباما کے اس بیان کو بعض امریکی اور یورپی انٹیلی جنس حکام کی اس رپورٹ پر بھی توجہ دینے کی ضرورت ہے جس میں ماہرین کا کہنا کہ داعش کا غیرملکی اہداف کو نشانہ بنانا اس کے نئے ارتقائی عمل کا عندیہ ہے، اس کے غیرملکی سیل کی مرکزی نگرانی داعش کے سرکاری ترجمان 38 سالہ شامی جنگجو ابو محمد العدنانی کے سپرد ہے جس کے سر کی قیمت 5 ملین ڈالر رکھی گئی ہے۔

نیویارک ٹائمز کی ایک رپورٹ کے مطابق بیروت، پیرس اور مصر میں روسی مسافربردار طیارے کو مارگرائے جانے کی وارداتوں سے یہی نظر آتا ہے کہ جس داعش کو عراق و شام میں وسیع علاقہ ملا اور داخلی طور پر حملوں اور قتل و غارت کی کھلی چھوٹ بھی تو اسی سے اس نے بیرون ملک مغربی اور یورپی اہداف کو نشانہ بنانے کی منظم منصوبہ بندی کی۔

یہ نکات قابل غور ہیں ، تاہم صدر اوباما کا یہ کہنا کہ بشارالاسد کے اقتدار میں رہنے تک شام میں لڑائی ختم نہیں ہوسکتی، ان کے مخالفین کی مدد کر کے بھی جنگ ختم نہیں ہوسکتی، روس سیاسی تبدیلی کے لیے تیار ہے مگر اسد کو ہٹانے پر آمادہ نہیں ، ایک عجیب منطق ہے، سوال یہ ہے کہ شامی حکومت کے خاتمہ کی کوشش گن بوٹ ڈپلومیسی نہیں تو پھر کیا ہے، لاکھوں مہاجرین کی نقل مکانی اسی مداخلت اور لاقانونیت کا نتیجہ ہے کہ مشرق وسطیٰ آتش فشاں بن چکا ہے۔

در حقیقت یہی استدلال اقوام متحدہ میں پاکستان کی مستقل مندوب ڈاکٹر ملیحہ لودھی نے پیش کرتے اپیل کی ہے شام، عراق، افغانستان اوردیگر ممالک کے مسائل کا سیاسی حل نکالا جائے، غیرملکی مداخلت سے حالات خراب ہوتے ہیں اور تشدد سے بنیادی ڈھانچے کونقصان پہنچتا ہے ، ملکی نظام متاثر ہوتا ہے اور لوگ نقل مکانی پر مجبور ہوجاتے ہیں۔

عالمی میڈیا کو مہاجرین اور پناہ گزینوں کے مسئلہ کا گہرا ادراک ہے تو وہ داعش اور القاعدہ کے کشمکش کو مد نظر رکھے، داعش القاعدہ سے جہاد کی عالمی قیادت چھیننے کی سر توڑ کوشش کررہی ہے، دونوں میں مقابلہ جاری ہے کہ کون مغرب و یورپ پر زیادہ سے زیادہ سویلین حملے کر کے سبقت لے جاتا ہے۔ مالی کے ہوٹل پر حملہ القاعدہ نے کیا، ملکی حکمراں اور سیکیورٹی ادارے بھی داعش کی پاکستان میں عدم موجودگی پر مطمئن نہ ہوں بلکہ ضرورت مشرق وسطیٰ کو تھیٹر آف وار بنانے سے گریز کی ہے ورنہ پوری دنیا اس آگ کی لپیٹ میں آئیگی۔