مفت ویکسین اور ٹیکوں کی فروخت کا انکشاف

معیاری اور سستا علاج عوام کا حق ہے نیز صحت کے شعبے میں ضابطہ اخلاق پر عملدرآمد کرانا حکومت وقت کی ذمے داری ہے


Editorial/editorial November 29, 2015
صحت ذرائع کے مطابق قومی حفاظتی ٹیکہ جات پروگرام کی جانب سے ایک مسودہ تیار کیا گیا ہے، فوٹو : فائل

بچوں کے قومی حفاظتی ٹیکہ جات پروگرام کے تحت مفت ملنے والی ویکسین کو بیشتر نجی اسپتالوں میں مہنگے داموں فروخت کرنے کا انکشاف ہوا ہے، جس کے باعث انسداد پولیو مہم اور حفاظتی ٹیکہ جات پروگرام کے تحت ٹیکے لگوانے کا ملک گیر کام متاثر ہو رہا ہے۔

واضح رہے کہ قومی حفاظتی ٹیکہ جات پروگرام کے تحت کراچی سمیت دیگر صوبوں کے بیشتر اسپتالوں، کلینکوں، میٹرنٹی ہومز کو پولیو سمیت دیگر بیماریوں سے بچاؤ کے ٹیکے اور حفاظتی ویکسین بلامعاوضہ فراہم کی جارہی ہیں لیکن بعض نجی اسپتالوں اور کلینکوں میں مفت ویکسین کی مد میں بھی شہریوں سے رقوم وصول کی جارہی ہیں، جب کہ اصولی طور پر سرکاری حفاظتی ویکسین اور حفاظتی ٹیکے لگانے کی مد میں پرائیویٹ اسپتال، کلینک اور ڈاکٹرز زیادہ سے زیادہ صرف 100روپے لے سکتے ہیں۔

صحت ذرائع کے مطابق قومی حفاظتی ٹیکہ جات پروگرام کی جانب سے ایک مسودہ تیار کیا گیا ہے جس میں تمام ٹاؤن ہیلتھ افسران سے کہا گیا ہے کہ وہ اپنے اپنے ٹاؤنز میں تمام نجی اسپتالوں، کلینکوں، میٹرنٹی ہومز اور بچوں کے ڈاکٹروں کو اس بات کا پابند کریں کہ کہ سرکاری طور پر مفت فراہم کی جانے والی حفاظتی ویکسین اور حفاظتی ٹیکوں کی مد میں شہریوں سے رقم نہ لیں۔ مفت ملنے والی ادویہ کی فروخت نہ صرف غیر اخلاقی بلکہ غیر قانونی ہے، متعلقہ اداروں کو ایسے نجی اسپتالوں کے خلاف کارروائی کرنے چاہیے۔

علاوہ ازیں چیف جسٹس انور ظہیر جمالی نے نمونیہ اور اسہال سے بچوں کی اموات اور ملک میں ہیپاٹائٹس سی وبائی شکل میں پھیلنے کا ازخود نوٹس لیتے ہوئے چاروں صوبوں کے وزرائے صحت سے تفصیلات طلب کرلی ہیں۔ ازخود نوٹس جس درخواست پر لیا گیا اس میں ایکسپریس کے کالم نگاروں کے کالموں کا حوالہ دیا گیا تھا، جس کے مطابق متعلقہ اعلیٰ افسران کی غفلت اور لاپرواہی کی وجہ سے 2014 میں ایک لاکھ 44 ہزار بچے نمونیہ اور اسہال سے موت کا شکار ہوئے جب کہ سینی ٹیشن کا نظام نہ ہونے کے باعث ہیپاٹائٹس کے تیزی سے پھیلاؤ اور مرض کی ویکسین انتہائی مہنگی ہونے کی جانب توجہ دلائی گئی تھی۔

معیاری اور سستا علاج عوام کا حق ہے نیز صحت کے شعبے میں ضابطہ اخلاق پر عملدرآمد کرانا حکومت وقت کی ذمے داری ہے، جس جانب توجہ مرکوز کرنے کی اشد ضرورت ہے۔