بلدیاتی انتخابات کا التوا خطرناک اقدام

اس صورتحال کی بناء پر شہروں اور گاؤں میں بنیادی انفرا اسٹرکچر کی ترقی نہیں ہو سکی۔


Dr Tauseef Ahmed Khan November 28, 2015
[email protected]

ATLANTA: بلدیہ ٹاؤن میں نماز جمعہ کے وقت مسجد کی حفاظت پر مامور رینجرز کے چار اہلکار نامعلوم افراد کی فائرنگ سے جاں بحق ہو گئے۔ رینجرز نے کراچی میں آپریشن تیز کر دیا۔ رینجرز ترجمان نے بلدیاتی انتخابات کی انتخابی مہم میں اشتعال انگیز تقاریر، رینجرز کے خلاف پمفلٹ کی تقسیم اور بل بورڈ پر نفرت انگیز نعروں پر تشویش کا اظہار کیا۔ کراچی سے شایع ہونے والے انگریزی اخبار کے امریکا میں مقیم چیف ایڈیٹر نے اپنی تحریر میں لکھا کہ موجودہ صورتحال میں بلدیاتی انتخابات سے کراچی میں جاری آپریشن کے مقاصد کو نقصان پہنچے گا۔ یوں 5 دسمبر کو ہونے والے انتخابات کے بارے میں شکوک پیدا ہو گئے ۔ پاکستان کے سیاسی نظام میں منتخب بلدیاتی اداروں کی اہمیت نہیں رہی۔ فوجی حکومتوں نے منتخب بلدیاتی اداروں کو پارلیمنٹ اور صوبائی اسمبلی کے متبادل کے طور پر استعمال کیا، جب کہ جمہوری حکومتوں نے منتخب بلدیاتی اداروں کو اپنے مینڈیٹ میں تجاوز جانا۔

اس صورتحال کی بناء پر شہروں اور گاؤں میں بنیادی انفرا اسٹرکچر کی ترقی نہیں ہو سکی۔ امریکا میں نائن الیون کی دہشت گردی کے بعد جب افغانستان میدانِ جنگ بنا تو پھر یہ جنگ کراچی میں بھی منتقل ہو گئی۔ اس جنگ نے ہزاروں افراد کی جانیں لیں۔ عبادت گاہوں اور مذہبی و سیاسی جلوسوں کو براہِ راست نشانہ بنایا گیا۔ اس کے ساتھ ہی کراچی میں سیاسی، مذہبی، لسانی اور نامعلوم وجوہات کی بناء پر ٹارگٹ کلنگ ہوئی۔ اس ٹارگٹ کلنگ کا نشانہ اساتذہ، ڈاکٹرز، وکلا، خواتین، صحافی، فوجی اور پولیس افسران، علمائے دین اور عام شہری بنے۔ لیاری میں کئی سال سے جاری گینگ وار نے اس کے سیاسی، ثقافتی ورثے اور امن پرستانہ شناخت کو شدید نقصان پہنچایا۔ کراچی پولیس اس دہشت گردی سے براہِ راست متاثر ہوئی، ایس پی کے عہدے سے لے کر سپاہی تک کے اہلکار جاں بحق ہوئے۔ پولیس کا انٹیلی جنس نیٹ ورک ٹوٹ پھوٹ گیا۔ کراچی میں آپریشن کرنے والی ایجنسیوں کے اعلیٰ افسران گزشتہ کئی برسوں سے یہ الزام لگاتے ہیں کہ کراچی میں ہونے والی ٹارگٹ کلنگ میں کالعدم مذہبی تنظیموں کے افراد کے علاوہ سیاسی و لسانی تنظیموں کے کارکن بھی ملوث ہیں۔

گزشتہ سال دسمبر میں آرمی پبلک اسکول پشاور میں خودکش حملے میں معصوم طالب علموں کی شہادت کے بعد پورے ملک میں رینجرز، پولیس، سول و عسکری خفیہ نیٹ ورک کا مشترکہ آپریشن شروع ہوا۔ اس آپریشن کی نگرانی کے لیے ایپکس کمیٹیاں قائم ہوئیں۔ ان کمیٹیوں میں بنیادی فیصلے ہونے لگے۔ ایپکس کمیٹی کے اجلاسوں کے بعد پولیس اور رینجرز کے افسران نے یہ بریفنگ دی کہ کراچی کی نمایندگی کرنے والی سب سے بڑی سیاسی جماعت کے کارکن ان وارداتوں میں ملوث ہیں۔ رینجرز نے ایم کیو ایم کے ہیڈ کوارٹر پر چھاپہ مارا اور کئی ٹارگٹ کلرز کی گرفتاری کا دعویٰ کیا، یوں شہر میں امن ہوا۔ ٹارگٹ کلنگ کا سلسلہ خاصی حد تک تھم گیا، مگر کچھ عرصے بعد دوبارہ اساتذہ اور وکلاء کو نشانہ بنایا جانے لگا۔ اچانک ایک گروہ نے ٹریفک اہلکاروں کو نشانہ بنانا شروع کر دیا۔ رینجرز اور فوجی جوان بھی ان کارروائیوں کی زد میں آئے۔ رینجرز اور پولیس کی گاڑیوں پر حملے ہوئے مگر اسٹریٹ کرائم کے علاوہ شہر میں امن و امان کی صورتحال بہتر ہوئی۔ کراچی پولیس کے ایک ایس پی نے ایم کیو ایم پر بھارت سے مدد لینے کا الزام عائد کیا۔

ایم کیو ایم نے ایک پالیسی بیان میں وضاحت دی کہ 1992ء میں کراچی میں ہونے والے فوجی آپریشن کی بناء پر ہزاروں کارکن ملک چھوڑ کر چلے گئے جن میں سے کچھ بھارت میں پناہ حاصل کر سکے، اگر ان میں سے کچھ نے بھارت میں خفیہ عسکری تربیت حاصل کی ہے، تو اس کا پارٹی کی مرکزی قیادت سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ ایم کیو ایم نے یہ بیان دے کر ایک تلخ حقیقت کو تسلیم کیا تھا، مگر وزیر اعظم نواز شریف کے دورئہ امریکا کے موقعے پر بھارت کی پاکستان میں مداخلت کے بارے میں وزارت خارجہ نے جو ڈوزیئر امریکی حکومت کے حوالے کیا اس میں بھارت کی مداخلت کے بارے میں شہادتوں پر مبنی ثبوت شامل نہیں تھے۔ ڈوزیئر، دستاویز و بیانہ Narrative، اور تصور Perception پر مبنی تھا۔ اس دوران سپریم کورٹ نے صوبائی حکومتوں کو بلدیاتی انتخابات کے انعقاد کی ہدایت کی مگر حکومتِ سندھ کسی صورت بلدیاتی انتخابات کے لیے تیار نہیں تھی۔ اس بناء پر کبھی ووٹر لسٹ اور کبھی حلقہ بندیوں کی آڑ میں انتخابات ملتوی کرائے گئے۔ سپریم کورٹ کی ڈیڈلائن کو پورا کرنے کے لیے نیا بلدیاتی قانون نافذ ہوا۔ اس قانون میں اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی کے فلسفے کو مسخ کیا گیا۔

آخری مرحلے میں انتخابات کے انعقاد کا فیصلہ ہوا، یوں انتخابی مہم شروع ہوئی۔ ایم کیو ایم، پیپلز پارٹی، مسلم لیگ ن، تحریکِ انصاف اور جماعتِ اسلامی علیحدہ علیحدہ انتخابات میں حصہ لے رہے ہیں۔ کراچی کے اضلاع ایسٹ، ویسٹ، ساوتھ اور کورنگی کے علاقوں میں ایم کیو ایم اب بھی بڑی سیاسی قوت کے طور پر ابھری ہے۔ پیپلز پارٹی کی ضلع جنوبی، ملیر اور ڈسٹرکٹ کونسل میں مضبوط پوزیشن ہے۔ تحریکِ انصاف اور جماعت اسلامی ضلع غربی اور جنوبی اور کراچی کے مشرقی کے اضلاع میں کچھ پاکٹس میں اچھی پوزیشن رکھتی ہیں۔ مسلم لیگ ن کو بھی ضلع جنوبی، غربی اور مشرقی میں کچھ نشستیں حاصل کرنے کی امید ہے۔ الیکشن کمیشن کی ہدایت پر انتظامیہ نے ہورڈنگز پر لگے ہوئے سیاسی اشتہارات اتار دیے ہیں مگر ایم کیو ایم کے رہنما اپنی کارنر میٹنگوں اور چھوٹے جلسوں میں اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ بلدیاتی اداروںکو مکمل اختیارات نہیں ملے تو پھر کراچی صوبے کا مطالبہ کیا جائے گا۔ کراچی صوبے کے مطالبے کا مطلب سندھ میں بڑے پیمانے پر آبادی کی ہجرت اور ایک نئے تضاد کو جنم دینے کے امکانات ہیں۔ ایم کیو ایم کے جلسوں میں عوام کی اکثریت شرکت کر رہی ہے۔

اب عمران خان کے بارے میں خبر ہے کہ وہ عوامی انتخابی مہم کے لیے کراچی میں بہتر بڑا جلسہ کریں گے۔ اسی طرح جماعتِ اسلامی کے رہنما سراج الحق کی آمد اور بڑے جلسے کے انعقاد کی بھی خاصی امید ہے۔ بلاول بھٹو زرداری کے بارے میں بھی کہا جا رہا ہے کہ اگلے چند دنوں میں وہ بھی اپنا رنگ جمائیں گے۔ کراچی میں بلدیاتی انتخابات کی رپورٹنگ کرنے والے بعض صحافیوں کا کہنا ہے کہ ایم کیو ایم نے لانڈھی میں ریکارڈ توڑ جلسہ کیا ہے۔ مگر رینجرز نے ایم کیو ایم کے دفاتر پر چھاپے مارے ہیں اور بہت سارے کارکنوں کو گرفتار کیا گیا ہے۔ ایم کیو ایم اس صورتحال کو انتخابی عمل میں مداخلت قرار دے رہی ہے۔ اس کشیدگی کی بناء پر یہ خوف پیدا ہو رہا ہے کہ کراچی میں بلدیاتی انتخابات ملتوی کر دیے جائیں گے۔ پھر یہ عجیب مضائقہ خیز صورتحال ہو گی کہ ملک کے سب سے بڑے صنعتی شہر کے عوام کو منتخب بلدیاتی اداروں سے محروم رکھا جائے۔ اس طرح شہر اچھی طرزِ حکومت کے بحران کا شکار رہے گا۔

رینجرز اور پولیس نے شہر میں امن و امان کو برقرار رکھنے کے لیے جو کامیاب آپریشن کیا ہے اس کے بارے میں منفی سوالات ابھریں گے۔ انتخابات ملتوی ہونے کی صورت میں کراچی کے عوام میں احساسِ محرومی گہرا ہو گا، جس کا فائدہ منفی قوتیں اٹھائیں گی۔ اس لیے کسی بھی صورت انتخابات کا التواء نہ تو عوام کے حق میں ہے اور نہ جمہوری نظام کے۔ عوام میں احساسِ محرومی کے علاوہ اس التواء کی وجہ سے عوام اور قانون نافذ کرنے والی ایجنسیوں کے درمیان فاصلے طویل ہونگے اور اس خلاء کا فائدہ غیر جمہوری عناصر کو ہو گا اور اس آپریشن کی ساکھ متاثر ہو گی۔ کراچی کے مسئلے کا حقیقی حل نچلی سطح تک کا بلدیاتی نظام ہے جو شہر میں جدید انفرا اسٹرکچر کی تعمیر، ٹرانسپورٹ کی جدید سہولتوں اور پانی و بجلی جیسی بنیادی ضرورتوں کی فراہمی کے لیے اقدامات کرے۔