قیادت کیوں نہیں ملی لمحہ فکریہ

ہمارا عدالتی نظام مستند اورآزمودہ ہے،اس میں کوئی بڑی خامی نظر نہیں آتی جس کی بنیاد پرہم کہہ سکیں یہ نظام ناکام ہوگیاہے


Editorial November 24, 2015
ملکی مامور کی انجام دہی میں عدلیہ مقننہ انتظامیہ اسکالر میڈیا مذہبی وسیاسی جماعتیں اور سول سوسائٹی کو اپنا بھرپور کردار ادا کرنا ہوگا تبھی قوم کی تشکیل ممکن ہوگی۔ فوٹو: فائل

چیف جسٹس آف پاکستان انور ظہیر جمالی نے کہا ہے کہ ملک کو آج تک ایسی قیادت نہیں ملی جو لوگوں کو ایک قوم بنا کر آگے لے جا سکتی۔ اسی وجہ سے مشکلات پیش آرہی ہیں۔ ارباب اختیار کرپشن کے خاتمے کے لیے اقدامات کریں، نظام کی بہتری کے لیے ہمیں خود اپنا احتساب کرنا ہوگا، وہ پیر کو بلوچستان ہائیکورٹ بار کے عشائیے سے خطاب کررہے تھے۔

چیف جسٹس کے اس شکوے میں غالباً ملکی نظام حکومت ریاستی اداروں کی شیرازہ بندی قانون کی حکمرانی معاشرے میں پھیلی ہوئی بدعنوانوں کی ہوشربا داستانیں خود گواہوں کی قطار میں کھڑی ہونے کو بیتاب ہیں، یہ ضمیر کی وہ عدالتی خلش ہے جس کا اظہار چیف جسٹس نے قوم کی تشکیل کے ضمن میں کیا ہے۔

قوم کو صحیح قیادت کا نہ ملنا ایک المیے سے کم نہیں جب کہ تاریخ کا یہ عجیب جبر ہے کہ بانیٔ پاکستان نے جن رہنما اصولوں کا حوالہ دیا اور اپنی تقاریر میں جن دو تباہ کن چیزوں سے اجتناب کی تلقین کی وہ اقربہ پروری اور بدعنوانی کا زہر تھا ، بابائے قوم کی مستقبل بینی دیکھیے کہ ابھی مملکت خداد ایک نوزائیدہ ریاست کے طورپر پیروں پر کھڑے ہونے کی تیاری کر رہی تھی کہ اسے خبردار کیا کہ کرپشن اور چاچے مامے بھتیجے بھانجے کی سفارشوں سے گریز حکومت اور معاشرتی نظام کے ارتقا اور استحکام کی کلید ہے، تاہم ادھر قائد اعظم کا وصال ہوا ادھر سیاسی تاریخ کا جمہوری سفر الٹا شروع ہوگیا، اور پھر کرپشن ریشہ دوانیاں محلاتی سازشیں اور جمہوریت کی دیوی کی روسیاہی قوم کا مقدر بن گئی۔

قوم رہزن و رہبر کے درمیان فرق کی صلاحیت سے ہی محروم نہیں ہوئی بلکہ بار بار ڈسی گئی، اس نے ذوق گل بوسی میں کئی بار کانٹوں پر زبان رکھی۔ سیاست آمریت و جمہوریت کا کھلواڑ بنی رہی جب کہ ریاستی تشکیل کن جمہوری و آئینی بنیادوں پر ہونی چاہیے تھی اس کا فیصلہ آج تک نہیں ہوسکا۔ یہ فکری انتشار اور قومی شناخت کا وہی مسئلہ ہے جس کی طرف چیف جسٹس نے لطیف اشارہ کیا ہے کہ شاید دنیا میں کچھ ہی ممالک ہوں جنھیں اتنے وسائل ملے ہوں، عدلیہ ہو یا سیاسی پلیٹ فارم ملک کے لیے ہم نے سب کچھ کرنا ہے، دوسروں پر تنقید کرنے سے پہلے یہ دیکھنا چاہے کہ اگر ہم اپنے ہاتھ کی انگلی اٹھاتے ہیں تو دو انگلیاں ہماری طرف اٹھتی ہیں، ہمارا عدالتی نظام مستند اور آزمودہ ہے، اس میں کوئی بڑی خامی نظر نہیں آتی جس کی بنیاد پر ہم کہہ سکیں یہ نظام ناکام ہوگیا ہے ۔

عدلیہ کے ذمے داروں نے بلوچستان میں لاپتہ افراد کے معاملہ کو اہم کہا ہے، یہ یقین دلایا کہ عدالت عظمیٰ اور عدالت عالیہ کی سطح پر ان شکایات سے غافل نہیں، کوشش جاری رکھیں گے کہ بلوچستان اور دوسرے صوبوں کے معاملات کا جلد سے جلد حل نکالاجا سکے، چیف جسٹس کا وعدہ ہے کہ مسئلے کے حل میں آپ سپریم کورٹ کو سب سے آگے پائیں گے۔ اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ ملک کو کئی جہتی چیلنجز درپیش ہیں جن میں بلوچستان کی صورتحال سب سے تشویشناک ہے۔

صوبہ کے وزیراعلیٰ ڈاکٹر عبدالمالک کا کہنا ہے کہ بلوچستان کا مسئلہ حل نہیں کیا گیا تو پھر کوئی بغاوت کو روک نہیں سکے گا جب کہ جمہوری وطن پارٹی کے سربراہ نوابزادہ شاہ زین بگٹی نے کہا کہ مالک بلوچ ناکام ہوچکے ہیں وزیراعظم بلوچستان میں کردار ادا کریں۔ بلاشبہ عدلیہ بلوچستان کی بدامنی کے معاملہ پر صورتحال پر چشم کشا فیصلہ دے چکی ہے اور کئی مقدمات کی سماعت جاری ہے۔

چیف جسٹس نے کہا کہ دوسروں پر تنقید ہمارا کلچر بن چکا ہے ، بلوچستان کے لاپتہ افراد سے متعلق مقدمات کو نمٹایا جا رہا ہے، چیف جسٹس نے یہ اہم بات بھی کہی کہ حقوق کی سب بات کرتے ہیں تاہم فرائض کوئی نہیں نبھاتا، یہ قوم اور سیاست دانوں کی دکھتی رگ ہے، انھیں بلبلانا نہیں حقائق کا ادراک اور چیف جسٹس کی نصیحتوں کو گرہ میں باندھ لینا چاہیے۔سپریم کورٹ کے سینئر جج جسٹس نثار ثاقب نے کہاکہ ہم انصاف اپنے گھر سے شروع کرینگے اور ہماری کوشش ہوگی کہ آنے والے بچوں کی قسمت کے فیصلے انصاف کے مطابق ہوں ۔

سیاسی دانشوروں کا قول ہے کہ حقیقی آزادی کا تقاضہ ہے کہ حکمرانی اور انصاف کی فراہمی کا نظام مستحکم ہو اور عدالتی نظام کسی شہری کے حقوق کے یقینی تحفظ مگر دوسرے کے حق کے انکار پر مبنی نہ ہو۔ سب سے انصاف ہو اور وہ نظر بھی آئے۔ پاکستان ان ممالک سے الگ تھلگ نہیں جہاں بیشتر سیاسی مسائل آخر کار عدالتی مسئلہ بن کر زیر سماعت لائے جاتے ہوں۔

چیف جسٹس کے ارشادات میں درد مندی اورکسک ہے اور جس یقین کے ساتھ مسائل کے حل کی انھوں نے بات کی ہے ضرورت اس امر کی ہے کہ ملک میں کرپشن کو قابو کیا جائے، سیاسی رہنما اس طعنہ کو حقیقت بننے نہ دیں کہ کارواں کے دل سے احساس زیاں جاتا رہا۔ ملک کو بحران سے نکالنے اور سیاسی و سماجی استحکام پیدا کرنے کے لیے چیک اینڈ بیلنس ہونا چاہیے۔ ملکی مامور کی انجام دہی میں عدلیہ مقننہ انتظامیہ اسکالر میڈیا مذہبی وسیاسی جماعتیں اور سول سوسائٹی کو اپنا بھرپور کردار ادا کرنا ہوگا۔تبھی قوم کی تشکیل ممکن ہوگی۔