5دسمبر ایک امتحان
عدلیہ کے غیر معمولی دباؤ،میڈیا کے پریشر کی وجہ سے ہمارا حکمران طبقہ بلدیاتی انتخابات کرانے پر مجبور تو ہوگیا ہے
عدلیہ کے غیر معمولی دباؤ،میڈیا کے پریشر کی وجہ سے ہمارا حکمران طبقہ بلدیاتی انتخابات کرانے پر مجبور تو ہوگیا ہے لیکن ملک میں ایسے عناصر موجود ہیں، جو بلدیاتی نظام کو ناکام بنانے کی مسلسل کوشش کرتے رہے ہیں۔ ان میں وہ سیاسی جماعتیں بھی شامل ہیں، جنھیں یہ اندازہ ہے کہ انھیں عوام کی حمایت حاصل نہیں ہوگی۔ ایسی سیاسی جماعتیں انتخابات کو متنازعہ بنانے کی کوشش کرسکتی ہیں۔ 5 دسمبر اس حوالے سے بہت اہم دن ہے کہ کراچی میں بلدیاتی انتخابات ہو رہے ہیں اور انتخابات میں شامل ہونے والی تمام جماعتیں انتخابی مہم میں مصروف ہیں۔
جمہوری کلچر کا تقاضا یہ ہوتا ہے کہ انتخابات میں حصہ لینے والی سیاسی جماعتیں اور آزاد نمایندے عوام کے سامنے اپنا انتخابی منشور پیش کرتی ہیں اور عوام پارٹیوں کے منشور کو سامنے رکھ کر اپنے نمایندوں کا انتخاب کرتے ہیں لیکن بدقسمتی سے ہمارا جمہوری نظام ایک دوسرے پر الزام تراشی سے شروع ہوتا ہے اور الزام تراشیوں پر ختم ہوتا ہے اس غیر جمہوری بلکہ بے ہودہ کلچر کی وجہ سے عوام منشوروں کے حوالے سے اپنے ووٹ کا استعمال کرنے کے بجائے گروہ بندیوں کا شکار ہوکر رہ جاتے ہیں۔کراچی کی آبادی اب ڈیڑھ کروڑ سے زیادہ ہوگئی ہے جس میں نہ صرف چاروں صوبوں کے عوام شامل ہیں بلکہ دوسرے ملکوں کے وہ لاکھوں لوگ بھی شامل ہیں جو جائزوناجائزطریقوں سے ووٹ کا حق حاصل کرچکے ہیں ، جن میں ایسے عناصر بھی موجود ہیں، جو معاوضہ لے کر غیر جمہوری قوتوں کے ہاتھوں میں کھیلتے ہیں۔
ستم ظریفی یہ ہے کہ کراچی کی سیاست میں زبان اور قومیت کا عنصر گھرکرچکا ہے اور ان حوالوں سے عوام کی حمایت حاصل کرنا کراچی کی روایت بن گیا ہے۔ اس حوالے سے سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ لسانی اور قوم پرستی کی سیاست میں مڈل کلاس ملوث ہے خواہ اس کا تعلق کسی بھی زبان بولنے والے سے ہو جب لسانی حوالوں سے عوام کی حمایت حاصل کرنے کی کوشش کی جاتی ہے تو عوام میں اشتعال پھیلنا ایک فطری بات ہوجاتی ہے جس کا نقصان غریب طبقات ہی کو ہوتا ہے۔
کراچی میں ایک طویل عرصے سے سماج دشمن عناصر کے خلاف آپریشن جاری ہے اب تک ہزاروں لوگوں کو گرفتارکیا جاچکا ہے، اس حوالے سے رینجرز کو خصوصی اختیارات دیے گئے ہیں جن میں کسی بھی ملزم کو رینجرز 90 دن تک تفتیش کے لیے اپنی تحویل میں رکھ سکتی ہے۔ کراچی کے مخصوص حالات میں رینجرز کو دیے جانے والے یہ اختیارات غیر معمولی نہیں ہیں لیکن ضرورت اس بات کی ہے کہ ان کا استعمال بہت احتیاط کے ساتھ اور غیر جانبدارانہ انداز میں کیا جائے لیکن المیہ یہ ہے کہ اس آپریشن پر جانبداری کے الزامات عائد کیے جا رہے ہیں خاص طور پر متحدہ کی طرف سے یہ کہا جا رہا ہے کہ اس کے سیکڑوں کارکنوں کو بلاجوازگرفتارکیا جا رہا ہے۔ اس حوالے سے متحدہ نے26 نومبر کو لیاقت آباد سے ایک احتجاجی ریلی بھی نکالی جسے نمائش پر روک دیا گیا اور ریلی کے شرکا جن میں بہت بڑی تعداد میں خواتین شامل تھیں پولیس اور رینجرز کے سامنے آگئے جس سے تصادم کا خطرہ پیدا ہوگیا لیکن طرفین نے صبر و برداشت کا مظاہرہ کیا جس کی وجہ سے حالات قابو میں رہے۔
انتخابات کے پہلے مرحلے میں جو فسادات ہوئے، اس سے خیرپور میں درجن سے زیادہ افراد کا جانی نقصان ہوا جو نہ صرف قابل افسوس ہے بلکہ قابل مذمت ہے۔ بدقسمتی یہ ہے کہ سیاسی کارکن خواہ کسی پارٹی سے تعلق رکھتے ہوں ان کا غریب طبقات ہی سے ہوتا ہے۔ سیاسی کارکنوں کو یہ احساس ہونا چاہیے کہ کسی تصادم میں ایلیٹ کلاس کا کوئی فرد نقصان نہیں اٹھاتا، نزلہ ہر صورت میں غریب لوگوں پر ہی گرتا ہے ان حقائق عوام کو احساس ہونا چاہیے۔ بلدیاتی انتخابات کا براہ راست فائدہ عوام کو ہوتا ہے، ہماری جمہوریت میں بلدیاتی نظام ہی ایک ایسا نظام ہے۔
جس کے ذریعے علاقائی سطح پر انتظامی اور مالی اختیارات علاقے کے منتخب نمایندوں کے ہاتھوں میں آتے ہیں اور ہماری حکمران اشرافیہ نہیں چاہتی کہ اختیارات عوام کے ہاتھوں میں جائیں جسے روکنے کے لیے وہ کئی طریقے استعمال کرتی ہیں جن میں انتخابی تصادم بھی شامل ہے۔کراچی کے انتخابی معرکے میں تحریک انصاف نے جماعت اسلامی سے اتحاد کرلیا ہے، جماعت اسلامی متحدہ کی پرانی حریف ہے تحریک انصاف کے رہنماؤں کا خیال ہے کہ وہ منظم جماعت اسلامی کے اتحاد کے ساتھ کراچی میں بڑی کامیابی حاصل کرے گی۔
سیاسی اتحاد بنانا اور کامیابیوں کی امیدیں باندھنا ہر سیاسی جماعت کا حق ہے لیکن عوام کی نفسیات کو نظرانداز کرکے کامیابی کے اندازے لگانا ایک غیر منطقی اپروچ ہی ہوسکتی ہے۔ متحدہ پر بے شمار الزامات ہیں لیکن اس کے باوجود متحدہ نہ صرف بلدیاتی انتخابات میں بلکہ قومی اور صوبائی انتخابات میں بھی 1988 سے مسلسل کامیابی حاصل کر رہی ہے،کیا کسی سیاسی رہنما کسی سیاسی جماعت نے الزامات کی سیاست سے بلند ہوکر سنجیدگی سے متحدہ کی سندھ کے شہری علاقوں میں کامیابی کے نفسیاتی پہلوؤں پر غورکرنے کی کوشش کی ہے؟
سندھ میں متحدہ کئی بار حکومت کی اتحادی رہی، لیکن یہ اتحاد ہمیشہ پانی کا بلبلہ ثابت ہوتا رہا اس صورت حال کا سنجیدگی سے جائزہ لینے کے بجائے الزامات اور جوابی الزامات کی سیاست کی گئی متحدہ کو ہمیشہ یہ شکایت رہی کہ اسے کابینہ میں غیر اہم وزارتیں دی جاتی رہیں وہ بھی بے اختیاری کے ساتھ۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ متحدہ کی ان شکایات پر کبھی سنجیدگی سے غور کرنے کی کوشش کی گئی؟ ہمارے جمہوری سیاستدانوں کو سب سے بڑی شکایت یہ ہے کہ سیاسی جماعتوں نے اپنے مسلح ونگ بنا رکھے ہیں۔
یہ شکایت غلط بھی نہیں ہے لیکن شکل یہ ہے کہ مسلح ونگز کا خاتمہ بلا امتیاز نہیں ہو پاتا جس کی وجہ سے یہ شکایت کی جاتی ہے کہ آپریشن میں جانبداری برتی جا رہی ہے۔ اس شکایت کا انتہائی ایمانداری اور غیر جانبداری سے جائزہ لے کر جائز شکایات کا ازالہ کیا جانا چاہیے۔ 5 دسمبر سر پر ہے سیاسی اور مذہبی جماعت کی یہ ذمے داری ہے کہ وہ 5 دسمبر کے انتخابات کو ایماندارانہ دھاندلیوں سے پاک اور پرامن بنانے کی بھرپور کوشش کریں تاکہ عوام کے علاقائی مسائل حل ہونے کی راہ نکل آئے ورنہ اس کا تمام تر فائدہ اشرافیہ ہی کو ہوگا۔