قومی جماعتوں کا زوال

بلدیاتی انتخابات کے دوسرے مرحلے میں بھی وہی نتائج سامنے آئے جو پہلے مرحلے میں آئے تھے


Dr Tauseef Ahmed Khan November 25, 2015
[email protected]

HARIPUR: بلدیاتی انتخابات کے دوسرے مرحلے میں بھی وہی نتائج سامنے آئے جو پہلے مرحلے میں آئے تھے اور 2013 کے انتخابات کا پرتو تھے۔ پیپلز پارٹی اندرونِ سندھ تک محدود ہوگئی، تحریکِ انصاف کی پنجاب میں کارکردگی مایوس کن رہی اور اندرونِ سندھ عمران خان، شاہ محمود قریشی کے مریدوں سے اپنے امیدواروں کے لیے ووٹ حاصل نہیں کرسکے۔

مگر بدین شہر میں ڈاکٹرذوالفقار مرزا گروپ کی کارکردگی پیپلز پارٹی کے لیے لمحہ فکریہ ہے۔ 2008 سے سیاسی تاریخ پر نظر ڈالیں توگزشتہ صدی کے انتخابی نتائج سے مختلف نظر آتے ہیں۔ اگرچہ پیپلز پارٹی ان انتخابات میں ملک کی سب سے بڑی جماعت کی حیثیت سے ابھری تھی مگر وسطی پنجاب میں پیپلزپارٹی کی گرفت کمزور ہوگئی تھی مگر پوٹھوہار اور سرائیکی خطے میں پیپلزپارٹی مضبوط حیثیت کی حامل تھی۔ مسلم لیگ ن وسطی پنجاب اور ہزارہ کے علاقے سے کامیاب ہوئی تھی۔

تحریکِ انصاف نے کوئی قابلِ قدر کامیابی حاصل نہیں کی تھی مگر عوامی نیشنل پارٹی صوبہ خیبر پختون خواہ اورکراچی میں نشستیں حاصل کرسکی تھی۔ جمعیت علمائے اسلام نے خیبر پختون خواہ میں اکثریت کھودی تھی مگر بلوچستان میں مضبوط حیثیت سے ابھری۔ ایم کیو ایم سندھ کے شہری علاقوں کی نمایندگی کا مینڈیٹ پھر حاصل کرنے میں کامیاب رہی۔ 2013 کے انتخابات میں منظرنامہ تبدیل ہوگیا۔ مسلم لیگ ن نے پنجاب سے قطعی اکثریت حاصل کی، کے پی کے اور بلوچستان سے کچھ نشستیں لیں اور پارلیمنٹ سے بڑی جماعت بن گئی۔

تحریکِ انصاف نے کے پی کے میں حکومت بنائی، پنجاب میں پہلی دفعہ نشستیں حاصل کیں، ملتان اور لاہور میں تحریکِ انصاف کو خاطرخواہ کامیابی ہوئی اور کراچی میں قومی اسمبلی کی ایک نشست مل گئی۔ بلوچستان میں میر حاصل بزنجو کی قیادت میں نیشنل پارٹی ابھری مگر پیپلز پارٹی پنجاب میں مکمل طور پر شکست کھا گئی اور اندرونِ سندھ تک محدو دہوگئی۔ اے این پی اور جے یو آئی کو شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ ایم کیو ایم پھر سندھ کے شہری علاقوں سے ابھر کر سامنے آئی۔ پھر ایک قومی جماعت کی ضرورت کا سوال پیدا ہوا۔ پیپلز پارٹی 1970 سے ملک کی سب سے بڑی جماعت کی حیثیت رکھتی تھی۔

1970،1988، 2002 اور 2008 کے انتخابات میں یہ پوزیشن برقرار رہی مگر بے نظیر بھٹوکے قتل اور آصف علی زرداری کے پارٹی کی قیادت سنبھالنے کے بعد پیپلز پارٹی کا زوال شروع ہوا اور بدقسمتی یہ ہے کہ زوال کا سلسلہ ہنوز جاری ہے۔ پیپلزپارٹی کے پنجاب میں زوال کی مختلف وجوہات بیان کی جاتی ہیں۔ سیاسی تحریکوں پر تحقیق کرنے والے محقق اسلم خواجہ کا کہنا ہے کہ جنرل ضیاء الحق کی معاشی اور سیاسی پالیسیوں اور مذہبی انتہاپسندی کو تقویت دینے اور مشرقی پنجاب سے آنے والے دائیں بازو کے نظریات کے حامل گروہوں کو سیاسی ومعاشی بالادستی کی بناء پر لبرل اور روشن خیال جماعت کے لیے جگہ ختم ہوگئی۔

اسی بناء پر پیپلز پارٹی عوامی مقبولیت سے محروم ہوگئی۔ مگر پنجاب کے سماج پر تحقیق کرنے والے دیگر ماہرین سیاسی جدوجہد کو پارٹی کی ترجیحات سے حذف کرنے کو پیپلز پارٹی کے زوال کی وجہ قرار دیتے ہیں۔ان محققین کا کہنا ہے کہ پیپلز پارٹی پنجاب کے مظلوموں کی جماعت تھی،اس کا ارتقاء مزدور تنظیموں،کسانوں، دانشوروں، ادیبوں ، طلبا تحریک، خواتین اور اقلیتی فرقوں کے حقوق کی جدوجہد سے ہوا تھا۔ پیپلز پارٹی کے بانی ذوالفقار علی بھٹو نے 60 کی دھائی کے ساتویں حصے میں شہروں اور دیہی علاقوں کی ان تنظیموں کے ذریعے پیپلز پارٹی کی تنظیم سازی شروع کی تھی۔

اور پیپلز پارٹی نے نچلی سطح تک جڑیں پکڑی تھیں۔ یہ نچلی سطح کے کارکن اور رہنما تھے جنہوں نے پہلے ایوب خان اور پھر یحییٰ خان کی فوجی حکومتوں کے خلاف جدوجہد کی اور جنرل ضیاء الحق کی آمریت کے خلاف تاریخ ساز قربانیاں دیں اور فوجی حکمرانوں کی سخت پالیسیوں کے باوجود پیپلز پارٹی اور عوام کے درمیان خلاء پیدا نہیں ہوا۔ پیپلز پارٹی کے رہنما شہر شہر، گاؤں گاؤں عوام سے براہِ راست رابطے میں رہے۔ اگر 1970 سے 1988 تک کے اخبارات کا جائزہ لیا جائے تو پیپلز پارٹی کی پولیس کے جبراور بیوروکریسی کی پالیسیوں کے خلاف جدوجہدکی بے شمار خبریں نظر آتی ہیں۔

اس زمانے میں کچی آبادیوں کے مسائل، مزدوروں کے حالاتِ کارکو بہتر بنانے،کسانوں کی جبری بے دخلی کے واقعات کے خلاف بھوک ہڑتالوں اور فوجی عدالتوں سے اس جرم میں سزاؤں کی خبریں ملتی ہیں مگر پیپلز پارٹی نے ان روایات کو پسِ پشت ڈال دیا۔ پنجاب کے شہروں اور گاؤں سے ہر ہفتے پولیس کے مظالم، غریبوں کی ہلاکتوں اور خواتین کی زیادتیوں کے خلاف احتجاج کی خبریں آتی تھیں مگر پیپلز پارٹی کی قیادت نے ان معاملات کو اہمیت نہیں دی۔

پنجاب میں اسپتالوں میں بنیادی اشیاء کی کمی، تعلیمی اداروں کی پسماندگی، نجی تعلیمی اداروں کی لوٹ کھسوٹ، بجلی اورگیس کی مہینوں لوڈ شیڈنگ، حکومتی رہنماؤں کے دعوے، وعدے اور پھر سے وعدے عام سی بات بن گئے ہیں مگر پیپلز پارٹی ان معاملات پر رائے عامہ کو ہموار کرنے پر یقین نہیں رکھتی۔ اسی طرح دوسرے صوبوں کی طرح پنجاب میں بھی اقلیتیں امتیازی سلوک کا شکار ہیں ۔ اب ان واقعات پر مسلم لیگ ن حتیٰ کہ جماعتِ اسلامی تک توجہ دینے لگی ہے۔ یہ اقلیتیں پیپلزپارٹی کی قدیم اتحادی ہیں مگر پیپلز پارٹی کی ناقص پالیسی کی وجہ سے یہ دیگر جماعتوں کی طرف دیکھنے پر مجبور ہیں۔

پیپلز پارٹی کے دور میں بدعنوانی اور بری طرزِ حکومت لازم و ملزم ہوگئے ہیں۔ پیپلز پارٹی کی قیادت نے بدعنوانی اور بری طرزِ حکومت کے نقصانات کو محسوس نہیں کیا۔ سابق وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی ترکی کے صدرکی طرف سے امداد کے طور پر ملنے والے ہارکو اپنے گھر لے جاتے ہیں۔ قاسم ضیاء پری بارگیننگ اسکیم کے تحت رقم ادا کرکے رہا ہوتے ہیں تو پیپلز پارٹی کی قیادت اسے سیاسی انتقام قرار دیتی ہے۔ یوں وہ رائے عامہ کو اپنے خلاف کرلیتی ہے۔

سندھ حکومت کی نااہلی اوربدانتظامی کی بناء پرصوبے کی زبوں حالی کی عکاسی ٹی وی چینلزکے ذریعے عوام کو پیپلز پارٹی سے دورکرتی ہے، یوں پیپلز پارٹی سمٹتی جارہی ہے۔

اسی طرح مسلم لیگ ن گزشتہ 7 برسوں میں سندھ میں کوئی قابلِ ذکرکارکردگی کا مظاہرہ نہیں کرسکی۔ سندھ میں مسلم لیگ کی قیادت آپس کے جھگڑوں اور سازشی کلچر کا شکار ہے ۔مسلم لیگ کے پاس کوئی ایسی شخصیت نہیں جو عوام کو متوجہ کرسکے۔ وزیراعظم نواز شریف نے جنرل پرویز مشرف کے وزیر اعلیٰ ارباب غلام رحیم کو اپنے ساتھ ملایا مگر ارباب رحیم اپنے ماضی کی بناء پر متنازعہ شخصیت ہیں۔ اسی طرح تحریکِ انصاف سطحی لحاظ سے سندھ میں بہت کمزور ہے۔

2013 میں کراچی کے متوسط اور امراء کے طبقات میں عمران خان کے لیے کشش پیدا ہوئی تھی ، مگر تحریکِ انصاف کی قیادت اپنی پالیسیوں کی بناء پر اپنی مقبولیت کو برقرار نہیں رکھ سکی۔ کراچی میں 5 دسمبر کو ہونے والے بلدیاتی انتخابات میں تحریکِ انصاف اور جماعتِ اسلامی مل کر انتخاب لڑرہے ہیں مگر اس اتحاد کی واضح کامیابی کے امکانات نہیں ہیں اور توقع یہ ہے کہ کراچی کے انتخابات میں ایم کیو ایم سب سے بڑی جماعت بن کر ابھرے گی۔

ماہرین کہتے ہیں کہ اب جماعت ِ اسلامی بھی تنظیمی طور پر کمزور ہوگئی ہے جس کے نتیجے میں اس کے رہنماؤں کے قریبی عزیزوں نے لاہور میں مسلم لیگ ن کی ٹکٹ پر انتخابات میں حصہ لیا اور کراچی میں وہ نہ ضمنی انتخابات میں کوئی کارکردگی دکھاپائی اور نہ اب کوئی مؤثر انتخابی مہم چلا پارہی ہے۔ پیپلز پارٹی اپنے روایتی اضلاع میں کامیاب ہوگی۔ یوں 2008 میں جمہوریت کی مکمل بحالی کے بعد جاری سیاسی عمل میں قومی پارٹیوں کا زوال ملک کی وحدت اور سیاسی نظام کے استحکام کے لیے ایک سوال بن گیا ہے۔